حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ شب زندہ دار نے ایک انٹرویو میں واقعۂ عاشورا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار اصحاب کی تحریک کسی ایک زمانے یا مخصوص سال تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی رہنمائی کے لیے تاریخ میں جاری ایک عالمی تحریک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم تحریک کے اہداف ہر دور میں مبلغین کے محتاج ہیں، کیونکہ یہی افراد امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مقاصد کو آگے بڑھاتے اور مکمل کرتے ہیں۔ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام نے پیغام رسانی کے ذریعے اس تحریک کو زندہ نہ رکھا ہوتا تو کربلا کا واقعہ وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عزاداری، مجالس، جلوس، سینہ زنی اور دیگر رسومات عزا دراصل اسی راستے کا تسلسل ہیں جس کے لیے امام حسین علیہ السلام نے جان کی قربانی دی۔
اربعین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اربعین کا عظیم پیدل مارچ موجودہ دور میں اس تحریک کا نمایاں مظہر ہے، اور جوں جوں اس میں مختلف قوموں کی شرکت بڑھتی ہے، اس کی مشابہت حج سے زیادہ واضح ہوتی جاتی ہے، جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ امت کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا پہلو بھی نمایاں ہے۔
انہوں نے زیارت امام حسین علیہ السلام پر اسلامی تعلیمات میں دی گئی خصوصی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اس عظیم واقعے اور اس کے بلند مقاصد کو زندہ رکھنے کے لیے ہے۔
آیت اللہ شب زندہ دار کے مطابق عزاداری کا ایک پہلو فرد کی اصلاح ہے، جس سے دل پاک ہوتا ہے اور اہل بیت علیہم السلام سے محبت مضبوط ہوتی ہے، جبکہ دوسرا پہلو سماجی اور تہذیبی ہے، جو معاشرے کو بیدار اور متحد رکھتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کی اصل ذمہ داری تبلیغ ہے، اور قرآن کی آیت «فَلَوْلَا نَفَرَ…» کی روشنی میں دین کی معرفت حاصل کرنا اسی مقصد کی تمہید ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ محرم اور صفر آج بھی اسلام کی زندگی کا ستون ہیں اور انہیں زندہ رکھنا ایک عظیم دینی فریضہ ہے۔









آپ کا تبصرہ