حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امام بارگاہ، بڈگام میں شبیہِ رسولِ خدا (ص)، حضرت علی اکبرؑ کی ولادتِ باسعادت نہایت عقیدت، احترام اور فکری سنجیدگی کے ساتھ منائی گئی۔ یہ تقریب انجمنِ شرعی شیعیان، بڈگام کے زیرِ اہتمام اور حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی صفوی، صدر انجمنِ شرعی شیعیان، جموں و کشمیر کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں علماء، سماجی شخصیات، نوجوانوں اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی، جہاں کربلا کے ابدی پیغام کو عصرِ حاضر کے عالمی، اخلاقی اور جغرافیائی سیاسی تناظر میں اجاگر کیا گیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی صفوی نے حضرت علی اکبرؑ کو صورت، سیرت اور گفتار میں رسولِ اکرم (ص) کی کامل جھلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت علی اکبرؑ صرف کربلا کے ایک شہید نہیں بلکہ ایمان، بصیرت اور باوقار جوانی کا زندہ معیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ولایتِ امام حسینؑ کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والی یہ شخصیت آج کے نوجوانوں کے لیے فکری و اخلاقی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ایک زندہ فلسفہ ہے، جو ہر دور میں ظلم، جبر اور بالادستی کے خلاف انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ حضرت علی اکبرؑ کی قربانی، تپتے ہوئے صحراۓ کربلا میں، اس حقیقت کی علامت ہے کہ حق کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے مگر عزت، وقار اور ابدیت اسی میں پوشیدہ ہے۔
عصرِ حاضر کے عالمی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے آغا سید حسن موسوی صفوی نے کہا کہ آج ایران عالمی سیاست میں ایک ایسی ریاست کے طور پر ابھرا ہے جو شدید دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی محاصرے کے باوجود اپنی نظریاتی اور سیاسی خودمختاری پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے امریکہ کی قیادت میں ایران کے خلاف معاشی جنگ، پابندیاں اور نفسیاتی دباؤ مسلط کیا گیا، مگر ایران نہ جھکا اور نہ اپنی قومی غیرت پر سمجھوتہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی استقامت موجودہ عالمی نظام اور نام نہاد عالمگیریت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے، جہاں طاقتور اقوام آزادی کو جرم اور اطاعت کو معیار بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق عالمگیریت کا موجودہ ماڈل انصاف اور مساوات کے بجائے دباؤ اور بالادستی کا آلہ بن چکا ہے۔
قدرتی وسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آغا سید حسن موسوی صفوی نے کہا کہ تیل، گیس اور دیگر قدرتی ذخائر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقوام کے لیے امانت ہیں، اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پابندیوں یا دھمکیوں کے ذریعے کسی دوسری قوم کو اس کے وسائل یا فیصلوں سے محروم کرے۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کو جدید سامراجیت کی بدترین شکل قرار دیا۔
قیادت کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ولیِ عصر آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت میں ایران نے اُس شمعِ حوصلہ کو روشن رکھا ہے جو آفتابِ عاشورا کی تمازت میں حضرت علی اکبرؑ نے روشن کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قیادت خوف کے بجائے بصیرت، دباؤ کے بجائے صبر اور مصلحت کے بجائے اصول کی نمائندہ ہے۔
انہوں نے حضرت علی اکبرؑ کی شہادت اور ایران کی مزاحمت کے درمیان علامتی مماثلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح حضرت علی اکبرؑ انجام سے آگاہ ہونے کے باوجود میدان میں اترے، اسی طرح ایران بھی نتائج سے باخبر ہونے کے باوجود حق اور خودمختاری کے راستے پر قائم ہے۔
امریکی یکطرفہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے آغا سید حسن موسوی صفوی نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طرزِ عمل دباؤ، دھمکی اور اقتصادی جبر پر مبنی تھا، جس نے عالمی استحکام کو نقصان پہنچایا اور بین الاقوامی نظام کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کیا۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ایران کی مزاحمت محض ایک ملک کی جدوجہد نہیں بلکہ ایک غیر منصفانہ عالمی نظام کے خلاف اخلاقی اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام آج بھی انسانیت کو یہ درس دیتا ہے کہ حق دباؤ سے خاموش نہیں ہوتا، انصاف پابندیوں سے ختم نہیں ہوتا، اور بااصول مزاحمت کو کوئی طاقت ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتی۔









آپ کا تبصرہ