تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی|
شبِ ولادتِ منجیِ عالم، امامِ زمانہؑ — امید، انتظار اور انقلاب کی رات
پندرہ شعبانُ المعظم اسلامی تاریخ کی وہ عظیم، نورانی اور بابرکت رات ہے جس نے انسانیت کو نااُمیدی کے اندھیروں سے نکال کر امید، عدل، انصاف اور نجات کا پیغام دیا۔ یہ رات کسی عام شخصیت کی یاد میں نہیں، بلکہ اس ہستی کی ولادت کی رات ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے زمین کو ظلم و جور سے پاک کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ یہ رات حضرت امام محمد بن الحسن العسکریؑ—یعنی امام مہدیؑ، امامِ زمانہؑ، قائمِ آلِ محمدؐ—کی ولادت باسعادت کی رات ہے۔
امام مہدیؑ کون ہیں؟
حضرت امام مہدیؑ، اہلِ بیتِ اطہارؑ کے بارہویں امام ہیں۔ آپؑ کے والد گرامی حضرت امام حسن عسکریؑ اور والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتونؑ ہیں۔ آپؑ کی ولادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری کو سامرہ میں ہوئی۔ یہ وہ ولادت ہے جسے اللہ نے دشمنوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا، کیونکہ یہ بچہ مستقبل میں ظالم نظاموں کے خاتمے کا سبب بننے والا تھا۔
پندرہ شعبان کن کے لیے منائی جاتی ہے؟
پندرہ شعبانُ المعظم صرف اور صرف امام مہدیؑ کے لیے منائی جاتی ہے۔
یہ رات:
امامِ زمانہؑ کی ولادت کی خوشی کی رات ہے۔
انتظارِ فرج کی تجدید کا دن ہے۔
ظلم کے خلاف بغاوتِ ایمانی کا اعلان ہے۔
عدلِ الٰہی کے عالمی نظام کی امید ہے۔
اہلِ تشیع کے نزدیک یہ رات شبِ برات نہیں، بلکہ شبِ ولادتِ حجتِ خداؑ ہے۔ ہاں، عبادت، دعا، مغفرت، رحمت اور فضل ضرور ہے، لیکن اس رات کی اصل پہچان امام مہدیؑ ہیں۔
قرآن کی روشنی میں امام مہدیؑ
قرآنِ کریم میں متعدد آیات ایسی ہیں جو عدلِ آخرالزمان اور وارثانِ زمین کی خبر دیتی ہیں:
﴿وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴾(سورۃ القصص: 5)
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ ایک وقت آئے گا جب:
مظلوم وارث بنیں گے۔
مستضعف امام بنیں گے۔
اور زمین عدل سے بھر دی جائے گی۔
یہ وعدہ امام مہدیؑ کے ظہور کے ذریعے پورا ہوگا۔
غیبت کا فلسفہ
امام مہدیؑ زندہ ہیں، مگر غیبت میں ہیں۔
غیبت:
امتحانِ ایمان ہے۔
انتظارِ شعوری کی دعوت ہے۔
ذمہ داری سے فرار نہیں، بلکہ ذمہ داری کا بوجھ ہے۔
غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ امامؑ ہماری زندگی سے غائب ہیں، بلکہ وہ ہماری دعاؤں کو سنتے ہیں
ہمارے اعمال کو دیکھتے ہیں اور ہمارے کردار کے منتظر ہیں۔
انتظارِ امامؑ — خاموشی نہیں، انقلاب ہے۔
انتظار صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نام نہیں۔
انتظار:
ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
باطل سے سمجھوتہ نہ کرنا ہے۔
حق کی حمایت کرنا ہے۔
دین کی حفاظت کرنا ہے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:"جو شخص ہمارے قائمؑ کے ظہور کا انتظار کرے، وہ ایسا ہے جیسے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو۔"
پس پندرہ شعبان سست عبادت کی رات نہیں بلکہ زندہ ضمیر، بیدار روح اور انقلابی فکر کی رات ہے۔
پندرہ شعبان اور آج کا دور
آج
فلسطین جل رہا ہے۔
کشمیر سسک رہا ہے۔
یمن، لبنان، عراق، ایران، افغانستان مظلومیت کی داستان ہیں۔
یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ دنیا کو امام مہدیؑ کی ضرورت ہے۔
پندرہ شعبان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نجات فرد سے نہیں، نظام سے آئے گی۔ اصلاح جزوی نہیں، عالمی ہوگی۔
قیادت انسانوں کی نہیں، خدا کے حجتؑ کی ہوگی۔
پندرہ شعبان کی عبادات
اس رات:
خوشی منائی جاتی ہے۔
چراغاں کیا جاتا ہے۔
نیاز تقسیم کی جاتی ہے۔
صدقہ دیا جاتا ہے۔ دعائے کمیل، دعائے ندبہ اور زیارتِ امام زمانہؑ پڑھی جاتی ہے۔
خصوصی دعا:
اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَج
یہ دعا صرف زبان سے نہیں، زندگی کے عمل سے ہونی چاہیے۔
خواتین اور انتظارِ امامؑ
عورت:
امام مہدیؑ کے لشکر کی معمار ہے۔
نسلِ منتظر کی تربیت کرنے والی ہے۔
حیا، بصیرت اور ایمان کی علمبردار ہے۔
حضرت نرجسؑ، حضرت زینبؑ اور حضرت فاطمہؑ ہمارے لیے نمونہ ہیں۔
پندرہ شعبان — عہدِ وفا
پندرہ شعبان ہمیں کہتی ہے:
ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
ہم ظالم کے ساتھ نہیں ہوں گے۔
ہم امامؑ کے منتظر ہیں، غافل نہیں۔
یہ رات:
ولایت سے وفاداری، باطل سے بیزاری، اور ظہور کے لیے آمادگی کی رات ہے۔
نتیجہ
پندرہ شعبانُ المعظم:
کسی رسم کا نام نہیں۔
کسی تہوار کی حد تک محدود نہیں۔
بلکہ انسانیت کے مستقبل کا اعلان ہے۔
یہ رات:
امام مہدیؑ کے لیے منائی جاتی ہے۔
ان کے انتظار کے لیے منائی جاتی ہے۔
ان کے عالمی انقلاب کے لیے منائی جاتی ہے۔
اللہ ہمیں:
سچے منتظرین میں شامل فرمائے۔
امامؑ کے ظہور کے لیے تیار کرے۔
اور ہمارے اعمال کو امامؑ کی خوشنودی کا سبب بنائے۔
آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ