حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ شاہی آصفی مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبہ میں حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی نے نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ مؤمن قتل ہو سکتا ہے، لیکن اس کی عزت ختم نہیں ہو سکتی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ تقویٰ یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرنا، واجبات کا انجام دینا اور حرام کام سے بچنا۔ واجبات کے ساتھ ساتھ مستحبات کی ادائیگی اور حرام کے ساتھ ساتھ مکروہات سے بچنا معراجِ تقویٰ ہے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حرام غذا کو تقویٰ کی موت بتاتے ہوئے کہا کہ پیٹ میں حرام غذا پہنچنے سے تقوی مفقود ہو جاتا ہے، لہٰذا پروردگار سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کے ہم ہمیشہ حلال کھائیں حرام سے پرہیز کریں۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا ہے :"خدایا! ماہ رجب اور ماہ شعبان کو ہمارے لئے بابرکت بنا دے۔" بیان کیا جاتا ہے کہ ماہ رجب استغفار کا مہینہ ہے اور ماہ شعبان محمد و آل محمد علیہم السلام پر صلوات بھیجنے کا مہینہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہ شعبان کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث "یہ ایک شریف مہینہ ہے اور یہ میرا مہینہ ہے۔ عرشِ الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اس مہینے کی عزت کرتے ہیں اور اس کی قدر کو جانتے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، بالکل جیسے ماہ رمضان میں ہوتا ہے، اور اسی مہینے میں جنت کو سجایا جاتا ہے۔ اسی لئے اس مہینہ کا نام شعبان رکھا گیا ہے، کیونکہ اس میں ایمان والوں کے رزق بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں نیک اعمال کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے؛ ایک نیکی پر ستر نیکیوں کا اجر ملتا ہے، برائیاں معاف کر دی جاتی ہیں، گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اور نیک عمل قبول ہو جاتے ہیں۔ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے، روزہ رکھنے والوں اور عبادت کرنے والوں کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے، اور انہی بندوں پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے۔" رزق صرف کھانا پینا نہیں ہے، بلکہ نیکی اور خیر کی توفیق بھی رزق میں شامل ہے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے بیان کیا کہ جب حضور نے یہاں تک بیان کیا تو امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں۔ ہمارے لئے ماہ شعبان کے مزید فضائل بیان کریں۔ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ کسی کافر کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان نہیں کیا جا سکتا، لہذا امیر المومنین کا یہی ایک جملہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے ایمان پر محکم دلیل ہے۔
انہوں نے ماہ شعبان کے روزوں کی اہمیت و فضائل بیان کرتے ہوئے حکم شرعی بیان کیا کہ جس کے واجب روزے قضا ہوں وہ مستحب روزے نہیں رکھ سکتا۔
انہوں نے سورہ منافقون آیت 8 "ساری عزت اللہ , رسول اور صاحبان ایمان کے لئے ہے اور یہ منافقین یہ جانتے بھی نہیں ہیں." کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن مومن کو قتل تو کر سکتا ہے لیکن اس کی عزت سلب نہیں کر سکتا۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے 19 شعبان یوم غزوۂ بنی مصطلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بنی مصطلق کے لئے نکلے تو مدینہ میں جناب ابوذر علیہ السلام کو اپنا وارث چھوڑ گئے۔ عالم اسلام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جب تھوڑے دن کے لئے حضور مدینہ کو ترک کر رہے ہیں تو وارث چھوڑ کر جا رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ دنیا سے ہمیشہ کے لئے جا رہے ہوں اور کوئی وارث چھوڑ کر نہ جائے۔ غدیر اسی اعلان وارث کا نام ہے۔
انہوں نے حدیث سفینہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن لاکھ اپنے بیڑے کھڑے کر دے لیکن سارے بیڑے غرق ہو جائیں گے اگر کوئی کشتی باقی رہے گی تو وہ اہل بیت علیہم السلام کی کشتی ہے۔ آج ایران اسی کشتی نجات پر سوار ہے لہذا اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔









آپ کا تبصرہ