پیر 2 فروری 2026 - 12:20
ظہورِ حضرت امام مہدی (عج) سے قبل قیام‌

حوزہ/ بعض افراد نے چند روایات کی بنیاد پر یہ گمان کر لیا ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کے ظہور سے پہلے، ظالم حکمرانوں کے خلاف ہر قسم کی تحریک ممنوع ہے؛ اسی بنا پر وہ ہر عدالت پسندانہ آواز بلند کرنے کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے طاغوت قرار دیتے ہیں!

حوزہ نیوز ایجنسی | دروس عقیدہ مہدویت میں ایک اہم اور ہمیشہ زیربحث رہنے والا موضوع، عصرِ غیبت اور حضرت امام مہدی عجل‌ الله‌ تعالی‌ فرجه‌ الشریف کے عالمی قیام سے قبل ہونے والے قیام‌ اور حکومتوں کا حکم ہے۔ بعض افراد نے چند روایات کے سہارے یہ سمجھ لیا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ظالم حکمرانوں کے خلاف ہر قسم کی جدوجہد ممنوع ہے؛ چنانچہ وہ ہر عدل طلب تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے اسے طاغوت سے تعبیر کرتے ہیں۔

ذیل میں، ظہور سے قبل قیام‌ سے متعلق روایات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:

ظہور سے قبل قیام‌ اور طاغوت کا مفہوم

کچھ روایات عمومی انداز میں حضرت حجّت عجل‌ الله‌ تعالی‌ فرجہ الشریف کے قیام سے پہلے ہر پرچم لہرانے اور ہر قیام کی مذمت کرتی ہیں اور اس کے پرچم بردار کو طاغوت یا مشرک قرار دیتی ہیں۔ بطور نمونہ دو روایات پیش کی جاتی ہیں:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

«کُلُّ رایَةٍ تُرْفَعُ قَبْلَ قِیامِ القائِمِ فَصاحِبُها طاغُوتٌ یُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللّهِ عَزَّوَجَلَّ.»

(الکافی، ج ۸، ص ۲۹۵)

ہر وہ پرچم جو قائم کے قیام سے پہلے بلند کیا جائے، اس کا پرچم بردار طاغوت ہے جس کی خدا کے سوا پرستش کی جاتی ہے۔

اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

«کُلُّ رایَةٍ تُرْفَعُ قَبْلَ رایة القائِمِ صاحِبُها طاغُوتٌ.»

(النعمانی، الغیبة، ص ۱۱۴)

ہر وہ پرچم جو قائم کے پرچم سے پہلے بلند کیا جائے، اس کا بلند کرنے والا طاغوت ہے۔

ان روایات پر سندی اشکالات کے علاوہ، دلالت کے اعتبار سے بھی محققین نے وضاحت کی ہے کہ دعوت دو طرح کی ہوتی ہے:

1. دعوتِ حق: یعنی لوگوں کو حق کے قیام اور حکومت کی باگ ڈور اہلِ بیت علیہم السلام کے سپرد کرنے کی دعوت؛ ایسی دعوت کی ائمہ معصومین علیہم السلام نے تائید کی ہے۔

2. دعوتِ باطل: یعنی لوگوں کو اپنی ذات کے لیے اکسانا۔ روایت میں «کُلُّ رایَة» سے مراد یہی دوسری قسم ہے؛ یعنی ایسی دعوت جو اہلِ بیت علیہم السلام کی دعوت کے بالمقابل اور اس کے متوازی ہو، نہ کہ اس کے تسلسل اور راستے میں۔

لہٰذا وہ قیام‌ جو اہلِ بیت علیہم السلام کے دفاع اور لوگوں کو ان کی طرف دعوت دینے کی بنیاد پر انجام پائے ہوں، ان روایات کے عمومی اطلاق سے خارج ہیں۔

کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ احادیث ہر اس قیام کو باطل قرار دیتی ہیں جو حضرت مهدی عجل‌ الله‌ تعالی‌ فرجه‌ الشریف کے قیام سے پہلے ہو، خواہ وہ حق پر مبنی ہو یا باطل پر۔ اس کے جواب میں کہا گیا ہے:

اوّلاً: قوی احتمال یہ ہے کہ یہ روایات خاص قیام‌ کے بارے میں ہوں (قضیہ خارجیہ)، نہ کہ ہر زمانے اور ہر قیام پر منطبق ہونے والا کلی قاعدہ ہوں۔

ثانیاً: متعدد روایات میں بعض ایسے قیام‌ کی صراحت کے ساتھ تائید کی گئی ہے جو ظہور سے پہلے واقع ہوں گے، جیسے رایة الیمانی، جسے روایات میں ہدایت یافتہ ترین پرچم کہا گیا ہے۔

(نجم‌الدین طبسی، تا ظهور، ج ۱، ص ۷۸)

امام خمینی رحمةالله‌علیہ ان روایات کے غلط استعمال کے جواب میں فرماتے ہیں:

«یہ احادیث عادلانہ خدائی حکومت کے قیام سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں… بلکہ ان میں یا تو علاماتِ ظہور کی خبر دی گئی ہے یا ان حکومتوں کی پیش گوئی ہے جو ظہور تک قائم رہیں گی اور اپنے فرائض پر عمل نہیں کریں گی…»

(کشف الاسرار، ص ۲۲۵)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

«وہ روایات اس شخص کے بارے میں ہیں جو مہدویت کے عنوان سے پرچم بلند کرے۔»

(صحیفۂ امام، ج ۲۱، ص ۱۴)

ظہور سے قبل قیام‌ کی ناکامی

بعض روایات میں ظہور سے پہلے کے قیام‌ کی ناکامی کا ذکر آیا ہے، جس سے بعض نے یہ نتیجہ نکالا کہ عصرِ غیبت میں اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش مشروع نہیں۔

امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

«وَاللَّهِ لایَخْرُجُ واحِدٌ مِنَّا قَبْلَ خُرُوجِ القائِمِ علیه‌السلام اِلاّ کانَ مَثَلُهُ مَثَلَ فَرْخٍ طارَ مِنْ وَکْرِهِ قَبْلَ اَنْ یَسْتَوِی جَناحاهُ…»

(الکافی، ج ۸، ص ۲۶۴)

خدا کی قسم! ہم میں سے کوئی قائم کے قیام سے پہلے خروج نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کی مثال اس چوزے جیسی ہے جو اپنے پروں کے مضبوط ہونے سے پہلے گھونسلے سے اڑان بھرے، پس بچے اسے پکڑ کر کھیل بنا لیتے ہیں۔

اس روایت سے قیام کی حرمت نہیں بلکہ کامیابی کی نفی مراد ہے۔ اگر اس سے قیام کی ممانعت سمجھی جائے تو امام حسین علیہ السلام، زید بن علی اور شہید فَخ جیسے قیام‌—جو بلا شک ائمہ علیہم السلام کے نزدیک قابلِ تائید تھے—بھی باطل قرار پائیں گے، جو قطعاً درست نہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے قیامِ زید کے بارے میں فرمایا:

«… وَ لَمْ یَدْعُکُمْ إِلَی نَفْسِهِ إِنَّمَا دَعَاکُمْ إِلَی الرِّضَا مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ علیهم السلام…»

(الکافی، ج ۸، ص ۲۶۴)

زید نے لوگوں کو اپنی ذات کی طرف نہیں بلایا بلکہ آلِ محمد علیہم السلام کی رضا کی طرف دعوت دی۔

مزید یہ کہ قیام کی ظاہری ناکامی، شرعی تکلیف کے نفی کی دلیل نہیں۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے جنگِ صفّین کے موقع پر فرمایا:

«اَلْتَمِسُ العُذْرَ بَینی وَ بَیْنَ اللَّهِ.»

(ابن شہر آشوب، المناقب، ج ۲، ص ۲۵۹)

میں اپنے اور خدا کے درمیان عذر قائم کرنا چاہتا ہوں۔

یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ مومن پر لازم ہے وہ اپنے فریضے پر عمل کرے، نتیجہ خدا کے سپرد ہے۔

سکوت اور گوشہ نشینی کا مسئلہ

بعض روایات میں بظاہر سکوت اور گھر بیٹھنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسے امام صادق علیہ السلام کا سدیر سے فرمان:

«یا سَدیرُ اِلْزَمْ بَیْتَکَ… فَاِذا بَلَغَکَ اَنَّ السُّفْیانِیَّ قَدْ خَرَجَ فَارْحَلْ اِلَیْنا…»

(الکافی، ج ۸، ص ۲۶۴)

لیکن ایسی ہدایات کا عمومی اطلاق ثابت کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ کسی خاص شخص یا خاص حالات سے مربوط نہیں تھیں، جو یہاں ثابت نہیں۔

نتیجہ

اگرچہ بعض روایات میں ظہور سے قبل بعض قیام‌ کی مذمت آئی ہے، لیکن کوئی بھی روایت عصرِ غیبت میں قیام اور حکومت کی مشروعیت کو کلی طور پر رد نہیں کرتی۔ بلکہ یہ روایات ان قیام‌ کو باطل قرار دیتی ہیں جو شرائطِ شرعی سے خالی ہوں یا نفسانی و فاسد مقاصد کے لیے انجام دیے جائیں۔

پس اگر کوئی قیام شرعی شرائط کے مطابق، عادل حاکم (فقیہ) کی نگرانی میں اور شریعت کے اہداف کے تحت انجام پائے، تو وہ حضرت مہدی عجل‌الله‌تعالی‌فرجه‌الشریف کے قیام کی تمہید اور زمینہ سازی شمار ہوگا؛ اور بعض مواقع پر تو اس کی کوشش واجب بھی ہو سکتی ہے۔

جاری ہے…

ماخوذ از: «درسنامۂ مهدویت»، تالیف خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha