تحریر: مزمل عباس انقلابی
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
حدیث رسول خدا:"مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً" ترجمہ: جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرا وہ جاھلیت کی موت مرا۔
دور حاضر میں معرفت امام کی اہمیت
آج کے دور میں جبکہ ہر جگہ جاھلیت پھیلی ہوئی ہے اور انسان کو اپنا دین بچانا بہت مشکل ہو گیا ہے اس چیز کی بہت ضرورت ہے کہ اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کرے اور دور غیبت میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں جب تک انسان اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھے گا اس دور حاضر کے فتنوں سے نہیں بچ سکے گا۔
فطری معرفت
معرفت انسان کی خلقت کا ایک حصہ ہے انسان کو جب خلق کیا گیا تو فطرت پر خلق کیا گیا اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی فطرت پر خلق کیا گیا توحید کی فطرت پر یا معرفت حاصل کرنے کی فطرت پر؟
جواب: یہ جو ایک مشہور حدیث ہے کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بناتے ہیں اسی وجہ سے چھوٹے بچے کو جستجو ہوتی ہے کہ وہ معلوم کرے یہ کیا ہے؟ جس چیز کو بھی دیکھتا ہے یہ سنتا ہے تو اپنے والدین سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ یہ کس لیے ہے؟ کیوں ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ معرفت حاصل کرنا انسان کی فطرت میں ہے۔
معرفت کا مطلب
لغوی معنی: لفظ معرفت عربی الفاظ (ع ر ف) سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کہ کسی چیز کو پہچان لینا۔
اصطلاحی معنی: اصطلاح میں معرفت سے مراد ہے کہ کسی حقیقت کو اس کے مقام، مقصد اور اثرات کے ساتھ اس طرح پہچاننا کہ وہ انسان کے عقیدے، فکر اور عمل پر اثر انداز ہو۔
یعنی یوں کہا جا سکتا ہے کہ علم معلومات دیتا ہے، مگر معرفت انسان کو راستہ دیتی ہے اور یہی معرفت انسان کو جاہلیت سے نکال کر ہدایت کی طرف لے جاتی ہے۔
حدیث کی روشنی میں معرفت کی ضرورت
رسول خدا کی یہ حدیث معرفت امام زمان کے حوالے سے ایک مسلمہ حدیث ہے یعنی یہ ایک ایسی حدیث ہے کہ کوئی بھی فرقہ اس کا انکار ہی نہیں۔ سارے فرقے کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جو بھی انسان زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر اس دنیا سے چلا گیا وہ جہالت کی زندگی گزار کر اس دنیا سے گیا۔
اعتراضات و جوابات
دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ آخری زمانے میں ایک منجی (نجات دہندہ) آئے گا جو دنیا میں عدل قائم کرے گا لیکن یہاں ہمارے اکثر برادران امام کی معرفت اور ان کے آنے اور ان کی طویل زندگی اور ان کے ھدایت پر اعتراض کرتے ہیں۔
پہلا اعتراض؛ معرفت امام کا جواب
ہمارے اکثر برادران معرفت کے مفہوم میں اختلاف کرتے ہیں اسی بنا پر انہوں نے ہر دور کے لیے امام بنانے شروع کر دیے اور بہت سے مدعی امامت کھڑے ہو گئے لیکن خود حدیث ہمیں بتا رہی ہے کہ جو امام ہوتا ہے اس کی معرفت حاصل کرنی ہوتی ہے نہ کہ امام کو بنایا جاتا ہے امام پہلے سے اللہ کی طرف سے منتخب ہوتا ہے اگر ہم ہر دور کے لیے امام بنانے لگ جائیں تو جو دور اور زمانہ امام کے تعین میں لگے گا تو وہ دور امام کی معرفت سے خالی رہے گا تو یعنی جتنے بھی لوگ اس دور میں مریں گے وہ جاہلیت کی موت مریں گے اور وہ قیامت کے دن سوال اٹھا سکتے ہیں کہ خدایا ہم تو امام کے دور سے خالی تھے تو ہم پر کیوں حساب کتاب کیا جا رہا ہے۔
دوسرا اعتراض؛ طویل زندگی کا جواب
ہمارے اکثر برادران یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایمان کے لیے اتنی طویل زندگی ممکن نہیں کہ وہ اج تک زندہ رہیں اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے آؤ تاریخ سے سہارا لیتے ہیں تاریخ میں موجود ہے کہ چار نبی ایسے ہیں کہ جن کو اللہ تعالی نے موت نہیں دی اور وہ زندہ ہیں ان میں سے پہلا حضرت عیسی ہے کہ جن کو اللہ تعالی نے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور دوسرا حضرت خضر ہیں اور تیسرا حضرت الیاس ہیں اور چوتھا حضرت ادریس ہیں۔ اور شیطان جو کہ حضرت آدم سے بھی پہلے کا زندہ ہے اور خدا نے اسے مہلت دی ہوئی ہے اب فیصلہ یہ کرنا ہے جو خدا ان چار نبیوں کو اتنی طویل عمر دے سکتا ہے تو کیا وہ خدا اس چیز پر قادر نہیں ہے کہ وہ امام کو زندہ رکھ سکے اور اسے طویل زندگی دے سکے۔
تیسرا اعتراض؛ بغیر ھدایت کے امام کا فاںٔدہ
ہمارے اکثر برادران یہ اعتراض کرتے ہیں ان کے امام جو کہ غیبت میں ہیں تو اس امام کا کیا فائدہ جو غیبت میں رہے اور اپنے چاہنے والوں کی ہدایت نہ کر سکے تو اس کا جواب قران و حدیث کی روشنی میں دیتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا تو فرشتوں کو کہا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے تو خدا نے اسے کہا کہ اج سے تو مردود ہے تو اس نے کہا کہ خدایا مجھے قیامت تک مہلت دے۔ خدا نے کہا جاؤ تمہیں وقت معلوم تک مہلت دیتا ہوں تو شیطان نے کہا کہ میں اپ کے بندوں کو راہ راست سے ہٹاؤں گا اور ان کو گمراہ کروں گا۔
اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ جو ابلیس نافرمانی کرنے کے باوجود غائب رہ کر لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے تو کیا امام زمانہ غائب رہ کر لوگوں کی ہدایت نہیں کر سکتے۔
معرفت کے آثار و ثمرات:
ایمان کی تکمیل: ایمان صرف لفظوں یا دل میں یقین تک محدود نہیں رہتا۔ جب انسان امامِ زمانہ کی معرفت حاصل کرتا ہے تو اس کا ایمان پختہ اور مکمل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ معرفت کے ذریعے انسان یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حجت کون ہے اس کی اطاعت کیوں ضروری ہے، اور دنیا میں حق و عدل کے قیام کا منصوبہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ یہی معرفت ایمان کو پوری زندگی کے لیے رہنما بنا دیتی ہے۔
گمراہی سے نجات
اگر انسان امامِ زمانہ کو نہ پہچانے تو اس کی رہنمائی کے بغیر زندگی گزرتی ہے اور وہ جھوٹ اور گمراہی میں مبتلا رہ سکتا ہے۔ معرفتِ امامؑ انسان کو سیدھی راہ دکھاتی ہے غلط عقائد سے بچاتی ہے اور دل و دماغ کو روشنی اور سکون دیتی ہے۔ یہ ایسا چشمہ ہے جو اندھیروں میں روشنی بکھیر دیتا ہے۔
ولایتِ اہل بیتؑ سے وابستگی
امامِ زمانہ کی معرفت ہمیں اہل بیتؑ کی ولایت سے جوڑتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی اطاعت اور پیروی صرف عبادت نہیں بلکہ ہمارے ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ یہ وابستگی دل میں محبت اور عقیدت پیدا کرتی ہے اور زندگی کے ہر فیصلہ میں ہمیں حق کی پہچان اور درست راہ دکھاتی ہے۔
غیبت کے دور میں ہماری ذمہ داریاں:
معرفت دو قسم کی ہوتی ہے ایک اجمالی و ابتدائی معرفت اور وہ یہ ہے کہ انسان اس امام کے بارے میں یہ جانتا ہو کہ ان کا خاندان کیسا ہے ؟ انکی ولادت کب ہوئی ؟ انکے فضائل کیا ہیں ؟ انکے اسمائے مبارکہ کیا ہیں ؟ اب تک ہمارے ہاں صرف یہی بتایا جاتا ہے اور ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں البتہ معرفت کی دوسری قسم جو کہ انتہائی اہم ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہماری ذمہ داریاں اس امام کے حوالے سے کیا ہیں؟ کیونکہ فقط یہ جان لینا کافی نہیں ہے کہ امام کا حسب و نسب کیا ہے یا ان کے فضائل کون سے ہیں ۔ کیونکہ وہ معرفت جو انسان کو ہلاکت سے بچائے گی وہ کون سی معرفت ہے یہ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ جو اس حالت میں مر جائے کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو. وہ جہالت اور کفر کی موت مرا یعنی اگر حجت خدا کی پہچان نہیں رکھتا اور اس پہچان کے بغیر مر گیا وہ کفر کی موت مرا کیا اس معرفت سے مراد یہ ہے کہ وہ کس خاندان کا بیٹا ہے؟ ان کی جائے ولادت کہاں ہے؟ ان کے فضائل کا پتہ ہو وہ جو اعمال سر انجام دیتا ہے ان کا پتہ ہو۔
ان کے دور غیبت میں ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟
ا۔ امام زمانہ کی مظلومیت اور اپنی رعیت دور ہونے پر غمگین اور افسردہ رہنا ( گریہ کرنا ) ۔
۲۔ امام کے ظہور اور آپ کے فرج وقت کا انتظار کرنا۔
۳۔امام خدا کی حکمت و مصلحت کے تحت غائب ہیں، اس لئے یہ کبھی نہیں کہنا کہ ظہور کیوں نہیں ہورہا ہے اب تو ظلم اتنا بڑھ گیا ہے۔اعتراض کے طور پر زبان شکوہ نہ کھولی جائے۔
۴۔مال کے ذریعے امام کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرنا ۔ یعنی آپ کی نیابت میں آپ کے دوستوں، چاہنے والوں پر اور اسلام کی تقویت کے لئے مال خرچ کرنا۔
۵۔خدا سے دعا مانگنا کہ امام کی معرفت نصیب ہو۔
۶۔امام زمانہ کی صفات کو جاننا اور ہر حالت میں آپ کی نصرت و مدد کے لئے آمادہ رہنا۔
۷۔ درج ذیل دعا کا ور درکھنا۔
"يَا اللَّهُ يَارَحُمْنُ يَا رَحِيمُ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتُ قَلْبِي عَلَى دِينِكُ"
ترجمہ؛ اے اللہ ! اے رحمان ! اے رحیم ! اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
۸۔اگر استطاعت ہو تو عید قربان پر امام زمانہ کی نیابت میں قربانی کرنا، حج کرنا، طواف کعبہ کرنا، عمرہ بجالانا۔
۹۔ امام کو اُن کے اصلی نام سے نہ پکارنا (م ۔ ح ۔ م ۔ د) بلکہ القاب سے یاد کرنا۔
۱۰۔جب امام کا نام یا لقب پکارا جائے خصوصاً قائم “ تو احتراما کھڑے ہو جانا۔
۱۱۔دشمنان خدا سے مقابلے کے لئے اسلحہ وغیرہ آمادہ رکھنا۔
۱۲۔مشکلات میں امام کو وسیلہ قرار دینا اور آپ کی خدمت میں ان میں اپنی حاجات پر مشتمل عریضہ ارسال کرنا ۔
۱۳۔ خدا سے سوال کرتے وقت خدا کو امام زمانہ کے حق کی قسم دینا۔
۱۴۔ دنیا داروں سے زیادہ میل جول اور آمد و رفت نہ رکھنا۔
۱۵ امام پر درود و سلام زیادہ سے زیادہ بھیجنا۔
۱۶۔ امام کے فضائل و کمالات کو بہت زیادہ بیان کرنا۔
۱۷۔ امام کے جمال مبارک کی زیارت کا اشتیاق رکھنا اور اس شوق کا اظہار کرتے رہنا۔
۱۸۔ لوگوں کو امام کی معرفت کے لئے آمادہ کرتے رہنا۔
۱۹۔ اپنے نیک اعمال امام کو ہدیہ کرنا ۔ مثلاً تلاوت قرآن، درود، زیارت معصومین اور مجلس و ماتم داری کا ثواب وغیرہ۔
۲۰۔ آپ کے ظہور میں تعجیل اور آپ کی سلامتی کے لئے دعا کرنا۔
۲۱۔ علماء کا اپنے علم کو ظاہر کرنا اور نا واقف و جاہلوں کو سکھانا۔
۲۲۔ امام کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرنا ( مثلا خمس )۔
۲۳۔ امام کے انصار و مددگار اور آپ کے مقصد کے لئے کام کرنے والوں کی کامیابی اور ان کی صحت و سلامتی کے لئے دعا کرنا۔
۲۴۔ امام کے دشمنوں اور آپ کے مقصد و پروگرام کے مخالفین پر نفرین کرنا۔
۲۵۔ جب امام کے لئے مجالس و محافل میں دعا مانگی جائے تو بلند آواز سے دعا مانگنا۔
۲۶۔ جب بھی موقع ملے امام کے ساتھ تجدید بیعت کرنا۔ بیعت کی نیت سے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر کہنا کہ اے امام میں آپ کا مومن ہوں ، میری اُس سے جنگ ہے جس سے آپ کی جنگ ہوگی۔ میں آپ کے مقصد کی خاطر کام کرنے والوں کی حمایت کا اعلان کرتا ہوں ۔
۲۷۔ امام کی نیابت میں امام حسین اور دیگر آئمہ کے مزاروں پر جا کر زیارت پڑھنا یا کسی کو نائب بنا کر بھیجنا۔
۲۸۔ غیبت امام کے طولانی ہونے پر مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دینا۔
۲۹۔ اگر کوئی غیبت کبری میں امام کا نائب خاص ہونے کا دعوی کرے تو اسے جھٹلانا۔
۳۰۔ ظہور امام کا وقت معین نہ کرنا۔
۳۱۔ دشمنوں سے چوکنا رہنا۔
۳۲۔ یہ دعا کرتے رہنا کہ خدایا مجھے ایمان کی حالت میں امام سے ملاقات نصیب فرمانا۔
۳۳۔ امام زمانہ کو ہر وقت یاد رکھنے کے لئے بچوں، کمپنیوں، اداروں، مساجد اور اجتماعات کی جگہوں کے نام امام زمانہ کے القاب میں سے کسی لقب پر رکھنا۔
۳۴۔ امام زمانہ کے مقصد کی ترویج کے لئے کچھ افراد کا اپنے آپ کو وقف کر دینا۔
نتیجہ
یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ معرفت امام زمان فقد ایک نظری عقیدہ نہیں ہے بلکہ ایمان کی تکمیل اور ہدایت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جو شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچانتا ہے وہ فکری گمراہی سے محفوظ رہتا ہے اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ امامِ زمانہ کی معرفت دراصل ولایتِ اہل بیت سے عملی وابستگی کا نام ہے جو انسان کے عقیدے، کردار اور طرزِ زندگی کو صحیح سمت عطا کرتی ہے۔ عصرِ غیبت میں ہماری اصل ذمہ داری یہی ہے کہ ہم اس معرفت کو زندہ رکھیں اپنے اعمال کو شریعت کے مطابق ڈھالیں اور ظہورِ امام کی تیاری کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں کیونکہ اسی میں فرد اور معاشرے کی حقیقی نجات پوشیدہ ہے۔









آپ کا تبصرہ