منگل 3 فروری 2026 - 14:42
شبِ 15 شعبان: امامِ زمانہ (ع) کے والدین شریفین کو سلام

حوزہ/شبِ 15 شعبان محض ایک تاریخی رات نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت، ایک فکری تسلسل اور ایک روحانی عہد کا نام ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جس میں تاریخِ انسانی نے عدلِ مطلق کے آخری مظہر، حجّتِ خدا حضرت امام محمد بن حسن المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت کا استقبال کیا۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| شبِ 15 شعبان محض ایک تاریخی رات نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت، ایک فکری تسلسل اور ایک روحانی عہد کا نام ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جس میں تاریخِ انسانی نے عدلِ مطلق کے آخری مظہر، حجّتِ خدا حضرت امام محمد بن حسن المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت کا استقبال کیا۔ مگر اس عظیم ولادت کے افق پر اگر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس نورانی صبح کے پیچھے دو ایسی مقدس ہستیاں کھڑی ہیں جنہوں نے اس الٰہی مشن کو تحفظ عطا کیا۔ یہ ہستیاں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور انکی شریکہ حیات و مقصد حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا ہیں—وہ دو ستون جن پر انتظارِ مہدی علیہ السلام کی پوری عمارت قائم ہے۔

امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی ولادت ایک واقعہ نہیں بلکہ امامت کے ایک طویل، مربوط اور منظم سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ سلسلہ قربانی، تقویٰ، علم اور الٰہی ذمہ داری کے شعور سے عبارت ہے۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اس سلسلہ کے ایسے مرحلے پر فائز تھے جہاں امامت کا تحفظ، پیغام کی بقا اور مستقبل کی قیادت کی تیاری بیک وقت درکار تھی۔ عباسی اقتدار کا سیاسی جبر، فکری محاصرہ اور عسکری نگرانی ایک ایسی فضا پیدا کر چکی تھی جس میں معمولی لغزش بھی الٰہی منصوبے کو شدید خطرے سے دوچار کر سکتی تھی۔ ایسے نازک مرحلے پر امام عسکری علیہ السلام کا کردار محض ایک دینی رہنما کا نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت محافظ، حکیم اور منصوبہ ساز کا تھا۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ عظیم صبر کی بہترین مثال ہے۔ آپؑ کا صبر محض حالات کو سہہ لینے کا نام نہیں تھا بلکہ حالات کو حکمت کے ساتھ سنبھالنے، حق کو محفوظ رکھنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا نام تھا۔ آپؑ نے محدود ظاہری آزادی کے باوجود علمی مکاتب کو زندہ رکھا، اپنے خاص نمائندوں کے ذریعے شیعہ معاشرے کو منظم کیا اور امامت کے تسلسل کو فکری سطح پر ناقابلِ انقطاع بنا دیا۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے بعد کے دورِ غیبت میں شیعہ فکر کو بکھرنے سے بچایا۔

امام عسکری علیہ السلام کی شخصیت ایک خاموش مگر گہری معنویت کی حامل ہے۔ آپؑ کی زندگی میں شور نہیں، مگر تاثیر ہے؛ ظاہری قوت نہیں، مگر روحانی ہیبت ہے؛ کم گوئی ہے، مگر معنی آفرینی ہے۔ یہی اسلوب دراصل امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی آئندہ عالمی قیادت کی تمہید تھا، ایسی قیادت جو طاقت سے پہلے شعور کو اور تلوار سے پہلے عدل کو مخاطب کرے گی۔

اس عظیم فکری اور روحانی نظام میں حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا کا کردار نہایت بنیادی اور فیصلہ کن ہے۔ تاریخِ اسلام میں بعض خواتین ایسی گزری ہیں جنہوں نے خاموشی کے ساتھ تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا اسی سلسلہ کی ایک درخشاں کڑی ہیں۔ علمی اعتبار سے وہ صرف ایک ماں نہیں بلکہ ایک رازدارِ امامت، ایک امینِ الٰہی اور ایک باشعور مربیہ تھیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی تفسیر ہے کہ امامت صرف مردانہ شجاعت کا نام نہیں بلکہ نسوانی بصیرت، صبر اور فہم کا بھی تقاضا کرتی ہے۔

حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا نے جس ماحول میں امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی پرورش فرمائی، وہ معمولی گھریلو فضا نہیں تھی بلکہ ایک مسلسل خطرے اور نگرانی میں جینے والا ماحول تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے خوف کو ایمان میں، خاموشی کو حکمت میں اور راز داری کو عبادت میں بدل دیا۔ ان کی مامتا محض جذباتی نہیں بلکہ فکری اور روحانی تھی۔ انہوں نے امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے قلب میں توکل، یقین اور مقصدیت کی وہ بنیاد رکھی جو بعد میں ایک عالمی انقلاب کی روح بنی۔

حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا کی گود وہ خاموش مدرسہ تھی جہاں انتظار کی پہلی درسگاہ قائم ہوئی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی نگاہ وہ چراغ تھی جس کی روشنی میں غیبت کا طویل سفر طے ہونا تھا۔ ان دونوں کی ہم آہنگی دراصل امامت کے تحفظ کی کامل تصویر ہے—ایک طرف باپ کی فکری قیادت، دوسری طرف ماں کی روحانی آغوش۔

شبِ 15 شعبان ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم امامِ زمانہ علیہ السلام کے انتظار کو صرف جذباتی وابستگی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے فکری و اخلاقی تقاضوں کو بھی سمجھیں۔ امام حسن عسکری علیہ السلام ہمیں سکھاتے ہیں کہ ظلم کے دور میں حکمت کے ساتھ جینا کیسے ہے اور حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ خاموش خدمت اور باطنی استقامت کس طرح تاریخ ساز بن جاتی ہے۔

آج کا انسان، جو فکری انتشار، اخلاقی زوال اور عالمی ناانصافی سے دوچار ہے، اگر شبِ نیمۂ شعبان کے پیغام کو سمجھنا چاہے تو اسے ان دو عظیم ہستیوں کی سیرت میں جھانکنا ہوگا۔ کیونکہ امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا انتظار دراصل انہی اقدار کا تسلسل ہے جو ان کے والدین نے اپنی زندگیوں میں مجسم کر دکھایا—ایمان، صبر، بصیرت اور ذمہ داری کا شعور۔

یوں شبِ 15 شعبان نہ صرف ولادتِ مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی شب ہے بلکہ امام حسن عسکری علیہ السلام اور حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی بھی شب ہے۔ یہ دو ستون اگر نہ ہوتے تو انتظار کی یہ عظیم عمارت کبھی اس استحکام کے ساتھ قائم نہ رہتی۔ ان کی یاد ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ الٰہی منصوبے ہمیشہ قربانی، خاموش جہاد اور بے لوث ایمان کے سہارے آگے بڑھتے ہیں اور بالآخر عدلِ الٰہی پوری دنیا پر جلوہ گر ہو کر رہتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha