جمعرات 8 جنوری 2026 - 13:29
تاراگڑھ، اجمیر؛ راہِ اہل بیتؑ کا مجاہدِ کبیر، حضرت شہ میراں سید حسین خنگسوارؒ

حوزہ/ حضرت شہ میراں سید حسین خنگسوار رحمہ اللہ علیہ برصغیر کی اُن عظیم شہید و عارف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، عرفان، شجاعت اور راہِ خدا میں قربانی کے ذریعے ہند کی سرزمین پر توحید و ولایت کے چراغ روشن کیے اور اپنی شہادت سے تاریخ میں ابدی مقام حاصل کیا۔

تحریر: مولانا گلزار جعفری، تاراگڑھ، اجمیر

حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت شہ میراں، حضور پرنور سید حسین اصغر المعروف بہ حضرت میراں سید حسین خنگسوار مشہدی رحمہ اللہ علیہ، برصغیر ہند کی اُن عظیم اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، عرفان، شجاعت، ایثار اور شہادت کے ذریعے تاریخ کے صفحات پر انمٹ نقوش ثبت کیے۔

آپ کی ولادت ایک ایسے علمی و معنوی گھرانے میں ہوئی جو فضائل و کمالات کا مرقع تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ بی بی ہاجرہ رحمہا اللہ ایک باکمال اور دیندار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جبکہ آپ کے والد گرامی حضرت سید ابراہیم محدث رحمہ اللہ ایک جلیل القدر عالم، متقی اور مشہور محدث تھے، جنہیں علمِ روایت و درایت پر کامل دسترس حاصل تھی۔

جب بی بی ہاجرہ کے گلشنِ تمنا میں یہ نورانی گل کھلا تو گویا تاریخ کے افق پر ایک ایسا چاند طلوع ہوا جس کی تابانی میں کبھی خزاں کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو حضرت میراں سید حسین خنگسوار کہا گیا، اور آپ کی شجاعت و بہادری اپنے دور میں عالمِ عرب تک مشہور ہوئی۔

تاراگڑھ، اجمیر؛ راہِ اہل بیتؑ کا مجاہدِ کبیر، حضرت شہ میراں سید حسین خنگسوارؒ

القاب اور معنوی عظمت

حضرت شہ میراں رحمہ اللہ علیہ کے القاب اُن کے روحانی مقام اور عظمت کے آئینہ دار ہیں۔ یہ القاب مختلف اکابرین کی تصانیف، خصوصاً شوکتِ خنگسوار، شعاعِ خنگسوار اور گلدستۂ خنگسوار میں مذکور ہیں۔ ان القاب میں:

زبدة العارفین،قدوة السالکین،برہان الواصلین،تاج المقربین و المحققین،نورِ الٰہی،نبیرۂ حیدرِ کرارؑ،رشکِ مسیحا،تاجدارِ شہداء ہند،شہیدِ اعظم در ہند، خصوصی طور پر قابلِ توجہ ہیں۔

یہ القاب محض خطیبانہ تعبیرات نہیں بلکہ آپ کی عملی زندگی، مجاہدانہ کردار، روحانی تاثیر اور قربانیوں کا خلاصہ ہیں۔ آپ نے برصغیر کی سرزمین، خصوصاً راجستھان کے ریگزاروں میں عزاۓ حسینی کے چراغ روشن کیے اور اپنے آنسوؤں سے زمینِ مودّت کو سیراب کیا۔

شہادت اور ابدی پیغام

حضرت شہ میراں رحمہ اللہ علیہ نے عنفوانِ شباب میں، عین حالتِ نماز میں، راہِ خدا میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت صرف ایک فرد کی قربانی نہیں بلکہ ایک عہد، ایک پیغام اور ایک تحریک تھی، جس نے ہندوستان کی سرزمین پر توحید، ولایت اور مظلومیتِ اہل بیتؑ کے چراغ کو فروزاں رکھا۔

آج بھی آپ کا روضۂ اقدس مرجعِ خلائق ہے، جہاں بے شمار افراد روحانی سکون اور جسمانی شفا پاتے ہیں، اور یہ حقیقت آپ کے لقب رشکِ مسیحا کی روشن دلیل ہے۔

آپ کی شہادت کی تاریخ 18 رجب المرجب ہے۔ اس غمناک موقع پر ہم عالمِ اسلام کو تعزیت پیش کرتے ہیں اور بارگاہِ رب العزت میں دعا گو ہیں کہ ہمیں شہداء کی عظمت کو سمجھنے، ان کے راستے پر چلنے اور ان کے پیغام کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha