حوزہ نیوز ایجنسی | دینی تعلیمات کے خلاف کثرتِ دشمنی کے باوجود، عقیدۂ مہدویت کی طرف توجہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عقلی اور عاطفی میدانوں میں بڑھتی ہوئی رغبت اور ضرورت کا احساس، اگرچہ اپنی جگہ نہایت قابلِ تحسین ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس نے یہ فضا بھی فراہم کی ہے کہ حقیقی اور گہرے معارف دینیہ کے ساتھ ساتھ بعض انحرافی فرقے بھی جنم لیں اور عارضی طور پر کچھ سادہ لوح یا مغرض افراد کو اپنے جال میں پھنسا لیں۔
بدقسمتی سے یہ منحرف فرقے کئی منفی اثرات کے حامل ہوتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
دینی عقائد میں عدمِ استحکام
بظاہر ان انحرافات کا سب سے بڑا نتیجہ افراد کے دینی اور مذہبی عقائد میں تزلزل پیدا کرنا ہے، جو بذاتِ خود ایک عظیم اور ناقابلِ معافی گناہ ہے اور اس آیتِ کریمہ کا کامل مصداق ہے:
«یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللَّهِ»
فکری سرمائے کا ضائع ہونا
یقیناً آج مکتبِ اہلِ بیت علیہمالسلام کو مختلف میدانوں میں فکری قوتوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ انحرافی فرقوں میں ان قوتوں کا ضائع ہو جانا اور ان کی فکری صلاحیتوں کا برباد ہو جانا ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔
انحرافی فرقوں سے مقابلے کے لیے کیا کیا جائے؟
۱۔ علمی طرزِ عمل
علم ہر عمل کا نقطۂ آغاز ہے۔ مہدویت کے صحیح اور اصیل عقائد سے ناواقفیت، انحرافی فرقوں کے وجود میں آنے کی بنیادی وجہ ہے۔ لہٰذا ان سے نجات کا پہلا قدم معتبر اور مستند طریقوں سے علم میں اضافہ ہے۔
اس سلسلے میں سب سے اہم میدان قرآنِ کریم کی آیات اور معصومین علیہمالسلام کی معتبر روایات سے تمسک اختیار کرنا ہے۔ چنانچہ علمی و معرفتی سطح پر اس میدان کے ماہر افراد کو سوچے سمجھے، حکیمانہ اور ماہرانہ انداز میں میدان میں آ کر اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کرنی چاہئیں۔
ان مہارتوں کو دو بنیادی طریقوں سے تصور کیا جا سکتا ہے:
اول: حقیقی اور معتبر معارف مہدویت
دوم: انحرافات، ان کی خصوصیات اور ان کے نتائج کی شناخت
مہدویت کے لیے جامع فکری نظام کی تشکیل
یقیناً دینی ثقافت کے عناصر کے درمیان عدمِ ہم آہنگی، انحرافات کی راہ ہموار کرتی ہے۔ مهدویت کے مباحث کو سطحی، جزوی اور جزیرہ نما انداز میں دیکھنا، انحرافی افکار کے ظہور کا ایک اہم سبب ہے، علماء اور اہلِ ثقافت کی جانب سے ایک ہم آہنگ اور جامع فکری و ثقافتی نظام کے مہدویت کے تحت پیش کرنا، ان فرقوں اور افکار کی تشکیل اور ان کے تسلسل کے مقابل ایک مضبوط اور ناقابلِ نفوذ دیوار ثابت ہو سکتا ہے۔
۲۔ عملی راستے
بیان حقیقت اور ایجاد حساسیت
ان انحرافی افکار کے سنگین اور تباہ کن اثرات، ہر قسم کی سستی اور مصلحت اندیشی کی گنجائش ختم کر دیتے ہیں؛ کیونکہ یہ انحرافات منشیات سے بھی زیادہ مہلک ہیں۔ منشیات انسان کے جسم کو تباہ کرتی ہیں، جبکہ یہ انحراف انسانوں کی روح کو برباد کر دیتے ہیں۔ جس طرح کوئی بھی نوجوانوں کو منشیات کی لت میں مبتلا کرنے والوں کے ساتھ نرمی کو قبول نہیں کرتا، اسی طرح انحرافی افکار کے بانیوں کے ساتھ بھی مدارا روا نہیں رکھی جا سکتی۔ لہٰذا معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص علماء پر لازم ہے کہ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان فرقوں کو بے نقاب کریں اور بالخصوص نوجوان نسل کو ان کے جال سے محفوظ رکھیں۔
انحراف کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں
جہاں خیرخواہی کارگر ثابت نہ ہو، وہاں بہترین راستہ انحرافی فرقوں کے ساتھ براہِ راست مقابلہ اور ان کی بساط کو سمیٹ دینا ہے۔
جاری ہے…
کتاب «درسنامۂ مهدویت» (مصنف: خدامراد سلیمیان) سے ماخوذ، معمولی ترمیم کے ساتھ









آپ کا تبصرہ