پیر 2 فروری 2026 - 10:51
حضرت امام مہدی (عج) کی توقیعات

حوزہ/ مسائل کا جواب اور شبہات کے ازالے کے مؤثر ذرائع میں سے ایک، حضرت مہدی علیہ السلام کی جانب سے صادر ہونے والی وہ ہدایات اور تحریری پیغامات ہیں جنہیں "توقیعات" کہا جاتا ہے، جو آپ عجل‌اللہ‌تعالی‌فرجہ‌الشریف نے اپنے معتمد نمائندوں اور خاص افراد کے ذریعے شیعوں تک پہنچائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ زمین کبھی بھی حجّتِ الٰہی سے خالی نہیں رہتی۔ ہر دور میں ایک معصوم ہستی لوگوں کے درمیان موجود رہی ہے تاکہ احکامِ الٰہی کی تبیین اور اتمامِ حجّت کا فریضہ انجام دے۔ اگرچہ غیبت کے دور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام ظاہری طور پر لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہیں، تاہم آپ کی برکات اور عنایات مسلسل اہلِ ایمان تک پہنچتی رہتی ہیں۔

غیبت کے زمانے میں مسائل کے حل اور فکری و اعتقادی شبہات کے ازالے کے لیے جن اہم ذرائع سے استفادہ کیا گیا، ان میں حضرت کی توقیعات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔

توقیع کیا ہے؟

لغوی اعتبار سے توقیع کے معنی حاشیہ نویسی کے ہیں، جبکہ اصطلاح میں یہ وہ تحریری احکام اور خطوط ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی جانب سے زمانۂ غیبت میں اپنے شیعوں کو ارسال کیے گئے۔ شیعہ علمی مصادر میں توقیعات سے مراد یہی مقدس خطوط ہیں۔

توقیعات کی اقسام

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی توقیعات کو دو ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:

۱۔ غیبتِ صغریٰ کی توقیعات

غیبتِ صغریٰ کے مختصر دور میں چار مخصوص نائبین — عثمان بن سعید، محمد بن عثمان، حسین بن روح اور علی بن محمد سمری — کے ذریعے شیعوں کے سوالات اور شبہات کے جوابات میں توقیعات صادر ہوئیں۔ ان توقیعات کا بنیادی مقصد شیعوں کی دینی ذمہ داریوں کی وضاحت اور فکری سرگردانی کا خاتمہ تھا۔

۲۔ غیبتِ کبریٰ کی توقیعات

غیبتِ کبریٰ میں حضرت مہدی علیہ السلام سے رابطہ براہِ راست نہیں رہا، تاہم بعض مواقع پر خواص اور بزرگ علما تک توقیعات پہنچتی رہیں۔ ان توقیعات کی دو نمایاں خصوصیات بیان کی گئی ہیں:

یہ خطوط عمومی طور پر افشا نہیں کیے جاتے تھے، مگر شدید ضرورت کے وقت ہی ظاہر کیے جاتے۔

ان میں عقیدتی شبہات کے جوابات، شخصیات کا تعارف، حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ اور دینی رہنمائی شامل ہوتی تھی۔

کیا توقیعات حضرت کے اپنے دستِ مبارک سے تھیں؟

علما کے درمیان اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض شواہد کے مطابق بعض توقیعات حضرت مہدی علیہ السلام کے اپنے دستِ مبارک سے تحریر شدہ تھیں اور آپ کی خطاطی خواص کے درمیان معروف تھی، جبکہ دیگر قرائن کے مطابق بعض توقیعات وہی خط تھیں جو امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں رائج تھیں اور نائبین کے ذریعے جاری کی جاتی تھیں۔

توقیعات کا محتوٰی

توقیعاتِ مقدسہ میں مختلف اہم موضوعات پر رہنمائی ملتی ہے، جن میں نمایاں نکات یہ ہیں:

  • غیبتِ کبریٰ اور علائمِ ظہور کی خبر
  • شیعوں کے حالات سے کامل آگاہی
  • حضرت سے ملاقات یا نیابت کے جھوٹے دعوؤں کی سخت تردید
  • ائمہ علیہم السلام کے بارے میں شکوک و شبہات کا ازالہ
  • خواصِ شیعہ، بالخصوص علما کی تائید و تعریف
  • دعاؤں، توسل اور زیارت آلِ یاسین کی تعلیم
  • تعجیلِ فرج کے لیے کثرتِ دعا کی تاکید

حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالی‌فرجہ‌الشریف نے ایک توقیع میں دعائے فرج کو ہی شیعوں کی حقیقی نجات قرار دیا ہے۔

ردِ بدعت، مخالفین کی تردید، فقہی سوالات کے جوابات، تقویٰ اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کی تاکید بھی توقیعات کے اہم مضامین میں شامل ہیں۔

جاری۔۔۔

ماخوذ از: مقالہ «ماهیت‌شناسی توقیعات حضرت مهدی علیہ السلام» از غلام‌رضا صالحی (معمولی ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha