ہفتہ 31 جنوری 2026 - 22:10
ایران کا بڑا سکیورٹی کریک ڈاؤن؛ اسٹارلنک کے ذریعے بننے والا مبینہ عالمی نیٹ ورک بے نقاب

حوزہ/حالیہ تاریخ میں ایران نے ایک غیر معمولی سیکیورٹی آپریشن کے ذریعے ایسے مبینہ عالمی نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے تانے بانے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد، امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے اور اسٹارلنک ٹیکنالوجی سے جا ملتے ہیں۔

تحریر: وجاحت ہادی (ریسرچر/ سیکیورٹی اینالسٹ)

حوزہ نیوز ایجنسی| حالیہ تاریخ میں ایران نے ایک غیر معمولی سیکیورٹی آپریشن کے ذریعے ایسے مبینہ عالمی نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے تانے بانے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد، امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے اور اسٹارلنک ٹیکنالوجی سے جا ملتے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق، اس نیٹ ورک کا مقصد ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا تھا، تاہم بروقت حکمتِ عملی کے تحت اسے ناکام بنا دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے کافی عرصہ قبل یہ محسوس کر لیا تھا کہ اسٹارلنک کے انٹرنیٹ ڈیوائسز اسمگل ہو کر ملک کے اندر داخل ہو رہی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کے بجائے ان ڈیوائسز کو جان بوجھ کر مانیٹر کیا تاکہ پورے نیٹ ورک کو ٹریک کیا جا سکے۔

انٹرنیٹ بندش اور خفیہ سگنلز کی نشاندہی

ایرانی حکام کے مطابق، ایک مرحلے پر ملک بھر میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کیا گیا، تاہم اس کے باوجود بیرونِ ملک ویڈیوز کی ترسیل جاری رہی، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ اندرونِ ملک ہزاروں اسٹارلنک ٹرمینلز فعال ہیں۔

اس کے بعد ریڈیو فریکوئنسی ٹریکنگ، آر ایف اسکینرز، ڈائریکشن فائنڈنگ آلات اور موبائل مانیٹرنگ وینز کے ذریعے ان ٹرمینلز کے سگنلز کو ٹریس کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو روس نے یوکرین میں اسٹارلنک کے خلاف استعمال کی تھی۔

ہزاروں ڈیوائسز اور افراد گرفتار

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، جیسے ہی اسٹارلنک ٹرمینلز آن ہوئے، ایک ایک کر کے گھروں، عمارتوں اور مخصوص علاقوں تک پہنچ کر کارروائیاں کی گئیں۔ ہزاروں ڈیوائسز ضبط کی گئیں جبکہ ان کے استعمال میں ملوث افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ گرفتار افراد نے اسمگلنگ کے نیٹ ورک، اندرونی سہولت کاروں اور بیرونی رابطوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، جرمنی، اٹلی اور دیگر ممالک میں موجود مبینہ اسرائیلی ایجنٹس ان ویڈیوز کو آگے پھیلا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک ایسا شخص بھی گرفتار کیا گیا جس پر ایرانی سپریم لیڈر کے گھر کے باہر احتجاج منظم کرنے کا الزام تھا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی اسرائیل کو اس نیٹ ورک کے مکمل طور پر بے نقاب ہونے کا اندازہ ہوا، خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایران نے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔

اسی دوران اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ایئرکرافٹ کیریئر تعینات کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں، جبکہ ایرانی بحریہ کی موجودگی بھی خطے میں رپورٹ کی جا رہی ہے۔

روس اور چین کی جانب سے ایران کی حمایت کے بیانات سامنے آئے ہیں، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے امریکی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔

جانی نقصان اور صورتحال

ایرانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت جانی نقصان بھی ہوا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن جب صورتحال پرتشدد ہوئی اور عوامی و مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا تو کارروائی ناگزیر ہو گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پورے واقعے میں ایران کی کوئی بڑی سیاسی یا عسکری شخصیت نشانہ نہیں بنی، جو سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک اہم پہلو سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشہ ہے کہ صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران اور پوری مسلم اُمت کی حفاظت فرمائے۔ آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha