جمعہ 30 جنوری 2026 - 19:49
قرآن کریم میں مہدویت (پہلا حصہ)

حوزہ/ قرآنِ مجید میں حضرت امام مہدی عجل‌ اللہ‌ تعالیٰ‌ فرجہ‌ الشریف کے ظہور اور قیام کا تذکرہ عمومی انداز میں کیا گیا ہے، اور ایک عالَمی عادلانہ حکومت کے قیام اور صالحین کی حتمی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ شیعہ مفسرین اور اہلِ سنّت کے بعض نامور مفسرین نے اہلِ بیت علیہم‌السلام سے مروی روایات اور علما کے اقوال کی روشنی میں ان آیات کو حضرت مہدی عجل‌ اللہ‌ تعالیٰ‌ فرجہ‌ الشریف سے مربوط قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | اسلام میں مہدویت کا تصور خالص قرآنی بنیاد پر استوار ہے۔ یہ آسمانی کتاب پورے یقین اور قطعیت کے ساتھ تمام انسانیت کو اس بات کی نوید دیتی ہے کہ انجامِ کار حق کی فتح اور باطل کی شکست ہے۔

قرآنِ کریم حضرت امام مہدی عجل‌اللہ‌ تعالیٰ‌ فرجہ‌ الشریف کے ظہور اور ان کے عالمی قیام کو اجمالی انداز میں بیان کرتا ہے اور ایک ایسی عالمی حکومت کی بشارت دیتا ہے جو عدل و انصاف پر قائم ہوگی اور جس میں صالحین کو غلبہ حاصل ہوگا۔ شیعہ مفسرین اور اہلِ سنّت کے بعض مفسرین نے _ اہلِ بیت علیہم‌السلام سے مروی روایات اور علما کی آرا کی بنیاد پر _ ان آیات کو حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف سے مربوط قرار دیا ہے۔

اس موقع پر ہم ان تمام قرآنی آیات کے بجائے _ جو مہدویت کے موضوع سے مربوط ہیں _ صرف چند ایسی آیات کا انتخاب کریں گے جو اس بحث میں زیادہ صراحت رکھتی ہیں، اور انہیں موردِ بررسی قرار دیں گے

بحث میں داخل ہونے سے قبل ضروری ہے کہ چند اہم اصطلاحات کے مفہوم سے اجمالی طور پر واقفیت حاصل کی جائے:

۱۔ تفسیر

لفظ تفسیر، مادہ «فَسَرَ» سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز کو روشن اور واضح کرنا۔ اصطلاح میں تفسیر سے مراد یہ ہے کہ مشکل اور مبہم لفظ سے ابہام کو دور کیا جائے، نیز کلام کی دلالت میں موجود پیچیدگی کو واضح کیا جائے۔

تفسیر وہاں انجام پاتی ہے جہاں لفظ یا اسلوب میں کسی درجے کا ابہام موجود ہو، جو معنی اور مفہوم کے فہم میں رکاوٹ بنے، اور اسے دور کرنے کے لیے علمی محنت اور گہری کاوش درکار ہو۔

چونکہ قرآنِ مجید کی بعض آیات کا فہم عام لوگوں کے لیے دشوار ہوتا ہے، اس لیے ان کی وضاحت اور پردہ برداری ناگزیر ہے، اور یہ ذمہ داری انہی افراد کے سپرد ہے جو اس صلاحیت کے حامل ہوں اور خداوندِ متعال کی جانب سے اس منصب کے لیے موردِ اعتماد قرار پائے ہوں۔

۲۔ تأویل

تأویل، مادہ «اَول» سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: اصل کی طرف لوٹانا۔ کسی شے کی تأویل کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے حقیقی سرچشمے اور بنیادی مرجع کی طرف واپس لے جایا جائے۔ متشابہ لفظ کی تأویل یہ ہے کہ اس کے ظاہر کو اس طرح توجیہ کیا جائے کہ وہ اپنے حقیقی اور اصلی مفہوم کی طرف بازگشت کرے۔

یہ لفظ قرآنِ مجید میں تین معانی میں استعمال ہوا ہے:

متشابہ قول یا عمل کے ظاہر کی ایسی درست توجیہ جو عقل کے مطابق اور نقل کے موافق ہو۔

﴿آلِ عمران: 7﴾

خواب کی تعبیر؛ اس معنی میں تأویل کا لفظ سورۂ یوسف میں آٹھ مرتبہ آیا ہے۔

انجامِ کار اور نتیجہ؛ اس اعتبار سے کسی امر کی تأویل، اس کا آخری نتیجہ اور فرجام ہوتی ہے۔

﴿کہف: ۷۸﴾

چوتھا معنی _ جو قرآن میں صراحتاً نہیں آیا، لیکن قدیم علما کے کلام میں موجود ہے _ یہ ہے کہ کسی خاص موقع پر نازل ہونے والی آیت سے ایک عام اور ہمہ گیر مفہوم اخذ کیا جائے۔ اس معنی میں تأویل کو کبھی «بطن» بھی کہا جاتا ہے، یعنی وہ ثانوی اور مخفی مفہوم جو آیت کے ظاہر سے براہِ راست حاصل نہیں ہوتا؛ اس کے مقابل «ظَہر» ہے، یعنی وہ ابتدائی مفہوم جو آیت کا ظاہر عرف اور استعمال کے مطابق سمجھاتا ہے۔

یہ مفہوم وسعت رکھتا ہے اور قرآن کی ہمہ زمانی حیثیت کا ضامن ہے؛ کیونکہ اگر خاص مواقع سے عام مفاہیم اخذ نہ کیے جائیں تو قرآن کی بہت سی آیات محض تلاوت کے ثواب تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔

بلاشبہ قرآنِ مجید میں متشابہ آیات موجود ہیں جن کی تأویل کی ضرورت ہے، مگر ان کی حقیقی تأویل اللہ تعالیٰ اور علم میں راسخ افراد کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

﴿آلِ عمران: ۷﴾

تأویل کے لیے مخصوص شرائط اور معیار ہیں، جن کی تفصیل متعلقہ علمی کتابوں میں بیان کی گئی ہے۔

۳۔ تطبیق

قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں مضامین عام الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں، جو ہر دور میں مختلف افراد اور مصادیق پر منطبق ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات آیت کا لفظ خاص ہوتا ہے، مگر اس کا مفہوم عام ہوتا ہے اور ان تمام افراد کو شامل ہو جاتا ہے جن سے اسی نوعیت کا عمل صادر ہو۔

ان توضیحات کی روشنی میں، آئندہ سطور میں حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف اور ان کے عالمی انقلاب سے مربوط بعض قرآنی آیات کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بحث جاری ہے…

ماخوذ از: کتاب «درسنامۂ مہدویت»، تألیف: خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha