حوزہ نیوز ایجنسی | عقیدۂ مہدویت اور حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے ظہور کا نظریہ—بعض افراد کے گمان کے برخلاف—صرف شیعہ مکتبِ فکر تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ ایک ایسا بنیادی اسلامی عقیدہ ہے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارتوں کی بنیاد پر تمام اسلامی فرقوں اور مذاہب میں رائج رہا ہے۔
اسلامی عقائد کے دائرے میں شاید ہی کوئی اور موضوع ہو جسے اس قدر اہمیت حاصل ہوئی ہو۔
حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف سے متعلق احادیث اہلِ سنّت کی متعدد معروف کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ ان کتابوں میں حضرت مہدی علیہ السلام کے اوصاف، حالاتِ زندگی، علاماتِ ظہور، مقامِ ظہور و بیعت، اصحاب کی تعداد اور دیگر متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
مسلمانوں کے درمیان تاریخ کے طول و عرض میں یہ بات مشہور و معروف رہی ہے کہ آخرالزمان میں اہلِ بیت علیہم السلام میں سے ایک مرد قیام کرے گا، عدل کو نافذ کرے گا، مسلمان اس کی پیروی کریں گے اور وہ اسلامی ممالک پر حاکم ہوگا۔ اس کا نام مہدی ہوگا۔
(عبدالرحمن ابن خلدون، مقدمة العبر، ص ۲۴۵)
اگرچہ ایک بعض گروہ نے کمزور دلائل کے سہارے اصلِ مہدویت کا انکار کرتے ہوئے اسے محض شیعی فکر قرار دینے کی کوشش کی ہے، لیکن اہلِ سنّت کے حدیثی مصادر پر ایک سرسری نگاہ ہی اس انکار کو باطل ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
اہلِ سنّت کے متون میں مهدویت سے متعلق آثار کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ عمومی حدیثی کتابیں
ان کتابوں میں دیگر اسلامی موضوعات کی طرح مہدویت کا ذکر بھی موقع و مناسبت کے ساتھ آیا ہے۔ ان میں حضرت مہدی علیہ السلام کا اہلِ بیت علیہم السلام سے ہونا، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ علیہاالسلام کی نسل سے ہونا، آپ کی اخلاقی و نسبی خصوصیات، طرزِ زندگی، ظہور اور حکومت کے حالات جیسے امور بیان ہوئے ہیں۔
ان میں نمایاں کتابیں درج ذیل ہیں:
المصنّف — عبدالرزاق
یہ کتاب ابوبکر عبدالرزاق بن ہمام صنعانی (م ۲۱۱ھ) کی تصنیف ہے۔ مؤلف نے اس میں «باب المهدی» کے عنوان سے مستقل باب قائم کیا ہے اور اس میں دس سے زائد احادیث نقل کی ہیں۔ اس کے بعد «اشراط الساعة» کے عنوان سے دیگر مباحث ذکر کیے گئے ہیں۔ یہ اہلِ سنّت کی پہلی کتاب ہے جس میں حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف سے متعلق احادیث کو منظم انداز میں جمع کیا گیا ہے۔
کتاب الفتن
حافظ ابو عبداللہ نعیم بن حماد المروزی (م ۲۲۹ھ) نے اس کتاب میں حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف، ان کے اوصاف اور عصرِ ظہور کے حالات سے متعلق بکثرت روایات نقل کی ہیں۔ مجموعی طور پر دس ابواب میں فتنۂ آخرالزمان پر گفتگو کی گئی ہے، جن میں سے پانچواں باب اور اس کے بعد کے ابواب زیادہ تر مہدوی روایات پر مشتمل ہیں۔
المصنّف فی الاحادیث والآثار
حافظ عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ کوفی (م ۲۳۵ھ) نے اس کتاب کے ۳۷ویں فصل میں «الفتن» کے عنوان سے حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف سے متعلق احادیث نقل کی ہیں۔ ان روایات میں آپ کے نسب، اخلاق، مدتِ حکومت، قبل از ظہور حالات اور علاماتِ ظہور جیسے موضوعات بیان ہوئے ہیں۔
مسند احمد
احمد بن حنبل الشیبانی (م ۲۴۱ھ) اہلِ سنّت کے چار معروف ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تصنیف مسند احمد میں حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف سے متعلق سب سے زیادہ احادیث نقل ہوئی ہیں، جو بعد میں مستقل مجموعے کی صورت میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔
سنن ابن ماجہ
محمد بن یزید قزوینی (م ۲۷۵ھ) کی یہ کتاب صحاحِ ستہ میں شامل ہے۔ انہوں نے کتاب الفتن میں «باب خروج المهدی» کے عنوان سے حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف سے متعلق احادیث جمع کی ہیں۔
سنن ابوداؤد
سلیمان بن اشعث سجستانی (م ۲۷۵ھ) کی یہ کتاب بھی صحاحِ ستہ میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں «کتاب المهدی» کے عنوان سے مستقل باب قائم کیا گیا ہے، جو اہلِ سنّت کے نزدیک مہدویت کا ایک اہم ماخذ ہے۔
الجامع الصحیح (سنن ترمذی)
محمد بن عیسیٰ ترمذی (م ۲۷۹ھ) کی اس کتاب میں اگرچہ مهدوی احادیث کی تعداد کم ہے، لیکن اسناد کے اعتبار سے یہ روایات نہایت معتبر اور معلوماتی ہیں۔
المستدرک علی الصحیحین
حاکم نیشاپوری (م ۴۰۵ھ) نے کتاب الفتن و الملاحم میں حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف سے متعلق متعدد احادیث ذکر کی ہیں، جن میں نسب، جسمانی خصوصیات، حالاتِ قبل از ظہور اور اصلِ ظہور جیسے موضوعات شامل ہیں۔
کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال
علاءالدین علی متقی ہندی (م ۹۷۵ھ) کی یہ جامع حدیثی تصنیف اہلِ سنّت کے معروف مجموعات میں سے ہے۔ مؤلف نے «خروج المهدی» کے عنوان سے مستقل باب قائم کر کے مختلف مصادر سے درجنوں احادیث نقل کی ہیں۔
۲۔ حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف پر مستقل تصانیف
اہلِ سنّت کے علماء نے بھی—بالکل شیعہ علماء کی طرح—صرف عمومی کتابوں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے بارے میں مستقل کتابیں تصنیف کیں، جن میں چند اہم درج ذیل ہیں:
اربعون حدیث
ابونعیم اصفہانی (م ۴۲۰ھ) کی تصنیف، جس میں حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے بارے میں چالیس احادیث جمع کی گئی تھیں۔ یہ کتاب براہِ راست دستیاب نہیں، تاہم اربلی نے کشف الغمہ میں اسے نقل کیا ہے۔
البیان فی اخبار صاحب الزمان علیہ السلام
ابوعبداللہ محمد گنجی شافعی (م ۶۵۸ھ) نے اس کتاب میں صرف اہلِ سنّت کے طریق سے مروی احادیث جمع کیں اور مہدویت کو ایک خالص اسلامی عقیدہ ثابت کیا۔ انہوں نے 70 احادیث کو 25 منظم ابواب میں ترتیب دیا اور حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کی ولادت اور طولِ عمر کو بھی تسلیم کیا۔
عِقد الدرر فی اخبار المنتظر
یوسف بن یحییٰ مقدسی شافعی (م ,658ھ) کی یہ کتاب جامعیت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ مؤلف نے فتنۂ آخرالزمان اور اصلاحِ عالم کو ظہورِ مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف سے وابستہ قرار دیا اور انکارِ مهدویت کے نظریات کو مفصل ردّ کیا۔
العرف الوردی فی اخبار المهدی علیہ السلام
جلالالدین سیوطی (م ۹۱۱ھ) کی تصنیف، جس میں انہوں نے سابقہ روایات کے ساتھ مزید احادیث کا اضافہ کیا اور مہدویت سے متعلق احادیث کو یکجا کیا۔
البرهان فی علامات مہدی آخرالزمان
علاءالدین علی بن حسامالدین متقی ہندی (م 975ھ) کی یہ مفصل کتاب 270 سے زائد احادیث پر مشتمل ہے اور اہلِ سنّت کے یہاں مہدویت پر ایک اہم مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
جاری ہے…
ماخوذ از: «درسنامۂ مهدویت»، تصنیف: خدامراد سلیمیان (مختصر تصرف کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ