تحریر: مولانا سید مشاہد عالم رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی| ایران اسلامی کے موجودہ قائد آیت اللہ خامنہ ای حفظہ اللہ دنیا کے چنندہ عالمی قائدین میں سے وہ فرد فرید ہیں جنہوں نے اپنے ملک کے عوام کی خدمت و وفاداری وہمدردی کی ایک اعلیٰ مثال قائم کردی ہے۔
ایران کی سیاست میں اتار چڑھاؤ
ایسے مواقع ایران کی سیاست میں بہت آئے ہیں جب ایران سامراجی طاقتوں کے سخط دباؤ میں رہا ہے اور وہ آج تک باقی ہے۔
انقلاب اسلامی کے کامیاب ہوتے ہی اسے عراق کے ذریعہ جنگ میں الجھایا گیا اورپھر مسلسل اقتصادی پابندیاں عائد کرکے اس کی معیشت کو تباہ کر نے کوشش کی گئی۔
امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے قدم سے قدم ملا کر ایران کے جمہوری نظام کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے عسکری قوت کا استعمال کیا دنیا میں اسے یک وتنہا کرنے کے لئے جھوٹ اور الزامات کا بازار گرم کیا گیا پروپگنڈہ کے سہارے نفسیاتی جنگ چھیڑی گئی ساتھ ہی ساتھ ملک کے امن و سلامتی کو تھس نہس کرنے کے لئے ضمیر فروشوں اور انقلاب دشمن عناصر کے سہارے نظام اسلامی کو ختم کرنے کی سازشیں کی گئیں۔
جس میں بہت سے حاشیہ کے ممالک اور عربی سفارت خانہ بھی شریک جرم رہے ہیں۔
ایران اسلامی کا صبر وضبط
مگر ایران کی اسلامی حکومت نے ہمیشہ صبر وضبط کا مظاہرہ کیا اور ہر موقع پر ایران کے سپریم قائد نے اپنی حکیمانہ اور شجاعانہ سیاست سے عوام کا دفاع کیا اور ایک پدر مہربان کی طرح سخت ترین حالات میں قوم وملت کی سرپرستی کرکےاپنے دور اندیشانہ فیصلوں سے دشمن کےتمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنایا ہے اور دنیا کو بتادیا کہ ایک حقیقی اسلامی قیادت کیا ہے؟
ایرانی عوام کا ردعمل
عوام نے بھی ہر حساس ونازک گھڑی میں اپنے رھبر کا ساتھ دیا اور ان کی آواز پر لبیک کہکر اپنی سیاسی سمجھ کا امتحان دیکر سامراج کو مسلسل مایوس کیا ہے۔
جو تاریخ کا ایک ذریں باب بن گیا ہے
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ہر قسم کی بیرونی مداخلت کا منہ توڑ جواب دیکر اور اپنی بصیرت و حکیمانہ بیان و دوراندیشی سے تمام سازشوں کو بے نقاب کیا ہے چنانچہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھ کر پوری دنیا حیرت میں ہے۔
تمام بڑے عہدے مگر غرور نہیں
آپ دنیا کے وہ واحد قائد ہیں جن کے قدموں میں آغاز انقلاب سے لیکر اب تک بڑے بڑے عہدے رہے مگر اس کے باوجود آپ کبھی غرور اور گھمنڈ کا شکار ہوئے نہ ذلت کو برداشت کیا اور ہمیشہ پرچم حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے زیر سایہ ایران اسلامی بلکہ پورےعالم اسلام کی قیادت کر تے رہے۔
جتنی محبوبیت آپ کوپوری عالمی برادری میں حاصل ہوئی ہے کسی اورکونصیب نہیں ہوئی۔
این سعادت بزور بازو نیست تا نبخشد خدائے بخشندہ
آخر ایسا کیوں؟
اس لئے کہ آپ مرد عمل ہیں اور ہمیشہ میدان عمل میں پیش پیش رہے ہیں عراق ایران جنگ میں ایمان ویقین کے ساتھ خط مقدم پر پیش پیش رہے اور عراقی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا موت سے ڈرے نہ ہی دشمن کے سامنے سر جھکایا۔
خطبۂ جمعہ میں بم سے حملہ
تہران یونیورسٹی میں خطبہ جمعہ کے دوران بم سے آپ کی جان لینے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے داہنا ہاتھ بیکار ہو گیا اور آپ اپنے آقا حضرت ابوالفضل العباس کی طرح جانباز ہوگئے ان سب کے علاوہ مستقل آپ کی شخصیت کشی کی گئی اور مرحوم شہید قاسم سلیمانی اور سید مقاومت شہید حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد آپ کو امریکہ اور اسرائیل نے کھلم کھلاجان سے مارنے کی دھمکی دی مگر آپ اپنے جد حسین ابن علی کی طرح پر سکون اندازسے میدان میں ڈٹے رہے۔
جس کی گواہ حالیہ بارہ روزہ اسرائیلی جنگ ہے جب آیت اللّہ خامنہ ای نڈر ہوکر ڈٹے رہے اور ملت اسلامیہ ایران کے حوصلے بڑھائے جس سے تمام دنیا کے مسلمانوں کا سر اونچا ہوگیا۔
چشم بد دور!
آیت اللہ خامنہ ای کی ذاتی زندگی
آپ اپنی ذاتی زندگی میں نہایت سادگی پسند انسان ہیں اور دنیا داری سے کوسوں دور لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والے نہایت صاف ستھری شخصیت کے مالک ہیں اور دور حاضر میں ظلم وتشدد کے خلاف دبے کچلے ہوئے انسانوں کی آواز سمجھے جاتے ہیں قوت بیان جرأت اظہار وہمت و شجاعت میں بے نظیر ہیں۔
اگرچہ امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں خصوصا صہیونی آپ کے خلاف آئے دن جھوٹی خبریں پھیلانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے پھر بھی دنیا بھر میں آپ کی عزت وعظمت سب پر عیاں اور آشکارا ہے۔
خدا پر ایمان کا اثر
آپ بجز خدا کسی سے نہیں ڈرتے لوگوں کی خدمت اور خدا کی اطاعت وبندگی کے علاوہ کوئی اور فکر نہ آپ کے ذہن ودل میں تھی نہ ہےآپ روز اول سے بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی رح کے سچے نائب کی حیثیت سے جمہوری اسلامی ایران کی قیادت کررہے ہیں۔
حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے بارہا آپ پراپنا اعتماد ظاہر کیا تھااور آپ کو رہبری کے لائق وشائستہ جانا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالکل سچ ثابت ہوا۔
استقلال و آزادی کی قیمت
ایرانی قوم استقلال اور آزادی کی بھاری قیمت چکا چکی ہے نہ فقط ایران کے اندر، بلکہ ایران کے باہر بھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ایران اسلامی کے علاوہ کسی اور ملک کے ساتھ اتنی دشمنیاں ہوتیں تو وہ کب کا برباد ہوگیا ہوتا مگر یہ قوم خداوند عالم کے بھروسے ایمان ویقین کی بنیاد پر دشمنان انقلاب کے ناپاک عزائم کے مقابلہ میں ہمیشہ میدان میں ڈٹی رہی اور موجودہ بحران میں بھی ڈٹی ہوئی ہے۔اسی سبب سے آج بھی خمینی کبیر کی آواز زندہ و پائندہ ہے اور قائد انقلاب اسلامی ایران حضرت آیت اللہ خامنہ ای سرفراز وسربلند صاحبان ایمان واسلام اور ہردبے کچلے کا دل بڑھا رہے ہیں۔
دعائیں
دعا ہے کہ خداوند متعال رھبر معظم انقلاب کوطول عمر کے ساتھ ساتھ ان کے اقبال میں اور اضافہ فرمائے اور ملت ایران کو راہ اسلام وقرآن میں ہمیشہ کی طرح ثابت قدم رکھے۔









آپ کا تبصرہ