حوزہ نیوز ایجنسی | اہلِ سنّت نے اپنی متعدد روایات میں عقیدہ مہدویت کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ اگرچہ بعض جزوی امور میں شیعہ نقطۂ نظر سے اختلاف نظر آتا ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں کے درمیان اہم اور بنیادی اشتراکات موجود ہیں۔
حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور و قیام کا حتمی ہونا
شیعہ اور اہلِ سنّت کے درمیان پہلا مسلم اور متفقہ نکتہ یہ ہے کہ حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کا ظہور اور قیام یقینی اور حتمی ہے۔ یہ عقیدہ دونوں کے نزدیک اعتقادی مسلمات میں شمار ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس موضوع پر دسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں روایات ان کے حدیثی مصادر میں موجود ہیں۔
حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کا نسب
ایک اور مشترک پہلو حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کا نسب ہے۔ شیعہ مکتبِ فکر نے اس نسب کو آپ کے والدِ گرامی تک پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، جبکہ اہلِ سنّت نے بھی متعدد مقامات پر اس کی طرف صراحت کے ساتھ اشارہ کیا ہے۔
حضرت امام مہدی اہلِ بیت اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے ہیں
ابنِ ماجہ نے اپنی سنن میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے:
«الْمَهْدِی مِنَّا أَهْلَ الْبَیتِ یصْلِحُهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِی لَیلَةٍ.»
(سنن ابن ماجہ، ج۲، ح۴۰۸۵)
ترجمہ: مہدی ہم اہلِ بیت میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کے امر کو درست فرما دے گا۔
اسی طرح رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«یخرج رجل من أهل بیتی عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ وَ ظُهُورٍ مِنَ الْفِتَن یکُونُ عَطَاؤُهُ حثیاً.»
(المصنف، ابن ابی شیبہ)
ترجمہ: زمانے کے اختتام اور فتنوں کے ظہور کے وقت میرے اہلِ بیت میں سے ایک مرد خروج کرے گا، جس کی بخشش بے حساب ہوگی۔
حضرت امام مہدی، حضرت علی علیہ السلام کی نسل سے
شیعہ اور سنّی روایات کا ایک اور مشترک نکتہ یہ ہے کہ حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف، حضرت علی علیہ السلام کی نسل سے ہوں گے۔ سیوطی نقل کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
«سیخرج من صلب هذا فتی یمْلأ الأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً.»
ترجمہ: اسی کی نسل سے ایک جوان خروج کرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
حضرت مہدی، حضرت فاطمہ علیهاالسلام کی اولاد میں سے
اہلِ سنّت کی متعدد معتبر روایات میں اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف، حضرت فاطمہ علیهاالسلام کی اولاد میں سے ہیں۔ امّ سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«الْمَهْدِی مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ.»
ترجمہ: مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے۔
حضرت مہدی کا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم نام ہونا
شیعہ اور اہلِ سنّت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کا نام، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ہوگا۔
ظہور کے لئے زمینہ فراہم کرنا
شیعہ اور اہلِ سنّت کے مصادر میں بعض سماجی حالات کو ظہور سے قبل کی مشترک علامات کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، جن میں خاص طور پر درج ذیل نکات شامل ہیں:
عوام کی شدید ناامیدی
جب معاشرہ ہر طرح کی نجات سے مایوس ہو جائے گا، اسی مرحلے پر ظہور کی بشارت دی گئی ہے۔
دنیا کا ظلم و جور سے بھر جانا
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«لَوْ لَمْ یبْقَ مِنَ الدُّنْیا إِلَّا یوْمٌ…»
ترجمہ: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ اسے طول دے گا، یہاں تک کہ میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔
ظہور کی نشانیاں:
آسمانی ندا
سفیانی کا خروج
خسف بیداء
نفسِ زکیہ کا قتل
یہ تمام علامات—تفصیلی اختلافات کے باوجود—شیعہ اور اہلِ سنّت دونوں کے مصادر میں کسی نہ کسی صورت میں بیان ہوئی ہیں۔
ظہور کے بعد کے امور
مکہ مکرمہ سے ظہور اور کعبہ کے پاس بیعت
فرشتوں کا نزول
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کی اقتدا
حکومتِ امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کی خصوصیات
عدل و انصاف کا عالمی قیام
عمومی رفاہ و آسائش
ہمہ گیر امن و امان
عوام میں احساسِ بے نیازی
تمام ادیان پر اسلام کا غلبہ
حکومت کا عالمی اور آفاقی ہونا
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«یکون فی امتی المهدی… تعیش امتی فی زمانه عیشاً لم تعشه قبل ذلک.»
ترجمہ: میری امت میں مہدی ہوں گے، اور لوگ ان کے زمانے میں ایسی زندگی بسر کریں گے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
آخر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کی جسمانی خصوصیات سے متعلق بھی شیعہ و سنّی مصادر میں متعدد مشترک روایات پائی جاتی ہیں۔
جاری ہے…
ماخوذ از: «درسنامۂ مهدویت»، تصنیف: خدامراد سلیمیان (مختصر تصرف کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ