تحریر: مولانا فرمان علی سعیدی شگری
حوزہ نیوز ایجنسی I آج کی دنیا تیزی سے “عالمی شدن” کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، سرحدیں کمزور پڑ رہی ہیں اور انسان ایک دوسرے کے قریب آ رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لے رہا ہے: کیا یہ عالمی قربت انسانیت کے لیے امن اور عدل لائے گی، یا طاقت ور اقوام کے غلبے اور نئے استحصال کی صورت اختیار کرے گی؟
اسی سوال کے تناظر میں “عالمی شدن” اور “عالمی سازی” کے فرق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ عالمی شدن ایک فطری اور تدریجی عمل ہے، جس میں انسانی معاشرے تاریخی ارتقا کے نتیجے میں ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ جبکہ عالمی سازی ایک منصوبہ بند سیاسی و تہذیبی کوشش ہے، جس کے ذریعے مغرب اپنی معاشی، فکری اور ثقافتی بالادستی کو پوری دنیا پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔
مغرب کا دعویٰ: تاریخ کا خاتمہ؟
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی مفکر فرانسس فوکو یاما نے یہ دعویٰ کیا کہ لبرل جمہوریت انسانی تاریخ کا آخری مرحلہ ہے اور اب انسانیت کسی نئے نظریے کی محتاج نہیں رہی۔ لیکن عملی حقائق نے اس نظریے کو جلد ہی مشکوک بنا دیا۔
اگر واقعی تاریخ ختم ہو چکی ہوتی تو دنیا بڑھتی ہوئی جنگوں، معاشی عدم مساوات، اخلاقی زوال اور انسانی بحرانوں کا شکار نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کو سہولت تو دی، مگر سکون، انصاف اور معنویت فراہم نہ کر سکا۔
تہذیبوں کا تصادم یا فکری دیوالیہ پن؟
اسی طرح مغربی مفکر سیموئل ہنٹنگٹن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مستقبل کی دنیا تہذیبوں کے تصادم پر مبنی ہوگی، اور خاص طور پر اسلام اور مغرب آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ نظریہ دراصل مغرب کے خوف اور عدمِ برداشت کی علامت ہے، کیونکہ وہ مختلف تہذیبوں کے باہمی احترام اور اخلاقی اشتراک کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔
اسلام تصادم کا نہیں، بلکہ عدل، اخلاق اور وحدتِ انسانی کا پیغام دیتا ہے۔
قرآن کی نظر میں عالمی مستقبل
قرآنِ کریم انسانیت کے مستقبل کو مایوسی یا تصادم سے تعبیر نہیں کرتا، بلکہ ایک ایسے عالمی دور کی بشارت دیتا ہے جس میں عدل و انصاف غالب ہوگا:
“اور ہم نے زبور میں تورات کے بعد لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔”
(سورۂ انبیاء: 105)
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اللہ نے ایمان لانے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں خلافت عطا کرے گا…”
(سورۂ نور: 55)
یہ آیات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ تاریخ کا اختتام سرمایہ دارانہ نظام نہیں، بلکہ صالحین کی حاکمیت ہے۔
روایات اور حکومتِ جهانی امام مہدیؑ
اہلِ بیتؑ کی روایات اس قرآنی وعدے کی عملی تفسیر پیش کرتی ہیں۔ امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
“یہ غلبہ اس وقت ہوگا جب مہدی آلِ محمدؐ قیام فرمائیں گے، اور دنیا میں کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہے گا جو حق کو قبول نہ کرے۔”
امام مہدیؑ کی عالمی حکومت کسی قوم، نسل یا طاقت کی بالادستی پر قائم نہیں ہوگی، بلکہ عدلِ مطلق، عقلِ کامل اور اخلاقی تطہیر اس کی بنیاد ہوگی۔
مغربی عالمی سازی بمقابلہ مہدوی عالمی نظام
مغربی عالمی سازی طاقت، سرمایہ اور میڈیا کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے، جبکہ امام مہدیؑ کی حکومت انسان کے دل اور عقل کو بیدار کر کے اسے عدل کی طرف لاتی ہے۔
مغرب تہذیبوں کے ٹکراؤ کی بات کرتا ہے، اسلام تہذیبوں کے باوقار اتحاد کی۔
مغرب تاریخ کے خاتمے کا اعلان کرتا ہے، اسلام حقیقی تاریخ کے آغاز کی نوید دیتا ہے۔
نتیجہ
عالمی شدن ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس عالمی دنیا کی قیادت کون کرے گا؟
سرمایہ دار طاقتیں؟
یا خدا کا وہ برگزیدہ بندہ جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا؟
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ انسانیت کا حقیقی نجات دہندہ اور عالمی نظام حکومتِ جهانی امام مہدی علیہ السلام ہے—نہ فوکو یاما کا “اختتامِ تاریخ”، اور نہ ہنٹنگٹن کا “تصادمِ تہذیبیں”۔









آپ کا تبصرہ