تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی
حوزہ نیوز ایجنسی| کچھ شخصیات تاریخ کے اوراق میں صرف نام بن کر محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اپنے ساتھ ایک مکمل عہد، ایک زندہ فکر اور ایک مسلسل تحریک لے کر آتی ہیں۔ ان کے قدموں کی آہٹ صرف اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ آنے والی نسلوں کے شعور میں بھی دیر تک گونجتی رہتی ہے۔
بانئ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ بھی ایسی ہی نابغۂ روزگار ہستی تھے جنہوں نے ایک ادارہ نہیں، ایک انسان تراشا؛ ایک تنظیم نہیں، بلکہ ایک قوم کی سمت متعین کی؛ اور ایک درس گاہ نہیں، بلکہ ایک تربیتی تمدّن کی بنیاد رکھی۔
مولانا سید غلام عسکریؒ کی عظمت اس بات میں نہیں کہ آپؒ نے کتنے اجتماعات منعقد کیے یا کتنی تقاریر فرمائیں، بلکہ اصل عظمت اس میں ہے کہ آپؒ نے انسان کے اندر سوئی ہوئی دینداری کو جگایا اور دین کو رسوم کے دائرے سے نکال کر زندگی کی ذمہ داری بنا دیا۔
آپؒ کی فکر کا مرکزی نکتہ نہایت سادہ مگر غیر معمولی طور پر انقلابی تھا:
“اس قوم کے ہر فرد کو دیندار بنا دو”
یہ جملہ محض ایک وعظ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل تربیتی پروگرام تھا۔
یہ دینداری صرف عبادات تک محدود نہ تھی بلکہ شعور، کردار، اجتماعی احساس اور اخلاقی جرأت سے عبارت تھی۔
مولانا عسکریؒ کے نزدیک دیندار وہ نہیں تھا جو صرف مسجد میں پہچانا جائے، بلکہ وہ تھا جو بازار میں دیانت دار ہو، سیاست میں خوفِ خدا رکھتا ہو، معاشرت میں عدل کو زندہ رکھتا ہو اور اختلاف کے مواقع پر بھی اخلاق کا دامن نہ چھوڑتا ہو۔
آپؒ جانتے تھے کہ اگر دین کو فرد کے باطن میں اتار دیا جائے تو معاشرہ خود بہ خود سنورنے لگتا ہے۔ اسی لیے آپؒ نے اپنی جدوجہد کا آغاز حکومتوں یا ایوانوں سے نہیں بلکہ دلوں سے کیا۔
آپؒ نے یہ حقیقت بہت پہلے پہچان لی تھی کہ اگر انسان نہ بدلا تو نظام بدلنے کی ہر کوشش محض ظاہری مرمت بن کر رہ جائے گی۔
یہی وہ فکری بنیاد تھی جس پر بعد میں ادارہ تنظیمُ المکاتب کی صورت میں ایک عملی اور ہمہ گیر تربیتی ڈھانچہ وجود میں آیا، جہاں تعلیم محض نصابی ضرورت نہ رہی بلکہ تربیتِ کردار کا ذریعہ بن گئی، اور امت کی تعمیر ہر گاؤں، ہر محلہ اور ہر گھر سے شروع کرنے کا عملی پیغام دیا گیا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ مولانا عسکریؒ کی فکر اگر روح تھی تو تنظیمُ المکاتب اس روح کا متحرک جسم تھی۔
لیکن مولانا سید غلام عسکریؒ کی فکر کا دوسرا ستون اس سے بھی زیادہ جرات مندانہ تھا:
“اس قوم سے ہر قسم کی شاہی کو مٹا دو”
یہ صرف سیاسی بادشاہت کے خاتمے کا نعرہ نہیں تھا بلکہ ہر اس ذہنیت کے خلاف بغاوت تھی جو خود کو دوسروں سے برتر سمجھتی ہے۔
یہ اس نفسیاتی اور فکری شاہی کے خلاف جدوجہد تھی جو کبھی علم، کبھی نسب، کبھی منصب اور کبھی مذہب کے نام پر انسان کو انسان پر مسلط کر دیتی ہے۔
مولانا عسکریؒ کے نزدیک اصل شاہی تخت و تاج سے زیادہ خطرناک وہ شاہی تھی جو انسان کے دل میں پلتی ہے، جو عالم کو عوام سے، رہنما کو کارکن سے اور صاحبِ حیثیت کو محروم انسان سے کاٹ دیتی ہے۔
اسی لیے آپؒ نے تنظیمُ المکاتب کی ساخت میں کسی طبقاتی برتری، خاندانی امتیاز اور منصبی تفاخر کو جگہ نہ دی، بلکہ خدمت، ذمہ داری اور تقویٰ کو ہی اصل معیار قرار دیا۔
درحقیقت مولانا سید غلام عسکریؒ کی تحریک کا بنیادی ہدف اقتدار نہیں بلکہ کردار تھا۔
آپؒ نے انسان کی اصلاح کو امت کی اصلاح کا حقیقی دروازہ قرار دیا۔
آپؒ کے نزدیک تربیت محض چند اخلاقی نصیحتوں کا نام نہ تھا بلکہ ایک مکمل انسان سازی کا عمل تھا؛ ایسا انسان جو عبادت میں زندہ ہو، معاش میں باوقار ہو، اختلاف میں بااخلاق ہو اور طاقت کے سامنے حق گوئی کا حوصلہ رکھتا ہو۔
مولانا عسکریؒ بخوبی جانتے تھے کہ امت کو سب سے بڑا نقصان بیرونی دشمنوں سے زیادہ اندرونی غرور، گروہی تنگ نظری اور طبقاتی تفاخر نے پہنچایا ہے۔ اسی لیے آپؒ نے “شاہی کے خاتمے” کو محض سیاسی تصور نہیں بلکہ روحانی اور فکری تطہیر کا عنوان بنا دیا۔
آج جب ہم بانئ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ کے یومِ وفات پر انہیں یاد کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے تنظیمُ المکاتب کو واقعی اسی تربیتی مشن کا تسلسل بنایا ہے جس کا خواب اس مردِ درویش نے دیکھا تھا؟
کیا ہم اس ذمہ داری کے وارث بن سکے ہیں کہ قوم کا ہر فرد دیندار بنے اور ہر قسم کی شاہی — خواہ وہ ہمارے دلوں میں ہو یا ہمارے رویّوں میں — دفن کر دی جائے؟
مولانا عسکریؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انقلاب نعروں سے نہیں بلکہ نفس کی شکست سے جنم لیتا ہے۔
جب تک انسان اپنے اندر کے فرعون کو گرا نہیں دیتا وہ کسی بیرونی فرعون کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔
بانئ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ کی سب سے بڑی میراث یہی ہے کہ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ تحریکیں تنظیم سے بنتی ہیں، لیکن زندہ تحریکیں صرف تربیت سے وجود میں آتی ہیں — اور تنظیمُ المکاتب اسی زندہ تربیتی تحریک کا روشن عنوان ہے۔
اسی لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مولانا سید غلام عسکریؒ واقعی ایک فکر تھے، ایک تحریک تھے اور ایک ایسا تربیتی انقلاب تھے جو خاموشی سے دلوں میں اتر کر تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔
آخر میں بارگاہِ ربُّ العزّت میں عجز و انکسار کے ساتھ دعا ہے:
اے پروردگار!
بانئ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ کو اپنی کامل رحمتوں میں جگہ عطا فرما، ان کی دینی و تربیتی جدوجہد کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے، اور ہمیں بھی اخلاص، تواضع اور خدمتِ دین کے راستے پر ثابت قدم رکھ۔
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍؑ — آمین یا ربَّ العالمین۔









آپ کا تبصرہ