حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عمید جامعہ ناظمیہ لکھنؤ آیت اللہ سید حمید الحسن نے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کی مکمل تائید کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہبرِ انقلاب اسلام، حق اور امتِ مسلمہ کے حقیقی علمبردار ہیں اور ان کی قیادت دینی بصیرت، اخلاص اور بے خوفی کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی سورۂ نصر کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن ہمیشہ حق کے حامیوں کی تائید اور باطل کے مخالفین کے لیے ذلت و رسوائی کی خبر دیتا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں یہی اصول کارفرما رہا ہے۔ آج بھی حق کے خلاف سازشیں نئی بات نہیں، بلکہ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔
آیت اللہ سید حمید الحسن نے کہا کہ عزاداریِ امام حسین علیہ السلام ہمیشہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کا معیار رہی ہے اور اسی مکتب سے حق پسندوں نے ہر دور میں درست فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسی حسینی فکر کی بنیاد پر ایرانی قوم کو بیدار کیا اور شہنشاہیت کے نظام کا خاتمہ کر کے اسلام کو سربلند کیا۔
اپنے ذاتی مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں دہلی میں رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ سے طویل ملاقات کا شرف حاصل رہا، جس میں انہوں نے رہبرِ انقلاب کو صاف دل، صاف گو، نڈر اور اسلام کے مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھنے والی عظیم شخصیت کے طور پر پایا۔ بعد ازاں بھی عالمی کانفرنسوں اور مختلف مواقع پر ان سے ملاقاتوں میں یہی اخلاص، محبت اور دینی جذبہ نمایاں رہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم رہبرِ معظم کے ہر اس اقدام کی بھرپور تائید کرتے ہیں جو دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہو۔ ہم ہندوستان سے لے کر ایران و عراق تک علماء کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہیں، کیونکہ ہمارا مقصد ایک ہے اور وہ ہے حق کی حمایت۔
حجۃ الاسلام سید حمید الحسن نے کہا کہ جو عناصر رہبرِ انقلاب کے مخالف ہیں، وہ درحقیقت حق کے مخالف ہیں، ایسے لوگ ہر دور میں ذلیل رہے ہیں اور آئندہ بھی ذلت ہی ان کا مقدر ہوگی۔ آخر میں انہوں نے رہبرِ معظم کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تھے، ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہبرِ انقلاب کے ساتھ رہیں گے۔









آپ کا تبصرہ