حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی عالم دین حجت الاسلام مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی نے انقلابِ اسلامی کی 47 ویں سالگرہ، حالیہ فسادات اور رہبرِ معظم کی قیادت کی اہم خصوصیات پر حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انقلابِ اسلامی ایران؛ مزاحمت، بصیرت اور استقامت کی 47 سالہ داستان کے موضوع پر روشنی ڈالی ہے۔
سوال: ایران کے اسلامی انقلاب کو آپ 47 برس بعد کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟
جواب: سن 1357 ہجری شمسی میں ایران میں آنے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک فکری، اعتقادی اور تہذیبی انقلاب تھا۔ اس وقت عالمی طاقتوں کی مکمل سرپرستی میں قائم پہلوی حکومت کو ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا، لیکن امام خمینیؒ کی قیادت میں ایرانی عوام نے ثابت کیا کہ ایمان، عوامی شعور اور دینی قیادت جابر ترین نظام کو بھی زمین بوس کر سکتی ہے۔ یہ انقلاب آج بھی دنیا کی مظلوم اقوام کے لیے ایک زندہ نمونہ ہے۔
سوال: گزشتہ دہائیوں میں اسلامی ایران کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا رہا؟
جواب: اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ایران مسلسل دشمنانہ سازشوں کی زد میں رہا ہے۔ امریکہ اور صہیونی رژیم نے اقتصادی پابندیوں، میڈیا وار، دہشت گردی، سیکیورٹی دباؤ اور داخلی انتشار جیسے حربوں کے ذریعے اسلامی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی، مگر ایرانی قوم نے ہر مرحلے پر صبر، استقامت اور شعور کا مظاہرہ کیا۔ یہ حقیقت اب ایک تاریخی تجربہ بن چکی ہے کہ بیرونی دباؤ ایرانی قوم کے عزم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرتا ہے۔
سوال: حالیہ فتنہ انگیزیوں اور مرکب جنگ کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: حالیہ واقعات دراصل دشمن کی مرکب جنگ (Hybrid Warfare) کی ایک کڑی تھے، جس میں نفسیاتی دباؤ، افواہیں، اقتصادی مسائل کا استحصال اور داخلی عناصر کا استعمال کیا گیا۔ تاہم، عوامی اتحاد، مقامِ معظمِ رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہای (مدّ ظلّه العالی) کی حکیمانہ قیادت، اور سیکیورٹی و انتظامی اداروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی نے اس فتنے کو ناکام بنا دیا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ایرانی قوم کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے۔
سوال: امریکی قیادت کے حالیہ بیانات کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
جواب: امریکی صدر کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات دراصل کمزوری اور خوف کی علامت ہیں۔ وہ اس حقیقت سے خائف ہیں کہ اسلامی انقلاب نہ صرف باقی ہے بلکہ فکری اور علاقائی سطح پر مؤثر بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ زبان کی شدت ہمیشہ میدان میں شکست کا پیش خیمہ رہی ہے۔
سوال: اسلامی انقلاب کے بعد مقامِ معظمِ رہبری کے کردار کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: امام خمینیؒ کے وصال کے بعد مقامِ معظمِ رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہای (مدّ ظلّه العالی) کی قیادت میں اسلامی انقلاب ایک نئے مگر نہایت مستحکم مرحلے میں داخل ہوا۔ رہبرِ معظم نے نہ صرف انقلاب کے اصولی تشخص کو محفوظ رکھا بلکہ اسے بدلتے عالمی حالات میں دانشمندانہ بصیرت، فقہی گہرائی اور سیاسی حکمت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کی قیادت کا امتیاز یہ ہے کہ وہ سیاست، فقہ، ثقافت اور تمدن کو ایک ہم آہنگ فکری نظام میں دیکھتے ہیں۔
سوال: رہبرِ انقلاب کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا سمجھی جاتی ہے؟
جواب: رہبرِ معظم کی سب سے نمایاں خصوصیت امت سازی کی فکر اور انسانی کرامت پر مبنی نظامِ حیات ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اسلام کو محض قومی یا علاقائی دائرے تک محدود نہیں کیا، بلکہ اسے مظلوم انسانیت، بالخصوص مسلمانوں اور شیعہ اقلیتوں کے لیے امید، حوصلے اور استقامت کا سرچشمہ قرار دیا۔ ان کی ہدایات میں عقلانیت، شریعت، اخلاق اور عوامی مفاد ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتے ہیں۔
سوال: جمہوری اسلامی ایران نے عالمی سطح پر انسانیت کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں؟
جواب: جمہوری اسلامی ایران نے اپنی تمام تر مشکلات اور پابندیوں کے باوجود انسان دوست پالیسیوں کو ترک نہیں کیا۔ چاہے وہ فلسطین کے مظلوم عوام کی غیر مشروط حمایت ہو، لبنان، عراق، شام اور یمن میں دہشت گردی کے خلاف مزاحمت ہو، یا قدرتی آفات میں انسانی امداد—ایران نے ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنا اصول بنایا ہے۔ یہ خدمات کسی نسلی، مذہبی یا سیاسی تفریق کے بغیر انجام دی گئیں۔
سوال: مسلمانوں اور بالخصوص شیعہ دنیا کے لیے ایران کی اہم خدمات کیا ہیں؟
جواب: ایران نے تشیع کو صرف سیاسی حمایت ہی فراہم نہیں کی، بلکہ علمی، دینی اور ثقافتی پشت پناہی بھی کی۔ حوزاتِ علمیہ کی تقویت، علمی مراکز کا قیام، اہلِ بیتؑ کے معارف کی ترویج، اور فکری خود اعتمادی کی بحالی—یہ سب وہ خدمات ہیں جنہوں نے شیعہ دنیا کو احساسِ کمتری سے نکال کر وقار، شناخت اور خود آگاہی عطا کی۔ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ جیسے علمی ادارے اسی فکر کا عملی نمونہ ہیں۔
سوال: ایران کے خلاف مسلسل دباؤ کے باوجود اس نظام کی بقا کا راز کیا ہے؟
جواب: اس کی بنیاد تین ستونوں پر ہے:
اوّل، دینی و انقلابی قیادت
دوم، عوامی شعور اور شرکت
سوم، خود انحصاری اور مزاحمتی فکر
رہبرِ انقلاب نے بارہا واضح کیا ہے کہ اگر قوم میدان میں ہو اور خدا پر توکل رکھے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ یہی فکر آج بھی اسلامی ایران کو استقامت عطا کر رہی ہے۔
ہم اس یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ مقامِ معظمِ رہبری کی ہدایتی قیادت اور جمہوری اسلامی ایران کی اصولی پالیسیوں نے نہ صرف ایران بلکہ امتِ مسلمہ اور مظلوم انسانیت کو ایک فکری سہارا فراہم کیا ہے۔ یہ راستہ وقتی سیاست نہیں بلکہ ایک تمدنی منصوبہ ہے، جو بالآخر عدلِ عالمی اور انسانی کرامت کے قیام پر منتج ہوگا۔ ان شاء الله









آپ کا تبصرہ