حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور ان کے عالمی انقلاب سے مربوط بعض قرآنی آیات درج ذیل ہیں:
تیسری آیت:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾
(سورۂ نور (۲۴)، آیت ۵۵)
ترجمہ:
اللہ نے تم میں سے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیے، وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا کرے گا، جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو خلافت دی تھی، اور اُن کے لیے اُس دین کو — جسے اس نے اُن کے لیے پسند فرمایا ہے — مضبوطی کے ساتھ قائم کرے گا، اور اُن کے خوف کے بعد انہیں کامل امن عطا کرے گا؛ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور اس کے بعد جو کفر اختیار کرے، وہی لوگ فاسق ہیں۔
اس آیت سے پہلے والی آیات میں خدا اور رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہوسلم کی اطاعت و تسلیم کی بات کی گئی ہے، اور یہاں اس اطاعت کے نتیجے — یعنی عالمی حکومت — کو بیان کیا گیا ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمن اور صالح مسلمانوں کو تین عظیم بشارتیں دی ہیں:
1. زمین پر خلافت اور حکومت؛
2. دینِ حق کی عالمی سربلندی؛
3. خوف و ناامنی کا مکمل خاتمہ۔
اس کے نتیجے میں ایک ایسا دور آئے گا جس میں لوگ کامل آزادی کے ساتھ خدا کی عبادت کریں گے، اس کے احکام کی پیروی کریں گے، اس کے لیے کسی شریک یا شبیہ کے قائل نہیں ہوں گے، اور خالص توحید پوری دنیا میں رائج ہو جائے گی۔
نکات
۱۔ پہلے کن لوگوں کو خلافت عطا کی گئی؟
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے پہلے بھی کچھ افراد زمین میں خلافت رکھتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد حضرت آدم، حضرت داوود اور حضرت سلیمان علیہمالسلام ہیں؛ کیونکہ قرآن حضرت آدم علیہالسلام کے بارے میں فرماتا ہے:
﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾
(سورۂ بقرہ (۲)، آیت ۳۰)
اور حضرت داوود علیہالسلام کے بارے میں ارشاد ہے:
﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ﴾
(سورۂ ص (۳۸)، آیت ۲۶)
نیز سورۂ نمل کی آیت ۱۶ کے مطابق حضرت سلیمان علیہالسلام، حضرت داوود علیہالسلام کے وارثِ حکومت بنے۔
تاہم بعض مفسرین — جیسے علامہ طباطبائی رحمہاللہ — اس رائے کو بعید قرار دیتے ہیں؛ کیونکہ ان کے نزدیک تعبیر «الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ» انبیاء کے لیے قرآن میں استعمال نہیں ہوئی، بلکہ اس سے مراد وہ سابقہ امتیں ہیں جو ایمان اور عملِ صالح کی بنا پر زمین میں حکومت کی حامل رہیں۔
بعض دیگر مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جنہیں حضرت موسیٰ علیہالسلام کے ظہور اور فرعون کی طاقت کے ٹوٹنے کے بعد زمین میں اقتدار ملا، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:
﴿وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾
(سورۂ اعراف (۷)، آیت ۱۳۷)
اور ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
﴿وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ﴾
۲۔ یہ وعدہ کن لوگوں کے لیے ہے؟
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین پر حکومت، دین کی سربلندی اور کامل امن کا وعدہ مؤمن اور صالح افراد سے فرمایا ہے، مگر یہ کہ یہ افراد کون ہیں، اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کی عالمی حکومت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں مشرق و مغرب سب ان کی حکومت کے زیرِ سایہ آ جائیں گے، دینِ حق ہر جگہ غالب ہوگا، خوف و جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور خالص عبادتِ الٰہی پوری دنیا میں قائم ہوگی۔
(تفسیر المیزان، ج ۱۵، ص ۲۱۸)
بلا شبہ یہ آیت ابتدائی مسلمانوں کو بھی شامل ہے اور حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کی حکومت پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ شیعہ و اہلِ سنت کے اتفاق کے مطابق، قائم آلِ محمد عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، اور آپ اس آیت کا کامل مصداق ہیں، اگرچہ آیت کا مفہوم اسی پر منحصر نہیں۔
شانِ نزول بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ کم از کم اس وعدے کا ایک نمونہ رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہوسلم کے عہدِ مبارک کے آخری دور میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ تمام انبیاء کی کوششوں کا کامل ثمر، توحید کی مکمل حاکمیت، ہمہ گیر امن اور خالص عبادت کا ظہور، حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے زمانے میں مکمل طور پر محقق ہوگا۔
(تفسیر نمونہ، ج ۱۴، ص ۵۳۰–۵۳۲)
یہ تفسیری آرا آیت کے مصداق کو محدود نہیں کرتیں، بلکہ کامل ترین مصداق کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ابو بصیر امام جعفر صادق علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپؑ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا:
«نَزَلَتْ فِي الْمَهْدِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
(شیخ طوسی، کتاب الغیبة، ص ۱۷۷)
یعنی یہ آیت قائم آلِ محمد عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
علامہ طباطبائی رحمہاللہ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ایسا پاکیزہ اور مثالی معاشرہ، جس میں یہ تمام صفات جمع ہوں، اب تک دنیا میں قائم نہیں ہوا، اور اگر اس کا کوئی کامل مصداق ہوگا تو وہ حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کا دور ہوگا؛ کیونکہ رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہوسلم اور اہلِ بیت علیہمالسلام سے متواتر روایات اس حقیقت کی خبر دیتی ہیں۔
(ترجمہ المیزان، ج ۱۵، ص ۲۲۰)
مجمعالبیان میں بھی اس آیت کے ذیل میں آیا ہے کہ اہلِ بیت علیہمالسلام سے روایت ہے کہ اس وعدے کا مصداق، مهدی آلِ محمد صلیاللهعلیهوآلهوسلم ہیں۔ اسی طرح امام زین العابدین علیہالسلام، امام محمد باقر علیہالسلام اور امام جعفر صادق علیہالسلام سے بھی اس مضمون کی روایات نقل ہوئی ہیں۔
(مجمعالبیان، ج ۷، ص ۵۲)
جاری ہے…
ماخوذ از: «درسنامۂ مہدویت» تألیف: خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ