ہفتہ 31 جنوری 2026 - 21:48
رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت مزاحمت کی کامیابی کی ضامن ہے، حجۃ الاسلام سید صفدر حسین زیدی

حوزہ/ جامعہ امام جعفر صادقؑ جونپور کے مدیر حجۃ الاسلام و المسلمین سید صفدر حسین زیدی نے کہا ہے کہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی مزاحمت کی فکری و عملی کامیابی کے پیچھے رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی بصیرت افروز اور مدبرانہ قیادت بنیادی کردار ادا کر رہی ہے، جس نے مزاحمت کو ایک منظم، نظریاتی اور متحد قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ امام جعفر صادقؑ جونپور کے مدیر حجۃ الاسلام و المسلمین سید صفدر حسین زیدی نے رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت کو موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں مزاحمتی تحریکوں کی فکری و عملی کامیابی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی جدوجہد کے پس منظر میں رہبرِ انقلاب کی مدبرانہ قیادت ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی ہے، جس نے مزاحمت کو محض وقتی یا جذباتی ردِعمل کے بجائے ایک ہمہ گیر، باقاعدہ اور نظریاتی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے بقول، رہبرِ معظم نے امتِ مسلمہ کے اذہان سے امریکہ اور اسرائیل کی ناقابلِ تسخیر طاقت کا وہم ختم کر دیا ہے۔

حجۃ الاسلام صفدر حسین زیدی نے کہا کہ ایران نے رہبرِ انقلاب کی قیادت میں صبرِ اسٹریٹجک کے مرحلے سے نکل کر براہِ راست جوابی کارروائی کی جسارت دکھائی، جس کے نتیجے میں دشمن کا عسکری اور نفسیاتی رعب کمزور ہوا۔

انہوں نے اتحادِ اسلامی کو رہبرِ معظم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کو فرقہ واریت سے الگ کر کے ایک مشترکہ اسلامی مقصد میں ڈھال دیا گیا۔ آج فلسطین کی سنی تنظیمیں اور لبنان و عراق کی شیعہ مزاحمتی قوتیں ایک ہی ہدف کے لیے صف آرا ہیں، جو اس بصیرت افروز وژن کا عملی ثبوت ہے۔

حجۃ الاسلام صفدر حسین زیدی کے مطابق اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکہ کو جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے باوجود عوامی استقامت کے سامنے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مہینوں کی شدید بمباری کے باوجود اسرائیل اپنے بنیادی اہداف، جن میں حماس کا مکمل خاتمہ اور مزاحمت کو خلعِ سلاح کرنا شامل تھا، حاصل کرنے میں ناکام رہا، جو اس کی عسکری تاریخ کی بدترین ناکامیوں میں شمار ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ اور لبنان کی مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب کوئی قوم کسی مقصد کے لیے جان دینے کو تیار ہو تو دنیا کی کوئی بھی سپر پاور اسے شکست نہیں دے سکتی۔

بیانوں اور بیانیے کی جنگ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو نہ صرف عسکری بلکہ اخلاقی محاذ پر بھی شکست کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں ہونے والے عوامی احتجاج اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ مظلومیت اور استقامت کا بیانیہ مغربی پروپیگنڈے پر غالب آ چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور عالمی عدالتوں میں جنگی جرائم سے متعلق مقدمات اس کی اخلاقی شکست پر مہر ثبت کر رہے ہیں۔

حجۃ الاسلام صفدر حسین زیدی کے مطابق جہاں اسلامی مزاحمت مضبوط ہو رہی ہے وہیں امریکہ اور اسرائیل اندرونی سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی معیشت جنگی اخراجات کے بوجھ تلے دب چکی ہے جبکہ امریکہ میں بھی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران نے سخت پابندیوں کے باوجود دفاعی اور سائنسی میدان میں اپنی ترقی کو برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلامی استقامت بالآخر کامیاب ہو چکی ہے اور استعماری قوتیں پسپائی پر مجبور ہیں۔ رہبرِ معظم انقلاب کی بصیرت اور مزاحمتی قوتوں کی قربانیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ کے فیصلے واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ خطے کے باوقار عوام خود کر رہے ہیں۔

وقار خون شہیداں کربلا کی قسم

یزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے

آخر میں انہوں نے کہا: “سچ یہی ہے کہ باطل مٹنے کے لیے ہی ہے اور حق کی استقامت بالآخر اسے مٹا کر دم لیتی ہے۔”

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha