ہفتہ 31 جنوری 2026 - 10:24
قرآن کریم میں مہدویت (دوسرا حصہ)

حوزہ/ دشمنوں پر غلبہ اور زمین پر حکومت کے حصول کے لیے محض «مستضعف» یعنی کمزور ہونا، کافی نہیں؛ بلکہ ایمان کی موجودگی اور صلاحیتوں کا حصول بھی ضروری ہے۔ دنیا کے مستضعفین جب تک ان دونوں اصولوں کو زندہ نہ کریں، زمین پر حاکمیت حاصل نہیں کر سکتے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت امام مہدی عجل‌ اللہ‌ تعالیٰ‌ فرجہ‌ الشریف اور ان کے عالمی انقلاب سے مربوط بعض قرآنی آیات درجِ ذیل ہیں:

پہلی آیت:

﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ

(سورۂ انبیاء (۲۱)، آیت ۱۰۵)

ترجمہ:

اور ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (صالحین) ہوں گے۔

اس آیتِ کریمہ میں صالحین کے ایک نہایت روشن دنیوی انعام، یعنی زمین پر حکومت، کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ متعدد روایات میں اس عظیم واقعے کو حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف کے ظہور کے دور سے مربوط قرار دیا گیا ہے۔

آیت کے الفاظ کی وضاحت

«زبور» سے مراد حضرت داود علیہ‌السلام کی وہ کتاب ہے جسے عہدِ قدیم کی کتب میں مزامیر داود کہا جاتا ہے، اور جو مناجاتوں، دعاؤں اور نصیحتوں کا مجموعہ ہے۔

«ذکر» لغوی طور پر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو یاددہانی کا سبب بنے؛ تاہم اس آیت میں _ زبور سے پہلے اس کے ذکر ہونے کی قرینے کی بنا پر _ اس سے مراد حضرت موسیٰ علیہ‌السلام کی آسمانی کتاب (تورات) لی گئی ہے۔

«ارض» سے مراد پوری کرۂ ارض ہے، الا یہ کہ کوئی خاص قرینہ اس کے خلاف موجود ہو۔

«ارث» اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بغیر خرید و فروخت کے کسی کو منتقل ہو۔ قرآنِ کریم میں بعض مقامات پر یہ لفظ ایک صالح قوم کے ناصالح قوم پر غلبے اور اس کے وسائل و نعمتوں پر تسلط کے معنی میں بھی آیا ہے۔

(ملاحظہ ہو: سورۂ اعراف (۷)، آیت ۱۳۷)

آیت میں «عباد» کا خدا کی طرف مضاف ہونا ان کے ایمان اور توحید کو واضح کرتا ہے، اور «صالحون» کا لفظ تمام ضروری شایستگیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ جیسے: صالح عمل اور تقویٰ، علم و آگہی، قوت و اقتدار، تدبیر و نظم، اور سماجی شعور۔

جب باایمان بندے یہ تمام شایستگیاں اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد فرماتا ہے، یہاں تک کہ وہ مستکبرین پر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں۔

پس واضح ہوا کہ صرف «استضعاف» دشمنوں پر فتح اور زمین پر حکومت کا سبب نہیں بنتا؛ بلکہ ایمان اور صلاحیتوں کا حصول بھی لازمی ہے، اور دنیا کے مستضعفین جب تک ان دونوں اصولوں کو زندہ نہ کریں، زمین کی حاکمیت تک نہیں پہنچ سکتے۔

نکات:

۱۔ آلِ محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم

اس آیت کی تفسیر میں امام محمد باقر علیہ‌السلام سے روایت نقل ہوئی ہے:

«هُمْ آلُ مُحَمَّدٍ يَبْعَثُ اللَّهُ مَهْدِيَّهُمْ بَعْدَ جَهْدِهِمْ فَيُعِزُّهُمْ وَ يُذِلُّ عَدُوَّهُمْ»

(کتاب الغیبة، شیخ طوسی، ص ۱۸۴)

ترجمہ:

یہ صالح بندے آلِ محمد ہیں؛ اللہ تعالیٰ ان کی جدوجہد کے بعد ان کے مہدی کو مبعوث کرے گا، پس انہیں عزّت عطا فرمائے گا اور ان کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔

واضح رہے کہ اس روایت کا مفہوم حصر نہیں بلکہ ایک نمایاں اور اعلیٰ مصداق کی نشاندہی ہے، اور اس قسم کی تفاسیر آیت کے عمومی مفہوم کو محدود نہیں کرتیں۔ لہٰذا ہر زمانے اور ہر مقام پر جب بھی خدا کے صالح بندے قیام کریں گے، کامیاب ہوں گے اور بالآخر زمین اور اس کی حکومت کے وارث بنیں گے۔

۲۔ مزامیرِ داود علیہ‌السلام میں صالحین کی حکومت کی بشارت

مزامیرِ داود میں اس مفہوم یا اس سے ملتے جلتے مضامین متعدد مقامات پر موجود ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ موجودہ تحریفات کے باوجود یہ حصہ محفوظ رہا ہے: «شریر افراد منقطع ہو جائیں گے، لیکن خدا پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہوں گے؛ اور تھوڑی ہی دیر میں شریر باقی نہ رہے گا، اگرچہ تم اس کی جگہ تلاش کرو، وہ ناپیدا ہوگا۔»

(مزامیر داود، ۳۷، بند ۹)

«لیکن متواضع لوگ زمین کے وارث ہوں گے اور کثرتِ سلامتی سے شادمان ہوں گے۔»

(مزامیر داود، ۳۷، بند ۱۱)

«خداوند کے مبارک بندے زمین کے وارث ہوں گے، اور اس کے ملعون کاٹ دیے جائیں گے۔»

(مزامیر داود، ۳۷، بند ۲۷)

«صدیق لوگ زمین کے وارث ہوں گے اور ہمیشہ اس میں سکونت کریں گے۔»

(مزامیر داود، ۳۷، بند ۲۹)

«خداوند صالحوں کے دنوں کو جانتا ہے، اور ان کی میراث ہمیشہ کے لیے ہوگی۔»

(مزامیر داود، ۳۷، بند ۱۸)

ان تمام عبارات میں «صالحین» کا وہی عنوان ملتا ہے جو قرآنِ کریم میں آیا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ صدیقین، متوکلین، متبرکین اور متواضعین جیسے اوصاف بھی بیان ہوئے ہیں۔ یہ تمام تعبیرات حکومتِ صالحین کی عمومیت پر دلالت کرتی ہیں اور حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف کے قیام سے متعلق روایات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں۔

۳۔ حکومتِ صالحین؛ قدرت کا ایک قانون

یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ناصالح اور جابرانہ حکومتیں نظامِ آفرینش اور قوانینِ خلقت کے برخلاف ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں باایمان صالحین کی حکومت عین فطرت اور نظامِ کائنات کے مطابق ہے۔ آفرینش کا نظام بذاتِ خود مستقبل میں ایک صحیح اور عادلانہ سماجی نظام کے قیام کی روشن دلیل ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو مذکورہ آیت اور عالمی مصلح کے قیام سے متعلق احادیث سے اخذ ہوتی ہے۔

(تفسیر نمونہ، جلد ۱۳، صفحات ۵۱۵ تا ۵۲۴)

جاری ہے…

ماخوذ از: کتاب «درسنامۂ مہدویت»، تألیف: خدامراد سلیمیان (قدرے ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha