اتوار 1 فروری 2026 - 19:38
امام علیہ‌السلام کی معرفت کے طریقے

حوزہ/ بلا شبہ بندوں پر اپنے پروردگار کے مقابل ایک نہایت اہم فریضہ اُس مقدس ہستی کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ یہ معرفت اُس وقت کمال کو پہنچتی ہے جب انسان انبیائے الٰہی—بالخصوص خاتمُ‌الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم—کو صحیح طور پر پہچان لے، اور یہ مقصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ان کے اوصیاء، خصوصاً آخری حجّتِ الٰہی کی معرفت حاصل نہ کی جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | خلقت کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے، اور بندگی کی بنیاد معرفتِ الٰہی ہے۔ اس معرفت کا بلند ترین مظہر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کے اوصیاء کی معرفت ہے۔ یقیناً بندوں پر عائد اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک، اُس مقدس وجود کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ یہ معرفت اُس وقت تک کامل نہیں ہوتی جب تک انبیائے الٰہی—بالخصوص خاتمُ‌الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم—کو اچھی طرح نہ پہچانا جائے، اور یہ مرحلہ بھی اُس وقت تک طے نہیں ہوتا جب تک اُن کے اوصیاء، بالخصوص آخری حجّتِ خدا کی معرفت حاصل نہ کی جائے۔

ایک شخص نے امام حسین علیہ‌السلام سے عرض کیا:

«یَا اِبْنَ رَسُولِ اَللَّهِ بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی فَمَا مَعْرِفَةُ اَللَّهِ؟ قَالَ: مَعْرِفَةُ أَهْلِ کُلِّ زَمَانٍ إِمَامَهُمُ اَلَّذِی یَجِبُ عَلَیْهِمْ طَاعَتُهُ.»

(علل‌الشرائع، ج ۱، ص ۹)

ترجمہ:

اے فرزندِ رسولِ خدا! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی معرفت کیا ہے؟

امام حسین علیہ‌السلام نے فرمایا: اللہ کی معرفت یہ ہے کہ ہر زمانے کے لوگ اپنے اُس امام کو پہچانیں جس کی اطاعت ان پر واجب ہے۔

لہٰذا امام کی معرفت، معرفتِ الٰہی سے جدا نہیں بلکہ اسی کا ایک اہم پہلو ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اُس دعا میں بھی اشارہ ملتا ہے جو ناحیۂ مقدسہ سے منقول ہے:

«اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِیکَ، اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَکَ، اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی.»

(الکافی، ج ۱، ص ۳۴۲)

ترجمہ:

اے اللہ! مجھے اپنی معرفت عطا فرما، کیونکہ اگر تو نے مجھے اپنی معرفت نہ دی تو میں تیرے نبی کو نہیں پہچان سکوں گا۔

اے اللہ! مجھے اپنے رسول کی معرفت عطا فرما، کیونکہ اگر تو نے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہ دی تو میں تیری حجّت کو نہیں پہچان سکوں گا۔

اے اللہ! مجھے اپنی حجّت کی معرفت عطا فرما، کیونکہ اگر تو نے مجھے اپنی حجّت کی معرفت نہ دی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاؤں گا۔

امام کی معرفت کے بنیادی طریقے

امام کی معرفت کے لیے بنیادی طور پر تین اہم راستے بیان کیے گئے ہیں:

1۔ نص

نص سے مراد یہ ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے کسی امام کی تعیین اور صراحت کی جائے، جس کا مفہوم یہ ہو کہ وہ نصب، یا تو بلاواسطہ خدا کی طرف سے ہو اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی خبر دیں، یا پھر خدا کے حکم سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس نصب کو انجام دیں۔ پہلی صورت میں نصب براہِ راست فعلِ الٰہی ہوتا ہے، اور دوسری صورت میں پیغمبر کا فعل بھی امرِ الٰہی کے تحت ہوتا ہے، جیسا کہ ملائکہ کے افعال خدا کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔

2۔ کرامت

کسی مدعیٔ امامت کے ہاتھ پر کرامت کا ظہور، اُس کے دعوائے امامت کی صداقت کی دلیل شمار ہوتا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک کرامت بذاتِ خود دلیلِ امامت ہے، جبکہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اصل دلیل نص اور نصبِ الٰہی ہے، اور کرامت اس نصب کی علامت ہوتی ہے۔ اگر نص ہمارے پاس محفوظ نہ ہو مگر کرامت ثابت ہو جائے، تو یہی کرامت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس شخص کے حق میں نص موجود تھی جو ہم تک نہیں پہنچی۔

3۔ سیرتِ عملی

اخلاق و کردار، طرزِ زندگی، علم و دانش اور عملی رویّہ بھی امام کی معرفت کے اہم ذرائع میں سے ہیں—خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو صلاحیتِ تشخیص رکھتے ہوں اور امام کو اُس کے اخلاق، گفتار اور طرزِ عمل سے پہچان سکیں۔

(لطف‌اللہ صافی گلپایگانی، پیرامون معرفتِ امام علیہ‌السلام، صص ۷۷–۷۸)

آج معتبر اور متواتر روایات کی موجودگی میں امامِ زمانہ علیہ‌السلام کی معرفت کا راستہ پوری طرح واضح ہے۔ آٹھویں امام، حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ‌السلام فرماتے ہیں:

«... الاِمَامُ أَمِینُ اللَّهِ فِی خَلْقِهِ وَ حُجَّتُهُ عَلَی عِبَادِهِ وَ خَلِیفَتُهُ فِی بِلادِهِ وَ الدَّاعِی إِلَی اللَّهِ وَ الذَّابُّ عَنْ حُرَمِ اللَّهِ، الاِمَامُ الْمُطَهَّرُ مِنَ الذُّنُوبِ وَ الْمُبَرَّأُ عَنِ الْعُیُوبِ، الْمَخْصُوصُ بِالْعِلْمِ، الْمَوْسُومُ بِالْحِلْمِ... »

(الکافی، ج ۱، ص ۲۰۱)

ترجمہ:

امام، اللہ کا اپنی مخلوق میں امین، اس کے بندوں پر اس کی حجّت، اس کی سرزمینوں میں اس کا خلیفہ، خدا کی طرف بلانے والا اور اس کے حرمتوں کا دفاع کرنے والا ہے۔ امام گناہوں سے پاک اور ہر عیب سے منزہ ہوتا ہے، علم اس کے ساتھ مخصوص اور حلم اس کی پہچان ہوتا ہے۔ وہ دین کا نظام، مسلمانوں کی عزّت، منافقوں کے لیے موجبِ غضب اور کافروں کے لیے سببِ ہلاکت ہے۔ امام اپنے زمانے میں یکتا ہوتا ہے؛ کوئی اس کے ہم پلہ نہیں، کوئی اس کا بدل نہیں، نہ اس جیسا کوئی ہے اور نہ اس کا نظیر۔ تمام فضیلتیں اُسی کے لیے خاص ہوتی ہیں، بغیر اس کے کہ وہ خود انہیں طلب کرے؛ یہ سب اُس خدائے وھّاب کی خاص عطا ہے۔

واقعی، انہی چند بنیادی اوصاف کی معرفت کے ذریعے انسان امام کی معرفت کی راہ میں ایک بڑا قدم اٹھا لیتا ہے، اور اس کے بعد اطاعت و فرمانبرداری کا مرحلہ آتا ہے۔

جاری ہے…

ماخوذ از: «درسنامۂ مهدویت»، تصنیف: خدامراد سلیمیان (مختصر تصرف کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha