حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنو/ ماہ مبارک رمضان میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے اقوال سے آشنائی کے لئے حوزہ علمیہ حضرت غفرانمآب رحمۃ اللہ علیہ لکھنو کے زیر اہتمام "درس نہج البلاغہ" کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی صاحب قبلہ پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفرانمآب "نہج البلاغہ" کے تیسرے اور آخری حصہ "کلمات قصار" کا درس دے رہے ہیں۔ یہ درس "بارہ بنکی عزاداری" یوٹیوب چینل سے شب میں 9 بجے نشر ہو رہا ہے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے 29 رمضان المبارک کو نہج البلاغہ کے باب کلمات قصار کی چوتھی حدیث (تسلیم و رضا بہترین مصاحب، اور علم شریف ترین میراث ہے، اور علمی و عملی اوصاف نو بنو خلعت ہیں، اور فکر صاف و شفاف آئینہ ہے۔) کے دوسرے فقرے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: علم عظیم میراث ہے، البتہ وہی علم با فضیلت ہے جو عمل کے ساتھ ہو۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث "زمین پر علماء کی مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے کہ جن کے ذریعہ خشکی اور تری کی تاریکی میں راستہ تلاش کیا جاتا ہے، اگر ستارے غائب ہو جائیں تو راستہ جاننے والے بھٹک سکتے ہیں۔" کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: علماء رہنمائی کرتے ہیں لیکن اگر علماء غائب ہو جائیں یا بے عمل ہو جائیں تو ہدایت کے بجائے گمراہی ملے گی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: اگر علماء سے سہواً کوئی غلطی ہو جائے تو قیامت کے دن اللہ انہیں معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر جان بوجھ کر کوئی غلطی نہیں ہوئی تو اللہ ان کی مغفرت کرے گا۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مزید فرمایا: اگر اللہ کی نظر میں علماء کا مرتبہ بلند ہے تو اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں کہ اللہ نے ان کو جو علم دیا ہے وہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ لوگ اس پر عمل کریں۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے "بن سلیمان" کی روایت "ہم نے انجیل میں دیکھا کہ اللہ تبارک و تعالی نے حضرت عیسی (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام) سے فرمایا: علماء کا احترام کریں، ان کی فضیلت کو پہچانیں، کیونکہ ہم نے علماء کو انبیاء و مرسلین کے علاوہ اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے جیسے سورج کو ستاروں پر فضیلت دی ہے۔ جیسے آخرت کو دنیا پر فضیلت دی ہے، جیسے ہماری فضیلت ہر شے پر ہے۔" بیان کرتے ہوئے فرمایا: دین نے ہمیں علماء کے احترام کا حکم دیا ہے، ان کی زیارت کریں، ان سے ملاقات کریں، اگر بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت کریں۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بغیر پیر کے انسان چل نہیں سکتا، مولا نے علماء کی زیارت کو "علم کے پیر" سے تشبیہ دی ہے۔ یعنی جو علماء کی زیارت کرتے ہیں، ان سے ملاقات کرتے ہیں، ان کے پاس آتے جاتے ہیں، ان کے پیر سالم ہیں یعنی وہ صحت مند ہیں۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حدیث "ہماری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل ہیں۔" بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس سے مراد اہل بیت علیہم السلام ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام انبیاء اور مرسلین سے افضل ہیں۔
"علماء کو دوسروں پر وہی فضیلت ہے جو سورج کو ستاروں پر فضیلت ہے۔" کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: علماء کسی کے زیر نظر نہیں ہیں بلکہ دوسرے ان کے زیر نظر ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: اصل یہ ہے کہ علماء کو تابع نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکام کو علماء کا تابع ہونا چاہیے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: جس طرح سورج کی روشنی ہر جگہ پہنچتی ہے وہ یہ نہیں دیکھتی کہ یہ امیر کی چھت ہے یا غریب کا آنگن ہے، اسی طرح علماء کا علم ہر جگہ پہنچتا ہے چاہے سامنے والا دولت مند ہو یا فقیر ہو۔
"علماء کو دوسروں پر وہی فضیلت ہے جو آخرت کو دنیا پر فضیلت ہے۔" کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: دنیا فانی ہے، آخرت باقی ہے، لہذا اہل علم اور علماء کو بھی بقا ہے۔
آپ کا تبصرہ