حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ مجلسِ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری، امامِ جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی کو ایران میں امام خمینی انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازے جانے پر انجمن ہائے ماتمی اور ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی یکتا منچ کی جانب سے تاریخی چھوٹے امام باڑے میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں ہندوستان کی معروف شخصیات نے مولانا کلب جواد نقوی کو اس اعزاز پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے ایران حکومت کا شکریہ ادا کیا، نیز بھارت سرکار سے ایران کے ساتھ مزید مضبوط تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایران کے انقلاب اور رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ خامنہای کی حمایت میں نعرے بھی لگے، نیز امریکہ و اسرائیل کے خلاف مردہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی بلند کیے گئے۔ اس موقع پر ایران اور رہبرِ انقلابِ اسلامی کے خلاف ہندوستانی میڈیا کے منافرانہ اور منافقانہ رویّے کی بھی مذمت کی گئی۔
تقریب کا آغاز مولانا منظر علی عارفی نے قرآنِ مجید کی تلاوت سے کیا۔ اس کے بعد عادل فراز کی نظامت میں تقریب کا باضابطہ آغاز ہوا۔ سوامی سارنگ نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج ہم کسی شخص نہیں بلکہ ایک شخصیت کی خدمات کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اس عالمی اعزاز پر ہم فخر محسوس کر رہے ہیں۔ یہ اعزاز صرف مولانا کو نہیں دیا گیا بلکہ اس سے ہمارے ملک، ہماری ریاست اور ہمارے شہر لکھنؤ کی بھی عزت افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو مگر صبر سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو سکتا، یہ پیغام ہمیں کربلا سے ملتا ہے۔ آج ایران بھی اسی راستے پر ہے اور طاقت ور ظالموں کے خلاف استقامت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان نتیندر یادو نے اپنی تقریر میں مولانا کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ’وشو گرو‘ اسی بنا پر ہو سکتا ہے کہ ہم سبھی مذاہب کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کسی بھی مذہب میں ہو وہ کبھی امن قائم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کبھی ظلم اور اختلاف کی دعوت نہیں دیتا۔ مذہب کو سمجھنا ہے تو فطرت کے ذریعے سمجھیے جو بلا تفریقِ مذاہب سب کے لیے ہے۔ ہماری آراء، عقائد اور مذاہب مختلف ہو سکتے ہیں مگر اس کو نفرت اور اختلاف کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
اے۔آئی۔سی۔سی۔ کے رکن اشوک سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایوارڈ ہمارے شہر اور ملک کے لیے فخر کا باعث ہے۔ مولانا کلب جواد اور ان کا خاندان ہمیشہ اتحاد کے لیے کوشاں رہا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عالمی سطح پر ان کی عزت افزائی ہوئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ترجمان پرتی پال سنگھ نے اپنی تقریر میں مولانا کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ملک میں آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے اور سکھ سماج کا بھی یہی پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی آزادی میں سبھی مذاہب کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج فرقہ پرست طاقتیں ہمارے اتحاد کو توڑنا چاہتی ہیں مگر ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے ہمیشہ ایران کی حمایت کی اور امریکی پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔ یقیناً ہندوستان کے لوگ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو پسند نہیں کرتے۔ ٹرمپ مسلسل بھارت کے خلاف ٹیرف عائد کر رہا ہے، اس اقدام کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور بھارت سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے روابط کو بہتر بنائے اور موجودہ تعلقات کو مزید تقویت دے۔
ایڈوکیٹ سریش پانڈے، سابق صدر بار ایسوسی ایشن لکھنؤ، نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ اعزاز بھارت۔ایران دوستی کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک میں بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا چاہیے، جس طرح ہمارے ملک کی آزادی کے لیے سبھی نے مل جل کر قربانیاں دی تھیں، اسی طرح ہمیں آج بھی متحد ہو کر بین الادیان ہم آہنگی کو قائم کرنا ہو گا۔ مولانا فضل منان واعظی، امام ٹیلے والی مسجد، نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ صرف ایوارڈ نہیں بلکہ ہمارے ملک کا افتخار ہے، اس لیے ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرے۔ انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر بھی فکرمندی کا اظہار کیا۔
بدھ دھرم سے تعلق رکھنے والے پوجیہ بھنتے جی شری دیپانکر جی نے کہا کہ ہم مولانا کو اس اعزاز پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان اختلاف اس لیے بڑھ رہے ہیں کیونکہ ہم مذہبوں اور ذاتوں میں بٹ گئے، انسانیت ختم ہو گئی۔ ہمیں اپنے ملک کے نام کو روشن رکھنے کے لیے امن کا پیغام بر بننا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں نفرت کا بیانیہ ختم کرنا ہو گا تاکہ ملک مزید ترقی کی راہیں طے کر سکے۔
مولانا رضا حیدر زیدی نے اپنے خطاب میں مولانا کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ایران اور بھارت کی دوستی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ جو بڑی طاقتیں رہی ہیں انہوں نے کمزور لوگوں کو غلام بنانے کی کوشش کی ہے، اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہیں۔ شاہِ ایران کے زمانے میں بھی یہی ہوا۔ امام خمینیؒ نے اس فکر کے خلاف جنگ کی اور ایران میں نظامِ ولایتِ فقیہ نافذ ہوا جس میں عدل و انصاف کی بالادستی قائم ہوئی۔ آج بڑی طاقتیں اسی نظام کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا مقصد ایران کو ختم کرنا نہیں بلکہ نظامِ ولایت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اقوامِ متحدہ میں جس طرح ایران کی حمایت کی، ہم اس کی ستائش کرتے ہیں اور ہم پوری طرح حکومت کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عزت سے سر اٹھا کر جینا چاہتے ہو تو ظالموں کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ ہمیں ہرگز عالمی طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکانا ہے، اگر جھک گئے تو پھر غلامی کا قلادہ ہماری گردنوں میں ڈال دیا جائے گا، اس لیے ہماری حکومت کو امریکہ اور اسرائیلی آمریت کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔
مولانا کلب جواد نقوی نے تمام مہمانوں اور پروگرام کے بانیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس اعزاز پر حکومتِ ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور بھارت سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید تقویت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کے بارے میں اسلام دشمن طاقتوں نے غلط تشریح پیش کی ہے تاکہ غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف مشتعل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کے معنی کسی کی جان لینا یا گلے کاٹنا نہیں ہے بلکہ جہاد کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی نیک کام کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر دے، یہی جہاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے اندھیرے میں ایک چراغ جلا دیا تو یہ اندھیرے کے خلاف جہاد ہے۔ اگر کسی نے جہالت کے خلاف کوئی تعلیمی ادارہ قائم کر دیا تو اسلام میں یہ جہالت کے خلاف جہاد کہلاتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ امریکی صدر ایسا ظالم ہے جو پاگل بھی ہے۔ اس کا کوئی بھروسا نہیں کہ کس ملک پر کب حملہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے اور دنیا مشوش ہے کہ جیت کس کی ہو گی۔ اللہ کا منصوبہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ بڑی طاقتوں کو چھوٹی طاقتوں کے ذریعے شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شور مچا ہوا ہے کہ امریکی بیڑہ آ رہا ہے، دراصل یہ بیڑہ نہیں ’بھیڑہ‘ ہے، سیدھا کامیاب ہوتا ہے جو ’بھیڑہ‘ ہوتا ہے، اس کا بیڑا غرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا مشہور محاورہ ہے ’بیڑا غرق ہونا‘، یہ محاورہ امریکی بیڑے ’ابراہم لنکن‘ کے غرق ہونے سے حقیقت میں تبدیل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس سے پہلے بھی ایران کے مقابلے میں رسوا ہوا ہے اور آئندہ بھی ذلت آمیز شکست اس کا مقدر ہو گی۔ مولانا نے کہا کہ امریکہ مرجعیت کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جو اپنے حملے کے اہداف کی فہرست دی ہے، اس میں قم اور مشہد کو شامل کیا ہے، بلکہ میں کہوں گا کہ اس میں نجف اور کربلا بھی شامل ہے، کیونکہ امریکہ آیت اللہ سیستانی کا بھی دشمن ہے، کیونکہ ان کی وجہ سے عراق میں امریکہ اور داعش کو شکست ہوئی تھی۔ اس لیے ہمارے مقدس مذہبی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے، لہٰذا ہم بھارت سے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے مقدس مقامات اور مرجعیت کو ہلکا سا بھی گزند پہنچا تو ہم کسی بھی امریکی اور اسرائیلی کو بھارت میں اپنے مقدس مقامات میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس میں ہمارے ساتھ ہندو بھی شامل ہیں اور دیگر مذاہب کے افراد بھی۔ مولانا نے میڈیا کے رویّے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کہہ رہا تھا کہ آیت اللہ خامنہای بنکر میں چھپ گئے ہیں، جب کہ ابھی وہ مسجدِ جمکران میں تھے۔ دنیا سمجھ لے کہ ہمارے بنکر زمین کے اندر نہیں ہوتے بلکہ زمین کے اوپر مساجد اور امام باڑے ہمارے بنکر ہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ کچھ لوگ مسلم دشمنی میں اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں مگر وہ صہیونیت کے مذہبی نظریات سے واقف نہیں۔ ان کی مذہبی کتاب تلمود میں لکھا ہے کہ اگر بیک وقت ایک کتا اور غیر یہودی کنویں میں گر جائے تو کتے کو بچا لو مگر غیر یہودی کو ڈوبنے دو، کیونکہ غیر یہودی کو جینے کا حق نہیں۔ اب ہندوستان کے غیر مسلم فیصلہ کریں کہ وہ کس کی حمایت کریں گے۔ مولانا کی تقریر کے دوران ایران اور رہبرِ انقلاب کی حمایت میں نعرے لگائے گئے، ساتھ ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مردہ باد کے نعرے بھی لگے۔
مولانا تسنیم مہدی زید پوری، جناب اعجاز علی مینائی، مولانا منظر علی عارفی، مولانا علی عباس رضوی حائری اور مولانا علمدار حسین نے بھی اپنی تقاریر میں مولانا کلب جواد نقوی کو اس اعزاز پر مبارک باد پیش کی اور اس کو ہندوستان کے لیے باعثِ افتخار قرار دیا۔ درگاہ کاکوری شریف کے سجادہ نشین سید زین الحیدر علوی کی طرف سے سید بدر علی عباس علوی نے پیغام پڑھا۔ شہرِ لکھنؤ کی مختلف انجمنوں اور معزز افراد اور اہم شخصیات نے اس موقع پر مولانا کلب جواد نقوی کی گل پوشی کر کے مبارک باد پیش کی۔ مولانا محفوظ علی نے مولانا کلب جواد نقوی کی خدمات کے اعتراف میں منظوم نذرانہ پیش کیا۔ آخر میں مولانا رضا حسین رضوی اور صارم مہدی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
جلسے میں مولانا حیدر عباس رضوی، مولانا تفسیر حسین، مولانا شباہت حسین، مولانا فیروز حسین، مولانا علمدار حسین کانپور، مولانا حامد حسین، مولانا فیروز حیدر، مولانا فاضل عباس، مولانا تنویر حیدر، مولانا علی عباس رضوی جونپور، مولانا رضا حسین رضوی، عبد النصیر ناصر، اکرم ندوی، عامر صابری، مولانا حسین مہدی، مولانا کمیل عباس، مولانا نظر عباس، مولانا غلام رضا، مولانا شاہد حسین، مولانا قمر الحسن، حسن جعفر، مولانا امیر حیدر، مولانا آغا مہدی، ڈاکٹر محمد کامران، اطہر حسین، بھیم آرمی کے کارکنان اور اس کے رکن شبھم چودھری، امام عباس مدیرِ صحافت اور دیگر علما و اہم افراد نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض عادل فراز نے انجام دیے۔









آپ کا تبصرہ