مبصر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی
حوزہ نیوز ایجنسی| انسانی تہذیب کی پوری تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ علم ہی وہ نور ہے جس نے انسانی فکر کو جِلا بخشی، کردار کو نکھارا اور معاشروں کو صحیح سمت عطا کی۔ یہی علم جب تحریر کی صورت میں ڈھلتا ہے تو کتاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اور کتاب دراصل انسانی شعور کا محفوظ سرمایہ، فہم کا تسلسل اور نسلوں کے درمیان ایک خاموش مگر نہایت مؤثر مکالمہ ہوتی ہے۔ اقوام کی فکری عظمت ان کے علمی سرمائے اور تحریری ورثے سے پہچانی جاتی ہے۔
تحقیق درحقیقت علم کی تطہیر کا نام ہے۔ یہ وہ سنجیدہ عمل ہے جس کے ذریعے حقائق کو چھانا جاتا ہے، روایات کو پرکھا جاتا ہے اور فکر کو دلیل کی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے۔ تحقیق علم کو محض روایت کے درجے سے اٹھا کر بصیرت میں تبدیل کرتی ہے۔ بغیر تحقیق کے علم سطحی رہ جاتا ہے، جبکہ تحقیق اسے گہرائی، وزن اور اعتماد عطا کرتی ہے۔
اسی طرح تصنیف محض معلومات کے انبار کا نام نہیں، بلکہ منتشر افکار کو ایک مربوط نظامِ فکر میں ڈھالنے کا فن ہے۔ مصنف اپنے مطالعے، مشاہدے اور فہم کو اس سلیقے سے ترتیب دیتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک واضح فکری نقش قائم ہو جائے۔ یوں تصنیف علم کو بامقصد اور قابلِ استفادہ بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
جبکہ تالیف میں حسنِ ترتیب، ربطِ مضمون اور فکری تسلسل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک مؤلف مختلف علمی موتیوں کو اس مہارت سے پروتا ہے کہ وہ بکھرے ہوئے نکات نہیں رہتے بلکہ ایک مربوط لڑی بن جاتے ہیں۔ یہی تالیفی حسن کسی بھی کتاب کو عام تحریر سے ممتاز کر کے ایک باقاعدہ علمی و فکری کارنامہ بنا دیتا ہے۔
دینی اور اخلاقی موضوعات میں کتاب نویسی کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں معاملہ محض معلومات کی ترسیل کا نہیں بلکہ دلوں کی اصلاح، کردار کی تعمیر اور روح کی بالیدگی کا ہوتا ہے۔ ایسی تحریریں صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ وہ قاری کے فکر و عمل میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں اور اسے اپنے خالق، اپنے مقصدِ حیات اور اپنے اخلاقی فرائض سے روشناس کراتی ہیں۔
اسی علمی، تحقیقی اور اصلاحی روایت کا تسلسل وہ تصانیف ہوتی ہیں جو قرآن و حدیث کی روشنی میں انسان کو اس کی اصل پہچان اور زندگی کے درست راستے سے آشنا کرتی ہیں۔ ایسی کتب محض اوراق کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ ہدایت کے چراغ، فہم کے دروازے اور کردار سازی کے عملی نصاب کی حیثیت رکھتی ہیں۔
کتاب “نورِ زندگی” بھی اپنے عنوان کی طرح انسانی حیات کے باطن کو منور کرنے کی ایک سنجیدہ، باوقار اور علمی کوشش ہے۔ اخلاقیات کو محور بنا کر قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی کے عملی تقاضوں کو پیش کرنا اس تصنیف کا نمایاں امتیاز ہے۔فاضل مؤلف حجۃ الاسلام مولانا مرزا علی اکبر کربلائی صاحب نے محض وعظی اسلوب اختیار کرنے کے بجائے مستند مصادر سے اخذ کردہ روایات کے عربی متون شامل کر کے تحریر کو تحقیقی وقعت عطا کی ہے، جو سنجیدہ قارئین کے لیے خصوصاً قابلِ قدر ہے۔
کتاب کا منہج واضح طور پر تربیتی اور اصلاحی ہے۔ مضامین کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف انسانی کردار سازی کو تدریجی انداز میں دیکھتے ہیں: نیکی و بدی کے شعور سے آغاز، اخلاقِ حسنہ کی تفصیل، دنیا کی فانی حیثیت کی یاددہانی، اور اہلِ بیتؑ کے ارشادات کی روشنی میں عملی زندگی کی سمت متعین کرنا یہ سب ایک مربوط فکری تسلسل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یوں یہ کتاب محض مطالعے کا مواد نہیں رہتی بلکہ ایک باقاعدہ اخلاقی نصاب کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔
علمی اعتبار سے اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ مصنف نے خطیبانہ اثر کے ساتھ ساتھ مراجعۂ حدیث و روایت کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ روایات کے اصل متون کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کاوش صرف جذباتی ترغیب نہیں بلکہ مستند دینی سرمایہ سے مربوط ایک سنجیدہ دعوتِ فکر ہے۔ اسی بنا پر یہ تصنیف منبر و محراب کے ساتھ ساتھ تعلیمی و مطالعاتی حلقوں میں بھی یکساں طور پر مفید ہے۔
اسلوب کے لحاظ سے عبارت رواں، عام فہم اور اثر انگیز ہے۔ مثالوں اور تمثیلات کے ذریعے پیچیدہ روحانی نکات کو سادہ انداز میں واضح کیا گیا ہے، جس سے قاری صرف قائل نہیں بلکہ متاثر بھی ہوتا ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ مصنف نے تحریر کو زندگی سے جوڑنے کی شعوری کوشش کی ہے، نہ کہ محض علمی اظہار پر اکتفا کیا ہے۔
مصنف کی ذاتی وابستگی اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے اور تبلیغی میدان میں ان کی عملی خدمات اس کتاب کے پس منظر کو مزید معتبر بناتی ہیں۔ یہ تحریر ایک گوشہ نشین محقق کی نہیں بلکہ ایک فعال مبلغ اور صاحبِ درد دل کی آواز محسوس ہوتی ہے، جس نے مشاہدہ، مطالعہ اور منبر کے تجربات کو یکجا کر کے صفحات پر منتقل کیا ہے۔
اللہ ربّ العزّت اس علمی و اخلاقی خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے مصنف کے لیے صدقۂ جاریہ اور آخرت کا قیمتی ذخیرہ بنائے اور قارئین کے قلوب کو اس کے ذریعے نورِ ہدایت سے منور فرمائے۔ خداوندِ کریم مصنف کو مزید ایسی بابرکت تصنیفات کی توفیق عطا فرمائے جو معاشرے کی فکری و اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بنتی رہیں۔ آمین۔ والحمدللہ رب العالمین









آپ کا تبصرہ