جمعہ 2 جنوری 2026 - 21:06
کردارِ علوی کو نمونۂ عمل بنانا، وقت کی سب سے بڑی ضرورت: حجۃ الاسلام سید حیدر عباس زیدی

حوزہ/ انڈین اسٹوڈنٹس یونین (قم المقدسہ) کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید حیدر عباس زیدی کا کہنا ہے کہ امام علی علیہ السلام کو محض نعروں، مجالس اور جذباتی وابستگی تک محدود کرنا امتِ مسلمہ کی ایک بڑی فکری کمزوری ہے، جب تک امام علی علیہ السلام کی فکر، سیرت اور عملی نمونے کو زندگی کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک عدل، دیانت اور حق پسندی جیسے بنیادی اسلامی اصول معاشرے میں راسخ نہیں ہو سکتے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انڈین اسٹوڈنٹس یونین (قم المقدسہ) کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید حیدر عباس زیدی، نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں امام علی علیہ السلام کی شخصیت کو صرف تاریخی یا مذہبی عنوان کے طور پر پیش کرنا کافی نہیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امام علی علیہ السلام کو ایک زندہ، متحرک اور قابلِ عمل نمونہ بنا کر پیش کیا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے ساتھ ہونے والے اس تفصیلی انٹرویو میں حجت الاسلام والمسلمین سید حیدر عباس زیدی نے امام علی علیہ السلام کی معرفت، ان کی آفاقی حیثیت، نوجوان نسل کی ذمہ داریوں، نہج البلاغہ کی اہمیت اور موجودہ مسلم معاشرے کو درپیش فکری چیلنجز پر کھل کر گفتگو کی۔ ذیل میں اس انٹرویو کا مکمل متن پیش کیا جا رہا ہے:

سوال: سب سے پہلے یہ بتائیے کہ آج کے زمانے میں امام علی علیہ السلام کی صحیح معرفت حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سب سے پہلے میں آپ اور تمام حوزہ نیوز ایجنسی کے قارئین کی خدمت میں 13 رجب ولادت با سعادت مولائے متقیان علی بن ابی طالب علیہ السلام کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میری نظر میں آج کے زمانے میں امام علی علیہ السلام کی صحیح معرفت حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہم نے امام علی علیہ السلام کو صرف نعروں تک محدود رکھا ہے۔ ہم امام علیہ السلام کا نام تو بہت لیتے ہیں، لیکن ان کی فکر، ان کے کردار اور ان کے طرزِ زندگی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم زبان سے امام علی علیہ السلام کو مانتے ہیں، مگر عمل میں ان کے راستے سے دور بھاگتے ہیں۔ یہی رویہ ہمیں امام علی علیہ السلام کی حقیقی معرفت سے دور کر دیتا ہے۔

سوال: کیا آپ کے خیال میں امام علی علیہ السلام کو صرف مذہبی دائرے تک محدود کرنا ایک بڑی غلطی ہے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

جی بالکل۔ امام علی علیہ السلام کو صرف ایک مذہبی شخصیت سمجھنا امام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ امام علی علیہ السلام صرف ایک مسلک کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے نمونہ عمل ہیں۔ انصاف، عبادت، حکومت، انسانیت اور حتیٰ کہ دشمنوں کے ساتھ نیکی برتاؤ میں بھی امام علی علیہ السلام ایک کامل مثال و نمونہ ہیں۔ جب ہم امام علی علیہ السلام کو صرف مسلکی حدود میں بند کر دیتے ہیں تو ان کا عالمی اور انسانی پیغام دب جاتا ہے۔

سوال: آپ فرماتے ہیں کہ اگر انسان کو امام علی علیہ السلام کی صحیح پہچان ہو جائے تو وہ خود اپنا محاسبہ کرنے لگتا ہے، اس کی وضاحت فرمائیں۔

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

جی ہاں، امام علی علیہ السلام کی معرفت انسان کو اس کے اپنے ضمیر کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ امام علی علیہ السلام کا عدل، ان کا تقویٰ اور ذمہ داری کا احساس انسان سے سوال کرتا ہے کہ تم خود کہاں کھڑے ہو؟ اسی لیے بہت سے لوگ امام علی علیہ السلام سے محبت تو کرتے ہیں، لیکن ان کو پڑھنا اور سمجھنا نہیں چاہتے، کیونکہ امام علی علیہ السلام انسان سے سچائی، قربانی اور دیانت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سوال: امام علی علیہ السلام کی شخصیت کا کون سا پہلو آج کے معاشرے کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

میرے نزدیک امام علی علیہ السلام کی سب سے نمایاں صفت خدا کا خوف اور خدا کی اطاعت ہے۔ آج ہم طاقت، عہدے اور کامیابی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، لیکن امام علی علیہ السلام ہمیں بتاتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان خدا کے سامنے سرخرو ہو۔ امام علی علیہ السلام کی پوری زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ چاہے اقتدار ہو یا فقر، اصل قدر بندگی ہے۔

سوال: کیا یہی بات امام علی علیہ السلام کو دوسرے حکمرانوں سے ممتاز بناتی ہے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

جی ہاں، بالکل۔ تاریخ میں بہت سے حکمران گزرے ہیں، لیکن امام علی علیہ السلام واحد حکمران ہیں جن کی حکومت بھی عبادت بن گئی۔ امام علی علیہ السلام اقتدار کو ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ خدا کی امانت سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کا انصاف سخت ہونے کے باوجود شفاف ہے، اور ان کی نرمی کمزوری نہیں بلکہ وقار کی علامت ہے۔

سوال: آج کے مسلمان معاشرے میں امام علی علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنا مشکل کیوں لگتا ہے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

اس لیے کہ امام علی علیہ السلام کی تعلیمات ہمیں آرام اور سہولت کی زندگی سے نکال کر ذمہ داری کی طرف لے جاتی ہیں۔ امام علی علیہ السلام ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتے ہیں، چاہے وہ ظلم ہمارے اپنے فائدے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ راستہ آسان نہیں، اسی لیے ہم اکثر امام علی علیہ السلام کے نام پر فخر تو کرتے ہیں، لیکن ان کے راستے پر چلنے سے گھبراتے ہیں۔

سوال: نوجوان نسل تک امام علی علیہ السلام کا پیغام کس انداز میں پہنچایا جانا چاہیے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

نوجوانوں کے سامنے امام علی علیہ السلام کو ایک زندہ اور قابلِ عمل نمونہ بنا کر پیش کرنا چاہیے، نہ کہ صرف ایک تاریخی شخصیت کے طور پر۔ امام علی علیہ السلام کو اخلاق، انصاف، علم، فکر اور خودسازی کے امام کے طور پر متعارف کرانا ہوگا۔ اگر نوجوان امام علی علیہ السلام کو صرف منبر اور مجلس تک محدود دیکھیں گے تو وہ ان سے حقیقی طور پر جڑ نہیں سکیں گے۔

سوال: کیا اس سلسلے میں نہج البلاغہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

یقیناً۔ نہج البلاغہ امام علی علیہ السلام کی فکر اور سوچ کا آئینہ ہے۔ اگر نہج البلاغہ کو صحیح طریقے سے پڑھا اور سمجھا جائے تو یہ انسان کی سوچ، سیاست، اخلاق اور عبادت سب کو درست سمت دے سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نہج البلاغہ کو صرف حوالہ بناتے ہیں، زندگی کا رہنما نہیں بناتے۔

سوال: امام علی علیہ السلام کی معرفت کے بغیر دین کس حد تک نامکمل رہ جاتا ہے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

بہت حد تک۔ امام علی علیہ السلام توحید کی عملی تصویر ہیں۔ اگر امام علی علیہ السلام کو نہ سمجھا جائے تو دین صرف چند عبادات تک محدود ہو جاتا ہے، حالانکہ دین پوری زندگی کو سنوارنے کا نظام ہے۔ امام علی علیہ السلام کے بغیر دین کی اصل روح سمجھ میں نہیں آتی۔

سوال: آخر میں اہلِ ایمان کے لیے آپ کا پیغام کیا ہے؟

مولانا سید حیدر عباس زیدی:

میرا پیغام یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام کو صرف نام، نعرہ یا جذباتی وابستگی تک محدود نہ کریں۔ امام علی علیہ السلام کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی کوشش کریں۔ امام علی علیہ السلام سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انصاف، دیانت، تقویٰ اور حق پسندی کو اختیار کریں۔ اگر ہم نے امام علی علیہ السلام کو صرف زبان تک محدود رکھا تو ہم نے خود ان کے پیغام کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha