ہفتہ 7 فروری 2026 - 08:00
مناجات شعبانیہ؛ معرفتِ الٰہی کا سمندر: مولانا سید نقی مہدی زیدی

حوزہ/خطیبِ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان نے مناجات شعبانیہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مناجات شعبانیہ کے تمام جملے، ابتدا سے انتہا تک، معرفتِ الٰہی کے سمندر کی مانند ہیں۔ یہ مناجات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ اللہ سے کس طرح بات کریں اور اللہ سے کیا مانگیں؟

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کے بعد حسب سابق امام حسن عسکری علیہ السّلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کی اور خواتین کے حقوق کا بیان کرنے کے بعد ماہِ شعبان المعظم کی عظمت و منزلت بیان کی اور ماہِ شعبان کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ شعبان ایک نہایت بابرکت مہینہ ہے جو رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صلواتِ شعبانیہ میں بھی اس مہینے کی فضیلت کا ذکر آیا ہے، جیساکہ اس جملے میں ہے کہ "الذی حَفَفْتَہٗ مِنْكَ بِالرَّحْمَۃِ وَالرِّضْوَانِ" یعنی تو نے مجھے اس مہینہ میں اپنی رحمت اور رضوان سے ڈھانپ لیا ہے، انسان کا سب سے بلند مقام "رضوان" یعنی اللہ کی کامل رضا حاصل کرنا ہے، جو یقین سے بھی بالاتر ہے اور مختلف دعاؤں میں بھی اس مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس مہینے میں انسان دعا اور عبادت کے ذریعہ اس بلند درجے کو حاصل کر سکتا ہے۔

خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے مناجاتِ شعبانیہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مناجات شعبانیہ امام علی‌ علیہ السلام سے منقول وہ مناجات ہے جو امام المتقین حضرت علی علیہ السلام ماہ شعبان المعظم میں اپنے رب کے سامنے بیان کیا کرتے تھے اور احادیث کے مطابق آپؑ کے بعد باقی تمام ائمہ معصومین علیہم السلام شعبان کے مہینے میں پابندی سے یہ مناجات پڑھا کرتے تھے، انسان اس مناجات کے ذریعے اسلام میں دعا اور مناجات کی اہمیت اور عظمت سے واقف ہوتا ہے۔ ان مناجات کے ذریعے نہ صرف خدا کی معرفت اور خدا سے عشق و محبت پر مبنی راز و نیاز کر سکتا ہے بلکہ ان کے اندر چھپے عظیم علمی معارف سے بھی فیض یاب ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مناجات اور دعا کے فرق کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ مناجات اور دعا میں فرق یہ ہے کہ دعا میں پکارا جاتا ہے جبکہ نزدیک والے سے انسان نجویٰ، سرگوشی اور مناجات کرتا ہے۔
وَتَعْلَمُ ما في نَفْسي:
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے ۔
وَتَخْبُرُ حاجَتي
اور میرے دل کی حالت اور حاجت سے بھی باخبر ہے اور تو میرے ضمیر کی حالت بھی جانتا ہے۔
وَلا يَخْفى عَلَيْكَ اَمْرُ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ
اس جملہ کی دو طرح کے ترجمے ہوے ہیں تیرا امر پوشیدہ نہیں ہے ، نہ میرا آج کا حال پوشیدہ ہے اور نہ میرا کل کا حال پوشیدہ ہے، نہ میری دنیا کا حال پوشیدہ ہے اورنہ میری آخرت کا حال پوشیدہ ہےتو جانتا ہے کہ اس دنیا میں میرے ساتھ کیا ہوگا اور آخرت میں میرے ساتھ کیا ہوگا، یا میں ابھی کیا ہوں اور آئندہ کیا ہوں گا ان سب باتوں کا تجھے علم ہے۔
وَما اُريدُ اَنْ اُبْدِئَ بِهِ مِنْ مَنْطِقي، واَتَفَوَّهُ بِهِ مِنْ طَلِبَتي
اور جو حاجت میری زبان پر آنے والی ہے ابھی تک وہ میری زبان پہ نہیں آئی کہ اسے میری لبوں پہ آنے سے پہلے تو جانتا ہے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای حفظہ اللہ مناجات شعبانیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بار آیت اللہ خمینی اعلیٰ اللّہ مقامہ سے پوچھا کہ تمام ماثورہ دعاؤں میں سے آپ کو کون سی دعا سب سے زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے فرمایا: دعائے کمیل اور مناجات شعبانیہ۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ دونوں دعائیں ماہ شعبان سے تعلق رکھتی ہیں اور ان دونوں دعاؤں کا لہجہ و اسلوب ایک جیسا ہے دونوں ہی عاشقانہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مناجات شعبانیہ کے تمام جملے، ابتدا سے انتہا تک، معرفت الٰہی کے سمندر کی مانند ہیں۔ یہ مناجات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ اللہ سے کس طرح بات کریں اور اللہ سے کیا مانگیں: "اِلهی هَب لی قَلبًا یدنیهِ مِنک شَوقُهُ وَ لِسانًا یرفَعُ اِلَیک صِدقُهُ وَ نَظَرًا ‌یقَرِّبُهُ مِنک حَقُّه"، اللہ مجھے ایسا دل عطا کر جس میں تیرا شوق اس حد تک ہو کہ وہ تجھ سے قریب ہو جائے۔ یہ شوق دل میں موجود ہونا چاہیے۔ مادیات کی آلودگی، گناہوں کی کثافت، لالچ اور حرص کی مختلف شکلیں اس شوق کو دل میں مار دیتی ہیں۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ مناجات شعبانیہ رمضان المبارک کا مقدمہ ہے، آیت اللہ العظمیٰ خمینی اعلیٰ اللّہ مقامہ فرماتے ہیں کہ مناجات شعبانیہ رمضان المبارک کا مقدمہ ہے ہم اس مناجات کے ذریعہ رمضان المبارک کے لئے آمادہ ہوتے ہیں یہی وہ مناجات اور دعائیں جن کے ذریعہ علماء کرام حقیقت تک پہنچے ہیں انہی دعاوں کے ذریعہ عرفاء اپنی منزل تک پہنچتے ہیں یہی دعائیں ہمارا بہترین اسلحہ ہیں جن کے زریعہ ہم ہر مشکل کو آسان کو بنا سکتے ہیں مؤمن کے پاس دعا سے بڑھ کر کوئی اسلحہ نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha