حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے مدرسہ علمیہ امام صادق (ع) کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین سید محمد عابدین زادہ نے کہا: منجی آخر الزمان پر ایمان اور قیامت سے پہلے انسانی حالات کی اصلاح کا عقیدہ تمام الہامی ادیان میں مشترک ہے۔
انہوں نے کہا: انسانیت اور اسلام کے دشمن اس حقیقت کو تحریف کرنے کے درپے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ مہدویت، انتظار اور غیبت کے مفاہیم کو درست انداز میں عوام بالخصوص نوجوان نسل کے لیے واضح کیا جائے۔
مدیر مدرسہ علمیہ سفیران ہدایت امام صادق (ع) تہران نے کہا: نئی نسل جتنا زیادہ ان مفاہیم کے درست اور دقیق معانی سے آشنا ہوگی اتنی ہی زیادہ دلچسپی کے ساتھ انہیں قبول کرے گی اور یہی امر نوجوانوں اور جوانوں کے امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے تعلق کو مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا: امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے ارتباط اور قربت کے راستوں کو عام لوگوں کے لیے بیان کیا جانا چاہیے۔حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے بارے میں خصوصاً غیبت کے دور میں ہمیں بے شمار سفارشات پہنچی ہیں جن کا مقصد ظہور کے انتظار کے کردار اور اثرات پر توجہ دینا اور ظہور کے دور کے مثالی معاشرے کی پیروی اور اسوہ اختیار کرنا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین عابدین زادہ نے کہا: اگر مہدوی مباحث میں سطحی نگاہ کے برخلاف گہری نگاہ اپنائی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انتظار میں صرف مستقبل کی زندگی کا تصور مقصود نہیں۔ یہ کہ کوئی شخص محض نظریات پسند ہو یا حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی عالمی حکومت کے اصولوں کو دیکھتے ہوئے اس طرز زندگی کے مہیا ہونے کا منتظر رہے، مقصود نہیں بلکہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق انتظار کا مطلب یہ ہے کہ آج کی زندگی کو ظہور کے دور کی خصوصیات کے مطابق گزارا جائے۔
انہوں نے کہا: ہم آج بھی کسی حد تک ظہور کے دور کی زندگی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں منجی عالم عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دور کی زندگی فردی اور اجتماعی دونوں میدانوں میں مخصوص خصوصیات رکھتی ہے اور ہمیں سفارش کی گئی ہے کہ اسی مثالی ظہوری زندگی کو سامنے رکھ کر اپنی آج کی زندگی کو منظم کریں نہ یہ کہ ہم اس انتظار میں رہیں کہ جب ظہور کا دور منظم ہوگا تب ہماری زندگی بھی خود بخود منظم ہو جائے گی۔









آپ کا تبصرہ