جمعہ 30 جنوری 2026 - 19:10
منتظرین امام زمانہ (عج) کی خاص ذمہ داریاں اور فرائض

حوزہ/ آج کے دور میں ایسے افراد کم نہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر امامِ عصر (عج) پر ایمان اور ان کے تذکرے کو برداشت نہیں کرتے اور اس راہ میں رکاوٹ کے لئے ہر طرح کی کوشش کرتے ہیں؛ چونکہ دینی تعلیمات میں مشکلات اور مصیبتوں پر صبر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے اس دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ان آزمائشوں اور سختیوں کے مقابل صبر و تحمل اختیار کرنا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | خصوصی فرائض وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی نہ کسی صورت حضرت مہدی عجل‌ اللہ‌ تعالیٰ‌ فرجہ‌ الشریف کی غیبت سے مربوط ہیں۔ ان میں سے چند اہم فرائض درج ذیل ہیں:

۱۔ حضرت امام مہدی عجل‌ اللہ‌ تعالیٰ‌ فرجہ‌ الشریف کے دوستوں سے دوستی اور دشمنوں سے دشمنی

پیغمبرِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم سے مروی بے شمار روایات میں اہلِ بیت علیہم‌السلام سے محبت اور ان کے دشمنوں سے براءت پر تاکید کی گئی ہے، اور یہ حکم تمام زمانوں کے لیے ہے؛ تاہم بعض روایات میں بالخصوص حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف کے دوستوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی کی خصوصی سفارش کی گئی ہے۔

امام محمد باقر علیہ‌ السلام، رسولِ خدا صلی‌الله‌علیه‌وآله‌وسلم سے روایت کرتے ہیں: «طُوبی لِمَنْ اَدْرَکَ قائِمَ اَهْلِ بَیتی وَهُوَ یأتَمُّ بِهِ فی غَیْبَتِهِ قَبْلَ قِیامِهِ وَیَتَوَلّی اَوْلِیاءَهُ وَیُعادِی اَعْداءَهُ، ذلِکَ مِنْ رُفَقایی وَ ذَوِی مَوَدَّتی وَاَکْرَمُ اُمَّتی عَلَی یَوْمَ القِیامَةِ.»

(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۲۸۶)

ترجمہ:

قابل مبارکباد ہے وہ شخص جو میرے قائم اہلِ بیت کو درک کرے، یا ان کی غیبت میں اور قیام سے پہلے ان کی پیروی کرے، ان کے دوستوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھے؛ ایسا شخص قیامت کے دن میرے رفیقوں، میرے دوستوں اور میری امت کے سب سے معزز افراد میں شمار ہوگا۔

۲۔ دورۂ غیبت کی سختیوں پر صبر

آج بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مختلف اسباب کی بنا پر امامِ غائب پر ایمان اور ان کے ذکر کو برداشت نہیں کرتے اور اس سلسلے میں ہر طرح کی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ چونکہ دینی تعلیمات میں مصیبتوں اور مشکلات پر صبر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اس لیے اس دور میں پہلے سے کہیں زیادہ صبر و استقامت کی ضرورت ہے۔

عبداللہ بن سنان، امام جعفر صادق علیہ‌السلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: «سَیَأْتِی قَوْمٌ مِنْ بَعْدِکُمْ الرَّجُلُ الْوَاحِدُ مِنْهُمْ لَهُ أَجْرُ خَمْسِینَ مِنْکُمْ…»

(شیخ طوسی، کتاب الغیبة، ص ۴۵۶)

ترجمہ:

تمہارے بعد ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان میں سے ہر فرد کو تم میں سے پچاس افراد کے برابر اجر ملے گا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے بدر، اُحد اور حنین میں آپ کے ساتھ جنگ کی اور ہمارے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ فرمایا: اگر تم وہ بوجھ اٹھاتے جو وہ اٹھائیں گے تو ان جیسا صبر نہ کر پاتے۔

اسی طرح امام حسین بن علی علیهماالسلام فرماتے ہیں: «اِنَّ الصَّابِرَ فِی غَیبَتِهِ عَلَی الاَذی وَالتَّکْذِیبِ بِمَنزِلَةِ المُجاهِدِ بِالسَّیْفِ بَیْنَ یَدَی رَسُولِ اللَّهِ صلی‌الله‌علیه‌وآله‌وسلم.»

(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۳۱۷)

ترجمہ:

غیبت کے زمانے میں اذیت اور تکذیب پر صبر کرنے والا، اس مجاہد کی مانند ہے جو رسولِ خدا صلی‌الله‌علیه‌وآله‌وسلم کے ہم رکاب تلوار کے ساتھ جہاد کرے۔

۳۔ حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف کے فرج کے لیے دعا

اسلامی ثقافت میں دعا اور مناجات کو بلند مقام حاصل ہے۔ انسانی مشکلات کا حقیقی حل، شیعہ عقائد کے مطابق، اسی وقت ممکن ہے جب آخری ذخیرۂ الٰہی پردۂ غیبت سے ظاہر ہو کر دنیا کو نورِ عدل سے منور فرمائیں؛ اسی لیے روایات میں فرج کے لیے دعا کی تاکید کی گئی ہے۔

خود حضرت ولی عصر عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف نے توقیعِ شریف میں فرمایا: «وَاَکثِرُوا الدُّعاء بِتَعجیلِ الفَرَجِ.»

(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۲، ص ۴۸۳)

ترجمہ:

فرج و ظہور کی تعجیل کے لیے کثرت سے دعا کیا کرو۔

مرحوم آیت‌اللہ علی پہلوانی تہرانىؒ اس بارے میں لکھتے ہیں:

دعا سے مقصود محض الفاظ کا ادا کرنا نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا ہے کہ دورۂ غیبت میں دین پر قائم رہنا صرف اہلِ یقین اور استقامت کا کام ہے۔

(ظہور نور، ص ۱۰۳)

۴۔ دائمی آمادگی

دورۂ غیبت کا ایک بنیادی فریضہ ہر لمحہ آمادہ رہنا ہے۔ اس بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔

امام محمد باقر علیہ‌السلام آیت «اصْبِرُوا وَ صَابِرُوا وَ رَابِطُوا» کے ذیل میں فرماتے ہیں: «اصْبِرُوا عَلَی أَدَاءِ الْفَرَائِضِ وَ صَابِرُوا عَدُوَّکُمْ وَ رَابِطُوا إِمَامَکُمْ الْمُنْتَظَر.»

(نعمانی، الغیبة، ص ۱۹۹)

ترجمہ:

واجبات کی ادائیگی پر صبر کرو، دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہو اور اپنے منتظَر امام کے لیے ہمیشہ آمادہ رہو۔

۵۔ حضرت کے نام اور یاد کا احترام و ترویج

دورۂ غیبت میں حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف کے نام اور یاد کو زندہ رکھنا بھی منتظرین کی اہم ذمہ داری ہے، خواہ یہ دعائیہ مجالس ہوں، ثقافتی سرگرمیاں، فکری نشستیں یا تحقیقی کاوشیں۔

۶۔ ولایت سے قلبی وابستگی کا تحفظ

امامِ عصر عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف سے قلبی تعلق اور عہدِ ولایت کی تجدید بھی منتظر شیعہ کی بنیادی ذمہ داری ہے

امام محمد باقر علیہ‌السلام فرماتے ہیں: «یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَغِیبُ عَنْهُمْ إِمَامُهُمْ…»

(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۳۳۰)

ترجمہ:

لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب ان کا امام ان سے غائب ہوگا؛ خوشا حال وہ لوگ جو اس زمانے میں ہمارے امر پر ثابت قدم رہیں… اگر وہ نہ ہوتے تو میں لوگوں پر اپنا عذاب نازل کر دیتا۔

جاری ہے…

ماخوذ از: کتاب «درسنامۂ مہدویت»، تألیف: خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha