حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گناہ محض انسان اور اس کے پروردگار کے درمیان ایک پوشیدہ عمل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اثرات ولیِ زمانہ عجلاللہفرجہ کے قلب پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ وہ امام جو رات کی تنہائی میں اپنے شیعوں کے لیے استغفار کرتا یے، بعض مواقع پر انہی کے اعمال کی وجہ سے شدید رنج و الم کا شکار ہو جاتا ہے۔
معروف عالمِ دین مرحوم علامہ محمدتقی مصباح یزدی نے اپنے ایک خطاب میں ’’ہمارے گناہوں اور امامِ زمانہ علیہ السلام کے درمیان تعلق‘‘ کے موضوع پر نہایت درد انگیز اور بیدار کن گفتگو فرمائی ہے، جسے قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
علامہ مصباح یزدی فرماتے ہیں کہ بسا اوقات انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اس کا گناہ صرف اس کے اور خدا کے درمیان ہے، مگر وہ اس حقیقت سے غافل رہتا ہے کہ اس کے عمل سے امام زمانہ کا دل بھی لرز اٹھتا ہے؛ وہ امام جو شب و روز اپنے شیعوں کے لیے دعا اور استغفار کرتا ہے۔
ان کے مطابق، ہم اس حقیقت سے غافل ہیں کہ ہمارے بعض اعمال جب امامِ زمانہ عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں تو حضرت کو سخت رنج پہنچاتے ہیں۔
علامہ مصباح یزدی بیان کرتے ہیں کہ بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن سے امامِ زمانہ عجلاللہفرجہ متاثر ہو کر ہمارے لیے استغفار فرماتے ہیں، لیکن کچھ اعمال ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس قدر دل خراش ہوتے ہیں کہ وہ خود بھی یہ بیان کرنے سے قاصر ہیں کہ اس موقع پر امام کا ردِ عمل کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے نہایت درد بھرے انداز میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ بعض اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے تیر مار کر امامِ زمانہ عجلاللہفرجہ کے قلبِ مقدس کو زخمی کر دیا ہو۔
ماخذ:
علامہ محمدتقی مصباح یزدی، بیان، 10؍ مہر 1393ھ ش









آپ کا تبصرہ