اتوار 1 فروری 2026 - 11:55
کتاب ”شیعہ اور محب“ کا تعارف

حوزہ/کتاب “شیعہ اور محبّ” اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت اہم، نازک اور فکری طور پر بیدار کن تصنیف ہے، جو محبتِ اہلِ بیتؑ اور حقیقی شیعیت کے درمیان پائے جانے والے بنیادی فرق کو احادیثِ معصومینؑ کی روشنی میں واضح کرتی ہے۔

از قلم: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کتاب “شیعہ اور محبّ” اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت اہم، نازک اور فکری طور پر بیدار کن تصنیف ہے، جو محبتِ اہلِ بیتؑ اور حقیقی شیعیت کے درمیان پائے جانے والے بنیادی فرق کو احادیثِ معصومینؑ کی روشنی میں واضح کرتی ہے۔

اس کتاب میں مصنف نے اس مسئلے کو محض جذباتی یا خطیبانہ انداز میں نہیں چھیڑا، بلکہ مستند روایات کے ذریعے ایک ایسا علمی معیار قائم کیا ہے جس کے ذریعے قاری اپنے دعوائے محبت کو پرکھ سکتا ہے۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی علمی خوبی ہے کہ یہ عقیدت کو شعور، اور محبت کو اطاعت کے دائرے میں لا کر کھڑا کرتی ہے۔

کتاب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہر محبّ، شیعہ نہیں ہوتا؛ شیعہ وہ ہے جس کی محبت، اطاعتِ اہلِ بیتؑ میں ڈھل چکی ہو۔ مصنف نے معصومین علیہم السلام کے فرامین سے یہ واضح کیا ہے کہ محض قلبی وابستگی کافی نہیں، بلکہ عملی التزام، اوامر و نواہی کی پیروی اور سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کو معیارِ زندگی بنانا ہی حقیقی شیعیت ہے۔ اس طرح یہ کتاب محبت کے دعوے کو عمل کی کسوٹی پر رکھتی ہے اور قاری کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔

علمی اسلوب کے اعتبار سے بھی یہ مجموعہ قابلِ قدر ہے۔ مؤلف نے ذاتی آراء یا فلسفیانہ موشگافیوں کے بجائے براہِ راست نصوصِ حدیث کو بنیاد بنایا ہے جس سے کتاب میں استناد اور اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ حسنِ ترتیب کے ساتھ روایات کو جمع کرنا، موضوعی ربط قائم رکھنا اور نتائج کو واضح انداز میں سامنے لانا اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف نے محض وعظ نہیں بلکہ ایک تحقیقی خدمت انجام دی ہے۔

حدیثِ کساء اور دیگر فرامینِ اہلِ بیت علیہم السلام کے حوالے سے مصنف نے محبت، معرفت اور ولایت کے باہمی تعلق کو نہایت خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔ وہ یہ باور کرواتے ہیں کہ اہلِ بیتؑ سے وابستگی صرف ایک روحانی نسبت نہیں، بلکہ فکری طہارت، اخلاقی تزکیہ اور عملی اطاعت کی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ یوں کتاب قاری کو ایک بلند تر دینی شعور کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

مولانا مرزا علی اکبر کربلائی صاحب کی یہ کاوش اس اعتبار سے بھی لائقِ تحسین ہے کہ انہوں نے ایک ایسے موضوع کو منتخب کیا جس میں افراط و تفریط دونوں کا خطرہ تھا، مگر انہوں نے اعتدال، دلیل اور روایت کے سہارے بات کو نہایت سنجیدگی سے پیش کیا۔ ان کی تحریر میں منبر و محراب کا تجربہ بھی جھلکتا ہے اور تحقیقی مزاج بھی، جو اس کتاب کو عوام و خواص دونوں کے لیے مفید بنا دیتا ہے۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ فہمِ ولایت کی اصلاحی دعوت ہے۔

مجموعی طور پر “شیعہ اور محبّ” ایک فکری آئینہ ہے جس میں ہر محبِّ اہلِ بیتؑ اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ یہ کتاب محبت کو ذمہ داری میں اور عقیدت کو اطاعت میں تبدیل کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ علمی استناد، سلیس اسلوب اور اصلاحی جذبے کے امتزاج نے اسے عصرِ حاضر کی ایک بامقصد دینی تصنیف بنا دیا ہے۔

آخر میں ہم فاضل مؤلف حجۃ الاسلام مولانا مرزا علی اکبر کربلائی صاحب کو اس بامقصد، علمی اور اصلاحی کاوش پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے جس اخلاص، جرأتِ فکری اور دینی غیرت کے ساتھ ایک نازک مگر نہایت اہم موضوع کو احادیثِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں واضح کیا، وہ یقیناً قابلِ تحسین اور لائقِ صد آفرین ہے۔ ایسی تصانیف ہی دینی شعور کو تازگی بخشتی اور محبتِ اہلِ بیتؑ کو صحیح رخ عطا کرتی ہیں۔

دعا ہے کہ رب کریم مؤلف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، اور انہیں صحت، طولِ عمر اور مزید علمی و دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔ پروردگار ان کے قلم کو ہمیشہ معارفِ اہلبیت علیہم السّلام کے فروغ کا ذریعہ بنائے اور اس کتاب کو قارئین کے دلوں میں ہدایت، بیداری اور عمل کی شمع روشن کرنے کا وسیلہ قرار دے۔ آمین والحمدللہ رب العالمین۔

کتاب کی پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha