پیر 2 فروری 2026 - 11:15
امامِ وقت کی پہچان؛ آج کے جوانوں کی اہم ذمہ داری: مولانا سید نقی مہدی زیدی

حوزہ/مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں امام جمعہ مولانا سید نقی مہدی زیدی کے توسط سے درس ہفتگی بعنوان" آشنائی با مہدویت" کا سلسلہ جاری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے روز ولادت باسعادت حضرت علی اکبر علیہ السلام کی مناسبت سے جوانی اور بصیرت کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: کربلا میں حضرت علی اکبرؑ نے صرف تلوار نہیں اٹھائی ،بصیرت اٹھائی۔ وہ جانتے تھے کہ سامنے کا لشکر زیادہ ہے، مگر سوال یہ تھا: "حق کہاں ہے؟" اور جب حق واضح ہو جائے، تو تعداد معنی نہیں رکھتی۔ ان کا مشہور جملہ: "اگر ہم حق پر ہیں، تو موت سے کیوں ڈریں؟"، آج کا جوان دراصل کربلا کے علی اکبرؑ کا تسلسل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: یومِ جوان اسی لئے منایا جاتا ہے کہ جوان نسل اپنی ذمہ داری سمجھے نہ صرف اپنی زندگی کے لئے، بلکہ امت کے مستقبل کے لئے۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: آج کے جوانوں کو چاہیے کہ وہ امامِ وقت کی پہچان رکھیں، وہ دشمن کے پروپیگنڈے سے دھوکا نہ کھائیں، وہ دین، عزت اور مستقبل کے لئے قربانی دینے کو تیار رہیں، وہ پڑھیں، سوچیں، سوال کریں، وہ علم کو ولایت اور اخلاق سے جوڑیں، وہ اپنی فیلڈ میں بہترین بنیں، مگر اپنی پہچان نہ بھولیں، وہ دشمن کی ثقافتی اور میڈیا جنگ کو علم سے شکست دیں۔

انہوں نے جوانی کی بہترین اور نایاب فرصت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: جوانی، ایک اہم اور پرخطر دور ہے کیونکہ طاقت اور قدرت اس دور میں غالب رہتا ہے۔ صلاحیتوں اور رجحانات کو کس سمت میں لے کر جانا ہے اسی حساب سے اس کا مثبت یا منفی اثر پڑتا ہے۔ جوانی انسان کے لئے اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "يَا أَبَا ذَرٍّ اغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ وَ صِحَّتَكَ قَبْلَ سُقْمِكَ وَ غِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ وَ فَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ وَ حَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ"، اے ابوذر! پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت شمار کرو: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، دولت کو غربت سے پہلے، سکون کو مصیبت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔

پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوانوں کے دل کی نرمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تمام لوگوں کو ان کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کی تلقین کی ہے، فرماتے ہیں: "اوصيكُمْ بِالشُّبّانِ خَيْرا فَاِنَّهُمْ اَرَقُّ اَفـْئِدَة"، میں آپ لوگوں کو جوانوں کے ساتھ نرمی برتنے کی سفارش کرتا ہوں، کیونکہ ان کا دل نرم ہوتا ہے۔

امام علی علیہ السلام کے نزدیک جوانی کی قدر اس کے کھونے سے ہی معلوم ہوتی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا: "شَیْئانِ لایَعْرِفُ فَضْلَهُما اِلّا مَنْ فَقَدَهمُا؛ اَلشبَّابُ وَالْعافِیةُ"، دو چیزیں ایسی ہیں جن کی قدر کوئی نہیں جانتا، جب تک کہ وہ ان کو کھو نہ دے: جوانی اور صحت۔ یہ بات بذات خود والدین اور مربی کی ذمہ داری کو بیان کرتی ہے کہ جوانوں کو عمر کے اس حصہ میں جوانی کی اہمیت اور فضیلت سے آشنا کریں کیونکہ جب تک اس کی اہمیت کا اندازہ اور علم نہ ہو تب تک انسان اس کی اہمیت اور قدر کو نہیں جانتا ہے اور زندگی کے اس اہم حصہ کو بیہودہ اور فضول کاموں میں صرف کردیتا ہے ۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے مزید کہا کہ: بعض روایات میں ائمہ معصومین علیہم السلام جوانوں سے چاہتے ہیں کہ وہ سیکھنے کا موقع ضائع نہ کریں، کیونکہ جوانی میں سیکھنے کی قیمت اور قدر کا موازنہ استحکام اور دوام کے لحاظ سے زندگی کے دوسرے ادوار سے نہیں کیا جا سکتا، سیکھنے کے اعتبار سے جو فرق جوانی اور بڑھاپے میں موجود ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "مَن تَعَلَّمَ فی شَبابِهِ کانَ بِمَنزِلَهِ الوَشمِ فِی الحَجَرِ، ومَن تَعَلَّمَ وهُوَ کَبیرٌ کانَ بِمَنزِلَهِ الکِتابِ عَلى وَجهِ الماءِ"، جو جوانی میں سیکھتا ہے اس کا علم پتھر پر کندہ کرنے جیسا ہے اور جو بڑا ہونے کے بعد سیکھتا ہے پانی پر لکھنے جیسا ہے۔

انہوں نے مذہبی تعلیمات اور جوانی کے حوالہ سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: مذہبی تعلیمات میں پاکیزگی کو جوانی کے دور کی خصوصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس قیمتی دور کو تزکیہ نفس اور تقرب الٰہی کے لئے استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ روایات کی رو سے جوانوں کو چاہئے کہ وہ بڑھاپے اور مختلف دلی لگاؤ سے پہلے خود کو اچھے اخلاق سے مزین کریں۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے: "فَضلُ الشّابِّ العابِدِ الذى تَعَبَّدَ فى صِباهُ على الشیخِ الذى تَعَبَّدَ بعدَ ما کبرَت سِنُّهُ کفَضلِ المُرسَلِینَ على سائرِ الناسِ"، ایک عابد جوان کی فضیلت جس نے جوانی میں بندگی کی راہ انتخاب کی ہو اس عمر رسیدہ عابد سے زیادہ ہے جو اپنی عمر گزارنے کے بعد بڑھاپے میں عبادت کی طرف متوجہ ہوا ہو، جس طرح خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسولوں کو دوسرے تمام لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے مزید کہا کہ: آیت اللہ العظمیٰ خمینی (رہ) جوانوں کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس روحی اور باطنی تصور کا اثر جوانی کے دنوں میں زیادہ بہتر حاصل ہوتا ہے، کیونکہ جوان دل نرم، سادہ اور زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے۔ امام خمینی رہ کی نظر میں جوانوں کا مقام بہت بلند ہے۔آپ جوانی کے ایام کو تزکیہ نفس کا بہترین موقع قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: جوانی کے دنوں میں قلبی اور باطنی تصور کا اثر زیادہ بہتر ہوتا ہے؛ کیونکہ جوان کا دل نرم اور سادہ ہوتا ہے اور اس کی پاکیزگی زیادہ ہوتی ہے۔ معصومین علیہم السلام سے نقل شدہ اسلامی روایات میں جوانی کی اہمیت بہت زیادہ بیان ہوئی ہے تاکہ انسان اس قیمتی اور انمول خدادادی نعمت کو بہتر طریقے سے درک کرتے ہوئے اس اہم دور سے بہترین استفادہ حاصل کرسکیں۔

استاد کلاس نے حضرت علی اکبر علیہ السلام کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت علی اکبر علیه السلام کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کافی خوبصورت، شیرین زبان پر کشش تھے، خلق و خوی، اٹھنا بیٹھنا، چال ڈال سب پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتا تھا، جس نے پیغبر اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا وہ اگر دور سے حضرت علی اکبر علیہ السلام کو دیکھ لیتا گمان کرتا تھا کہ خود پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اسی طرح شجاعت اور بہادری کو اپنے دادا امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے وراثت میں حاصل کی تھی اور جامع کمالات اور خصوصیات کے مالک تھے۔آپ صورت، کردار اور گفتار میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے مشابہ تھے امام حسین علیہ السلام فرماتے تھے: ہم جب بھی رسول اللہ کی زیارت کے مشتاق ہوتے تھے تو ہم علی اکبر کو دیکھتے تھے۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: حضرت علی اکبر علیہ السلام کا کربلا میں وہ ایک سوال، تاریخ گواہ ہے کہ بعض سوالات، تلواروں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؛ جناب علی اکبر علیہ السلام جیسے نوجوان کا کھڑے ہوکر پوچھنا: "کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ یہ سوال صرف امام حسین علیہ السلام سے نہیں تھا، یہ سوال ہر دور کے انسان سے تھا۔ اور امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا ہم‌حق پر نہ ہونگے تو کون ہوگا؟ تو جناب علی اکبر علیہ السلام نے وہ جملہ کہا جس نے بصیرت کو واضح کردیا "پھر ہمیں موت کی کوئی پرواہ نہیں"۔ یہ جملہ فقط جذبات نہیں، یہ کوئی نعرہ نہیں، منطق ہے، یہ شہادت ہے۔ یہ بصیرت ہے۔دنیا نے ہمیشہ اکثریت کو حق کا معیار بنایا، مگر حضرت علی اکبر علیہ السلام نے ہمیں بتایا کہ حق کو اکثریت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام نے ہمیں دکھایا کہ راہ حق پر چلنے والے بہت کم ہیں، مگر انہوں نے یہ بھی دکھایا کہ حق کم ہو کر بھی حق ہے۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے آخر کلاس میں جوانوں کا ظہور کی راہ ہموار کرنے میں کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: "أصحابُ المَهدِیِّ شَبابٌ لا کُهولٌ فیهِم إلاّ مِثلَ کُحلِ العَینِ وَالمِلحِ فِی الزّادِ وَأقَلُّ الزّادِ المِلحُ"، مہدی (عج) کے اصحاب جوان ہوں گے اور ان میں بوڑھے بہت کم ہوں گے جیسے آنکھ میں سرمہ اور زادِ راہ میں نمک اور زادِ راہ کا سب سے کم حصہ نمک ہوتا ہے۔

انہوں نے کلاس میں ایران کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انقلابِ اسلامی کی بنیاد ابتدا ہی سے مرجعیت اور رہبریت پر استوار رہی ہے۔ اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے دلوں میں مرجعیت کی گہری جڑیں ہیں، اور ہر شیعہ دل کی گہرائی سے اس سے وابستہ ہے اور اس کا احترام کرتا ہے، کیونکہ مرجعیت کو اہلِ بیت علیہم السلام کی نیابت اور نمائندگی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے اس مقدس مقام پر ہونے والا ہر حملہ ناقابلِ قبول ہے اور رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کی توہین ناقابل برداشت ہے۔

آخر میں مولانا سید نقی مھدی زیدی نے دعا کی کہ پروردگار عالم رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی حفاظت فرمائے، انہیں طولِ عمر اور عافیت عطا کرے، اسلام اور امتِ مسلمہ کو ان کے وجود سے مستفید رکھے، دشمنانِ اسلام کو نیست و نابود کرے اور اس مقدس اسلامی نظام کو قیامت تک دائم و قائم رکھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha