حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے تحت منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’قرآن اور سائنس‘ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس کا انعقاد شعبۂ اسلامک اسٹڈیز، ولایت فاؤنڈیشن اور شہید بہشتی یونیورسٹی تہران (ایران) کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا۔
اختتامی اجلاس کی صدارت حجت الاسلام و المسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نمائندے ولی فقیہ ہندوستان نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم طبیعیات، کیمیا، فلکیات یا حیاتیات کی درسی کتاب نہیں، بلکہ یہ علم، اخلاق اور انسانی رہنمائی کا ایک آفاقی سرچشمہ ہے، جو سائنسی تحقیق کو درست سمت اور انسانی زندگی کو بلند مقصد عطا کرتا ہے۔ قرآن ایسے اصول و اقدار پیش کرتا ہے جو علمی جستجو کو اخلاقی ذمہ داری سے جوڑتے اور تحقیق کو انسانیت کی بھلائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد قرآن اور سائنس کے درمیان بامعنی ربط کی تلاش، نئے فکری زاویوں کی دریافت اور ایسے علمی مباحث کو فروغ دینا ہے جو نئی نسل میں تخلیقی سوچ پیدا کریں اور مستقبل کے محققین اور سائنس دانوں کی تربیت کا سبب بنیں۔
اس موقع پر کانفرنس کے ڈائریکٹر اور فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز کے ڈین، پروفیسر اقتدار محمد خان نے کہا کہ قرآن ایک جامع اخلاقی و فکری منشور ہے جو انسانی تحقیق کو مقصد، سمت اور معنویت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دین کے نام پر سائنس کی نفی کرنا بھی غلط ہے اور سائنسی نظریات کے تابع بنا کر وحی کی تاویل کرنا بھی درست نہیں۔ ان کے مطابق درست راستہ توازن، مکالمہ اور ایمان و عقل کی ہم آہنگی سے نکلتا ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی (دخترِ شہید ابراہیم رئیسی، سابق صدرِ ایران) نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبان، نسل اور قومیت کے اختلافات کے باوجود امتِ مسلمہ کی وحدت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جس کی بنیاد توحید اور قرآنِ کریم کی مشترکہ تعلیمات پر قائم ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر محمد مہدی اسماعیلی (سابق وزیر، ایران) نے کہا کہ قرآنی تصورِ حیات انسان کو مادیت اور وقتی خواہشات سے نجات دلا کر عدل، روحانیت اور اجتماعی ذمہ داری کی راہ دکھاتا ہے، اور اس سے انحراف دراصل حقیقی محرومی ہے۔
اسی طرح مہمانِ اعزازی پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل اکبری (شہید بہشتی میڈیکل سائنسز یونیورسٹی، تہران) نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن شناسی محض الفاظ کی پہچان کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیغام کو سمجھ کر عملی زندگی میں نافذ کرنا اصل مقصد ہے۔
پروفیسر مشیر حسین صدیقی (سابق صدر، شعبۂ عربی، لکھنؤ یونیورسٹی) نے تاثراتی کلمات میں فرمایا کہ قرآنِ کریم کا بنیادی پیغام تدبر اور غور و فکر ہے، جو انسان کو کائنات کے حقائق پر گہرے مشاہدے اور فکری بصیرت کی دعوت دیتا ہے۔
پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی (سابق صدر، شعبۂ اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) نے حدیثِ نبویؐ کے حوالے سے کہا کہ بڑے فتنوں اور فکری انتشار سے نجات کا واحد راستہ قرآنِ کریم کی طرف رجوع ہے۔
ڈاکٹر محمد حسین ضیائی نیا ( دفتر نمائندے ولی فقیہ ہند) نے کہا کہ مسلم معاشروں کی فکری تجدید اسی وقت ممکن ہے جب جدید سائنس کو قرآنی تصورِ علم، عقل اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
واضح رہے کہ کانفرنس کے دوران تیرہ سے زائد علمی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں چالیس سے زیادہ مقالہ نگاروں نے مختلف موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ ان نشستوں کی نظامت ڈاکٹر خورشید آفاق، ڈاکٹر محمد تحسین زماں، ڈاکٹر ابرار الحق، ڈاکٹر انیس الرحمن، ڈاکٹر محمد اسامہ، ڈاکٹر محمد مسیح اللہ، ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین، ڈاکٹر محمد علی، ڈاکٹر اویس منظور ڈار اور محترمہ ماریہ زہرہ نے انجام دی۔
تقریب کا آغاز شہامت علی خان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ کانفرنس کی جامع رپورٹ ڈاکٹر حیدر رضا ضابط نے پیش کی، جبکہ نظامت کے فرائض شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے سینئر استاد جناب جنید حارث نے انجام دیے۔ آخر میں سیمینار کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد ارشد نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔ تصویری کوریج شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے طالب علم محمد کیفی نے کی۔
کانفرنس میں ایران، عراق، کویت، دبئی، سوڈان اور انڈونیشیا سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز اہلِ علم و دانش، جن میں پروفیسر محمد سلیمان صدیقی، پروفیسر محمد اسحق، پروفیسر عبیداللہ فہد، پروفیسر سعود عالم قاسمی، پروفیسر محمد حبیب، پروفیسر ہمایوں اختر نظامی، پروفیسر علاؤالدین خان، پروفیسر ضیاءالدین ملک، پروفیسر سیدہ ثمین فاطمہ، ڈاکٹر صفیہ عامر، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر سید عبدالرشید اور ڈاکٹر عابدہ کوثر شامل ہیں نے شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ