تحریر: سید وجیہہ حیدر
حوزہ نیوز ایجنسی| شعبان بہت خوشی کا مہینہ ہے اور 15 شعبان تو جیسے عید کا دن ہے مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہر سال 15 شعبان تو آتی ہے اور ہم 15 شعبان بہت جوش و خروش سے مناتے یے مگر ہر سال یہ دن آ کر گزر جاتا ہے مگر امام عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کیوں نہیں آتے؟
کیا یہ واقعی میں سوچنے کی بات نہیں ہے کہ ہم ہر سال امام عج کو اریضہ کی شکل میں خطوط لکھتے ہے ، اتنی دعائیں کرتے ہے اور العجل کی صداءی بلند کرتے ہے مگر پھر بھی امام عج ابھی تک کیوں نہیں آئے ؟
حالانکہ امام عج تو حجت خدا ہے اور وہ اپنی حجت کے تحت ہم مظلوموں، بے کسوں کی فریاد کو سنتے ہے اور غیبت میں ہمارے لیے دعا بھی کرتے ہے اور ہماری کوتاہیوں پر گریہ و زاری کر کے خدا سے ہمارے لیے سفارش کرتے ہے امام عج تو ہم سے اتنی محبت کرتے ہے مگر کیا ہم امام عج سے ویسی ہی عزم و عقیدت رکھتے ہے کہ ہم سپاہ صحابہ میں شامل ہو سکیں؟
کیا ہم نے وہ گناہ چھوڑ دیئے ہے جو جس سے امام عج کے ظہور میں تاخیر ہو رہی ہے؟
کیا ہم اپنے آپ کو اس غیبت میں تیار کر رہے ہے؟
کیا ہم وہ اعمال انجام دے رہے ہیں جس سے ہم اس غیبت کے دور میں امام عج کی نصرت کر سکیں ؟
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ امام عج کو کس چیز کی ضرورت ہے؟
امام عج کو ہماری دولت، شہرت یا ہماری زبانی محبت کی ضرورت نہیں ہے اگر امام عج کو کسی چیز کی ضرورت ہے وہ ہے ایک بدلتا ہوا دل وہ دل جو تاریکی کو چھوڑ کر اجالے کی طرف آیے.
وہ دل جو رات کی تنہائی میں صرف ان کے لیے دھڑکے، ان کی تنہائی کو محسوس کرنے کی کوشش کریں اور ہمارے امام عج کو ہمارے اعمال سے کا قدر رنج پہنچتا ہے اس کا اندازہ لگانے کی کوشش کرے۔
ایسا دل جو خواہشوں کے مقابل ان کی رضا کو ترجیح دے اور جو دنیا کی چمک دمک میں بھی ان کو نہ بھولے، بلکہ اپنی چمک دمک میں اپنے زمانہ کے امام عج کو تلاش کرے۔
امام کی ضرورت ہم سے بڑے بڑے کام نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے سچے قدم ہیں مثلاً عفو درگزر کرنا، محبت سے پیش آنا ، عجز و انکساری سے کام لینا ،۔ انسانیت کی خدمت کرنا یہی وہ اعمال ہیں جن سے ہمارے امام عج خوش ہوتے ہیں۔
انھیں ہمارے آنسو عزیز ہیں لیکن وہ آنسو جو گناہ چھوڑنے کی نیت سے بہائے جائیں۔ انھیں ہماری دعائیں پسند ہیں مگر وہ دعائیں جو زبان سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اٹھیں۔
امام چاہتے ہیں کہ ان کے ماننے والے صرف نام کے شیعہ نہ بنیں بلکہ کردار میں بھی ان کے سپاہی بنیں۔ ایسے سپاہی جو ظلم کے مقابلے میں خاموش نہ رہیں جو اپنے کردار سے لوگوں کو دین کی جانب بلائیں، جودوسروں کے دلوں میں نور اور امید جگائیں۔
اصل میں امام عج کو ضرورت ہماری اصلاح ہماری بیداری اور ہماری سچی وفاداری کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جب وہ ظہور کریں تو انھیں ایک ایسی امت ملے جو ٹوٹی ہوئی نہ ہو بلکہ مظبوط باکردار پاک دل ہو ۔
آج کا نوجوان امام زمانہ عج سے وفاداری کا بہت دعویدار ہے ۔
دعویٰ بہت عمل صفر
آج کا انسان کہتا ہےمیں امام زمانہ عج کو مانتا ہوں جلوس میں نعرہ لگاتا ہےاسٹیٹس میں لکھتا ہے.
يا صاحب الزمان ادرکنی "مگر جب نماز کا وقت آتا ہے.
تو کہتا ہے بعد میں... ابھی مصروف ہوں جب گناہ سامنے آتا ہے تو کہتا ہے اللہ معاف کرنے والا یہی وہ مقام ہے جہاں دعوى ختم اور امتحان شروع ہوتا ہے۔
امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں: جو شخص ہمارے امر کا دعویٰ کرے۔
مگر ہمارے طریقے پر نہ چلے وہ ہم میں سے نہیں؛ (مفہوم اصول کافی باب علامات المؤمن یعنی محبت کا دعویٰ کافی نہیں انتظار کا نعرہ کافی نہیں کربلا سے مہدی تک یہ ہی اصول امام حسین ع کے زمانے میں بھی لوگ تھے خط لکھنے والے دعوے دار مگر جب نماز قربانی اور خطرہ آیا تو پیچھے ہٹ گئے۔ اسی لیے امام حسین ع کے ساتھ صرف72 کردار بچے امام زمانہ علیہ السلام فرماتے ہیں.
ہم اپنے شیعوں کی خبر رکھتے ہیں کوئی چیز ہمیں ان سے غافل نہیں کرتی مگر ان کے اعمال ہی ہم سے دوری کا سبب بنتے ہیں ۔
یعنی امام عج ہمیں دیکھ رہے ہیں.نعرے لگانے والے ہزاروں تھے۔امام عج ہمیں دیکھ رہے
مگر عمل نہ ہو تو قرب نہیں آج کے انسانوں کے لیے کڑوی سچائی ہے
اگرنماز بوجھ لگتی ہےگناہ نارمل لگتا ہےحلال و حرام میں فرق نہیں لگتا
تو سچ سن لو یہ انتظار نہیں، خود فریبی ہے۔
امام زمانہ ع کو نعرے نہیں چاہیں: امام زمانہ ع کو
آن لائن محبت نہیں چاہیے اسٹیٹس والی وفاداری نہیں
چاہیےوہ انسان جو اکیلا ہو تب بھی گناہ چھوڑ دے
وہ انسان جو نماز کو ترجیح دے
وہ انسان جو یزیدی ماحول میں حسینی کردار بنے
انسان کے لیے فیصلہ کن سوال ہے خود سے پوچھو
اگر امام زمانہ عج آج آ جائیں تو کیا میری زندگی
ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے قابل ہے؟
اگر جواب "نہیں" ہےتو مایوس نہ ہو
بس دعوی کم اور عمل شروع کر دو۔
اٹھو دل کو جگاؤ امام (عج) تمہیں پکار رہے ہیں۔
اے انسانوں! تم سوئے نہیں بلکہ تمہیں غفلت نے گھیر لیا ہے۔ تمہارے اندر ایک روشنی ہے، ایک چنگاری ہے جو اگر بھڑک اٹھے تو ظلمت کے اندھیروں کو مٹا سکتی ہے۔
تم وہ نسل ہو جسے امام زمانہ عج نے اپنی نصرت کے لیے چنا ہے۔ تمہارے قدم اگر راہ حق میں اٹھیں تو زمین پر عدل قائم ہو سکتا ہے۔
اٹھو دل کو جگاؤ، خوابوں سے حقیقت کی طرف آو۔ یہ وقت نیند کا نہیں بلکہ یہ وقت پہچان کا ہے۔ تمہارا ہر سانس ہر سوچ ہر قدم امام عج کی فوج میں شامل ہو سکتا ہے اگر تم اسے مقصد کے ساتھ استعمال کرو۔ سو دنیا تمہیں بہلانے کی کوشش کرے گی۔ تمہیں تمہارے رب تمہارے امام عج اور تمہارے مقصد سے دور کرنے کی کوشش کرے گی مگر تمہیں وہی رہنا ہے جو امام چاھتے ہیں پاک مظبوط با ایمان اور بیدار تمہیں اپنے ساتھ جنگ لڑنی ہے۔
یاد رکھو! امام عج تمہیں پکار رہے ہیں:
اے میرے نوجوان میں تمہیں چاہتا ہوں، میں تمہارے انتظار میں ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ کب تم اپنی نیند سے بیدار ہو کر ظلم کے مقابلے میں علم اور ایمان کا پرچم اٹھاؤ گے۔ اپنے اندر کے خوف کو مار دو اپنے ارادے کو زندہ رکھو۔ اپنے دل میں امام عج کی محبت کو اتنا گہرا کر دو کہ دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نہ بدل سکے۔
خدا جشن ولادت با سعادت امام مھدی عج کے اس پر مصرت موقع پر ہمیں کردار حسینی، افکار بیداری حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں امام عج کے جانثاروں میں شمار فرمائے۔
آمین









آپ کا تبصرہ