حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کے بعد حسب سابق امام حسن عسکری علیہ السّلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کی اور خواتین کے حقوق میں زوجہ کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شریک حیات کی مدد کرنے کے سلسلے میں رسول خدا صلیٰ اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: اے ابو الحسن مجھ سے سنو کہ میں وہی کہتا ہوں جس کا مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے اور وہ یہ کہ جو مرد بھی گھر میں اپنی عورت کی مدد کرتا ہے خدا کو اس کے بدن کے ایک ایک بال پر ایک سال کی نماز روزہ کا ثواب دیتا ہے اور اسے صابروں، داؤد، یعقوب اور عیسی علیہم السلام جیسا ثواب عطا کرتا ہے۔ اس حدیث میں عورت کی مدد دی کہ یہ تشویق اس بات کا سبب ہوتی ہے کہ مومن مرد اپنی شریک کی حیات کی مدد کرے اور اس پر حکمرانی کرنے سے پرہیز کرے رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے علی جو شخص گھر میں بیوی کی مدد کرتا ہے اور مدد کرنے سے کبیدہ خاطر نہیں ہوتا ہے خداوند عالم اس کا نام شہیدوں کی فہرست میں لکھتا ہے اور ہر شب و روز میں اسے ہزار شہیدوں کا ثواب عطا کرتا ہے اس کے ہر قدم پر ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں اتنے ہی شہر بناتا ہے جتنی اس کے بدن میں رگیں ہیں، رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے علی شریک حیات کی مدد کرنا بڑے گناہوں کا کفارہ ہے اور پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور یہ جنت کی حوروں کا مہر بن جاتا ہے اور حسنات و درجات میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔
حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے ماہ رجب المرجب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حدیث قدسی میں ارشاد پروردگار ہے کہ:"جَعَلتُ هذَا الشَّهرَ (رَجَبَ) حَبلاً بَینی و بَینَ عِبادی فَمَنِ اعتَصَمَ بِهِ وَصَلَ بِی"،میں نے ماہ رجب کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان رسی قرار دیا ہے۔ جو اس رسی کو تھامے رکھے گا وہ مجھ تک پہنچ جائے گا، نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"رَجَبُ شَہْرُ اللّٰہِ وَشَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ شَہْرُ أُمَّتِی"، رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں "رجب کا مہینہ ایک عظیم مہینہ ہے، اس میں (اجروثواب) حسنات کئی گنا ہوتے ہیں اور گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھے، جہنم کی آگ ایک سو سال تک دور ہوتی ہے اور جو تین دن روزہ رکھے، اس کے لئے بہشت واجب ہوتی ہے"۔
انہوں نے ماہِ رجب کی دعاؤں پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ اس مہینے میں نہایت بلند اور گہرے مضامین والی دعائیں موجود ہیں، خصوصاً نمازوں کے بعد پڑھی جانے والی دعائیں، جن میں “یا من أرجوه لکل خیر” جیسی دعا شامل ہے۔ اگر روزانہ سب کچھ ممکن نہ ہو تو کم از کم انہیں بالکل ترک نہ کیا جائے۔
خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کے بیان کے مطابق ماہِ رجب ایک قیمتی موقع ہے؛ یہ دعا، توسل، توجہ اور استغفار کا مہینہ ہے۔ انسان کو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ استغفار سے بے نیاز ہے۔ پیغمبرِ اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم روزانہ کم از کم ستر مرتبہ استغفار فرمایا کرتے تھے، خصوصاً آج کے دور میں، جب انسان دنیاوی مشغولیات میں گھرا ہوا ہے، استغفار دل و روح کی آلودگیوں کو پاک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
انہوں نے مزید بیان کیا کہ ماہِ رجب کی دعائیں، جو ائمہ اطہار (علیہم السلام) سے منقول ہیں، جب انسان ان پر غور کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ان کا زیادہ تر تعلق توحید کے پہلو سے ہے۔ یہ دعائیں ہمیں اللہ کی عظمت، اس کی صفات اور اس کے جلال کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ انسان کو اس بات کی تعلیم دیتی ہیں کہ وہ اپنی حقیقت کو اللہ کی عظمت کے سامنے پہچانے، اپنے پروردگار کی طرف جانے والے روشن راستے کو پہچانے اور اس راستے کی طرف دل میں رغبت پیدا کرے۔ ماہِ رجب کی دعاؤں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو توحید کی طرف متوجہ کرتی ہیں، اللہ کے اسماء و صفات پر غور کرنے کی ترغیب دیتی ہیں اور انسان کے دل کو اللہ کے ذکر سے قریب کرتی ہیں۔ یہ مہینہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے کے آغاز کو امام محمد باقر علیہ السلام کی ولادت سے برکت ملی ہے، اور اس کے اختتام کو تاریخ کی سب سے بڑی نعمت سے متبرک کیا گیا ہے، یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت۔
حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے ١٣ رجب المرجب ولادت باسعادت امیرالمؤمنین مولیٰ الموحدین حضرت علی علیہ السلام کے حوالہ سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ کعبہ وہ سب سے پہلا محترم و مقدس گھر ہے جسے لوگوں کے لئے پربرکت اور عالمین کے لئے ھدایت قرار دیا گیا ہے اور حضرت علی علیہ السلام وہ سب سے پہلے اور سب سے آخری انسان کامل ہیں جنھیں رب کعبہ نے جوف کعبہ میں پیدا فرمایا ہے، حضرت امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب علیہما السلام کا جوف کعبہ میں ولادت پانا، ایک ایسی عظیم حقیقت و واقعیت ہے کہ جسے شیعہ و سنی دونوں نے روائی و تاریخی کتابوں میں" تواتر" کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی روائی و حدیثی کتاب علل الشرایع، معانی الاخبار اور الامالی جیسی کتب میں یزید ابن قعنب سے روایت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: فاطمہ بنت اسد کعبہ کے نزدیک تھیں کہ درد زہ میں مبتلا ہوئیں اور اس وقت انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ: اس امر کو مجھ پر آسان فرما، اسی وقت پشت سے کعبہ کی دیوار شگافتہ ہوئی، وہ کعبہ میں داخل ہوئیں اور دیوار پھر بند ہوگئی۔
حافظ گنجی شافعی نے كفايةالطالب في مناقب علي بن أبيطالب عليهالسلام میں لکھا ہے:"امیر المومنین علی ابن ابی طالب بیت اللہ الحرام مکہ میں شب جمعہ ١٣ رجب ٣٠ عام الفیل میں پیدا ہوئےاور آپ سے پہلے اور بعد کوئی اس میں پیدا نہیں ہوا ، یہ آپ کی خصوصی فضیلت ہے جو اللہ نے آپ کو آپ کے عظیم مقام کا اجلال و اکرام کرتے ہوئے عطا فرمائی ہے"۔
حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ شخصیت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ ایک بیان میں فرماتے ہیں کہ "امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام صرف شیعوں یا مسلمانوں ہی کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک الٰہی تحفہ ہیں۔ آپؑ کی عظمت کے سامنے ہر صاحبِ بصیرت سرِ تعظیم خم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کے مدّاحوں میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر ادیان کے پیروکار بھی شامل ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپؑ کی عظمت کو چھپانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، مگر سورج کی روشنی کو کب چھپایا جا سکا ہے؟ حضرت علیؑ کی حیاتِ طیبہ ایک گہرے سمندر کی مانند ہے، جس کی وسعت اور گہرائی کا ادراک وہی کر سکتا ہے جو اس میں غوطہ زن ہو۔ ہمیں آپؑ کی ذات میں شجاعت، عبادت، عدل، سخاوت، ایثار، مظلوم نوازی، ظلم کے خلاف بے باکی، اور انسانی نفسیات کی گہری سمجھ جیسے بے شمار اوصاف نظر آتے ہیں۔
امام جمعہ تاراگڑھ نے مزید کہا کہ انسانیت کے لیے علوی پیغام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: حضرت علی علیہ السلام کا پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ لوگ یا تو دین میں تمہارے بھائی ہیں یا انسانیت میں تمہارے جیسے۔ یہ جملہ علوی فکر کی عالمگیریت کو ظاہر کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ