تحریر: مقداد علوی
حوزہ نیوز ایجنسی I
شبیہِ مصطفٰی: ولادتِ آفتابِ کربلا علی اکبر علیہ السلام!
مدینہ منوّرہ کی وہ بابرکت رات... جب ہوا میں معطر خوشبوئیں محوِ پرواز تھیں، مسجدِ نبوی کا گنبد چاند کی چاندنی سے منور تھا، اور گلی کوچوں میں رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی سرمدی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ یہ وہی مقدس شہر تھا جہاں وحی کا نزول ہوا، جہاں اسلام کی بنیادیں استوار ہوئیں، اور اب یہاں ایک اور عظیم شخصیت کے نور کی تجلی کا وقت قریب تھا۔
مقدس مہینہ، بابرکت لمحہ:
یہ 11 شعبان المعظم 33 ہجری کا بہاروں بھرا سا سماں تھا۔شعبان کا مہینہ، جو رحمتوں اور برکتوں کا پیغام لے کر آیا تھا، اپنے دامن میں ایک ایسے موتی کو سمیٹے ہوئے تھا جسے آگے چل کر اسلام کی تاریخ کا درخشاں باب بننا تھا۔ امام حسین علیہ السلام کے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو علم و حکمت کا مرکز، تقویٰ و طہارت کا پیکر، اور شجاعت و سخاوت کا نمونہ تھا۔
حضرت علی اکبر علیہ السلام کی تاریخ ولادت اور سن مبارک کے بارے میں مختصر سا تاریخی،و تنقیدی جائزہ.
1. ولادت کی تاریخ کا تعین:
· علی اکبر علیہ السلام کی ولادت 11 شعبان 33 ہجری کو ہوئی۔
· یہ تاریخ حضرت عثمان کے قتل (35 ہجری) سے پہلے کی ہے۔
· اس بات کی تائید شیخ ابن ادریس حلی کے حوالے سے ہوتی ہے، جنہوں نے اپنی کتاب (السرائر، حصہ مزار) میں امام علی علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے: (علی الاکبر عثمان کے دور میں متولد ہوئے)
2. کربلا میں عمر کا حساب:
· اگر ولادت 33 ہجری میں تسلیم کی جائے تو واقعہ کربلا (61 ہجری) میں آپ علیہ السلام کی عمر تقریباً 27 یا 28 سال بنتی ہے۔
3. عمر کے تعیّن کے لیے ایک اہم دلیل:
· مورخین اور نسب شناسوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ علی اکبر علیہ السلام اپنے بھائی امام سجاد علیہ السلام (جو کربلا میں 23 سال کے تھے) سے بڑے تھے۔ لہٰذا، کربلا میں آپ کی عمر کم از کم 24 سال سے زیادہ ہی ہو سکتی ہے۔
4. دوسرے اقوال کا تنقیدی جائزہ:
مورخین کے وہ اقوال جو آپ کی عمر 27 سال بتانے والے قول سے مختلف ہیں، دلیل سے عاری قرار دیے جاتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
· طریحی کا قول: کربلا میں آپ کی عمر 7 سال تھی۔ (یہ قول تاریخی حقائق سے میل نہیں کھاتا)
· طبرسی ("اعلام الوری" میں): عمر 18 سال تھی۔
· سروری ("مناقب" میں): عمر 19 سال تھی۔
· ابن نماحلی ("مثیر الاحزان" میں): عمر 10 سال سے زیادہ تھی۔
· یہاں ابن نما حلی کی مراد واضح نہیں، ممکن ہے ان کا مطلب 13 سال یا اس کے قریب ہو، لیکن یہ بات بھی بعید سمجھی جاتی ہے۔
(کتاب، آیت اللہ سید عبد الرزاق موسوی المقرم،ص 18)
نتیجہ:
مذکورہ بالا شواہد کی بنا پرسب سے راجح اور معقول قول یہی ہے کہ علی اکبر علیہ السلام کی ولادت 33 ہجری میں ہوئی اور واقعہ کربلا میں آپ کی عمر تقریباً 27 یا 28 سال تھی۔ باقی تمام اقوال یا تو تاریخی شواہد سے متصادم ہیں یا پھر ان کے پیچھے کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں ہے۔
(البتہ بعض علماءو خطباء برصغیر، اپنی تقریر و تحریر میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کا سن مبارک،18 سال بیان کرتے ہیں)
ماں کی گود میں آفتابِ تاباں:
حضرت لیلٰی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی، جو فصاحت و بلاغت کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، نے اپنے گود میں اس نور کو سمیٹا جس کی پیشانی سے نبوت کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ جیسے پورے گھر میں نورِ محمدی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تجلی دوبارہ ظہور پذیر ہوئی ہو۔ ننھے علی اکبر کی آمد پر گھر میں ایسی روحانی کیفیت طاری ہوئی جیسے بہاروں نے قبائیں اوڑھ لی ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندہ تصویر:
جب نوزائیدہ بچے کو غسل دے کر کپڑے پہنائے گئے،تو سب حیران رہ گئے۔ یہ تو گویا رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت کا عکس تھا۔ رنگ، روپ،شکل و شمائل، محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی یادیں تازہ کر رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب میدان کربلا کی طرف علی اکبر کو بھیجا تو تاریخ ان جملوں کے ساتھ گویا ہوئی کہ: امام حسین علیہ السلام نے آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا
اَللَّهُمَّ اِشْهَدْ فَقَدْ بَرَزَ إِلَيْهِمْ غُلاَمٌ أَشْبَهُ اَلنَّاسِ خَلْقاً وَ خُلُقاً وَ مَنْطِقاً بِرَسُولِكَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ كُنَّا إِذَا اِشْتَقْنَا إِلَی نَبِيِّكَ نَظَرْنَا إِلَيْهِ، امام حسین علیہ السلام فرما رہے تھے: اے اللہ اس قم اشقیاء پہ گواہ رہنا اب ان کی طرف وہ میرا بیٹا جا رہا ہے جو خلقت و سیرت،گفتار میں تیرے رسول کے عین مشابہ ہے جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا اشتیاق ہوتا، تو ہم علی اکبر کے چہرۂ انور کو دیکھ لیتے۔"(اللهوف علی قتلی الطفوف ج ۱، ص ۱۰۲)
نامِ نامی: علی اکبر:
آپ علیہ السلام کا نام"علی" رکھا گیا، جو امام علی علیہ السلام کے نام پر تھا، اور "اکبر" کی کنیت، جو آپ کے مقام و مرتبہ کی نشاندہی کرتی تھی۔ یہ نام نہ صرف ایک پہچان تھا، بلکہ اس میں وہ تمام فضائل و کمالات سمٹے ہوئے تھے، جو آگے چل کر آپ کی شخصیت کا حصہ بننے تھے۔(البتہ بعض نواسخ تاریخ کے اعتبار سے ..اکبر..آپکی کنیت،اپنے تمام بھائیوں میں سے بڑا ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے)
بچپن ہی سے پیکرِ ادب:
آپ علیہ السلام کا بچپن بھی عام بچوں سے مختلف تھا۔جب بولنا سیکھا تو پہلے لفظ (الله) اور (رسول) تھے۔ جب چلنا سیکھا تو آپ کی چال میں ایک وقار تھا، جیسے کوئی بزرگ شخص چل رہا ہو۔ بچپن ہی سے آپ کی پیشانی پر نورِ ایمان چمکتا تھا اور آنکھوں میں معرفت کی گہرائی تھی۔
علم و فضل کا بحرِ بیکراں:
آپ علیہ السلام نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام اور چچا امام حسن علیہ السلام کے سائے تلے علم سیکھا۔کم عمری میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا، حدیث کے بحرِ ذخار سے موتی چننے لگے، اور فقہ و عقائد میں مہارت حاصل کی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت مشہور تھی، آپ کا کلام سننے والا محو ہو جاتا تھا۔
عہد شباب میں ادب و اخلاق کا پیکر:
آپ علیہ السلام ادب کے پہاڑ تھے۔والدین کی خدمت کو عبادت سمجھتے، بڑوں کا ادب کرتے، چھوٹوں پر شفقت فرماتے۔ آپ کی مجلس علم و حکمت کا مرکز ہوتی، جہاں حلم و بردباری کے دریا بہتے۔
شجاعت و جوانمردی:
آپ علیہ میں فطری طور پر شجاعت و بہادری کے جوہر موجود تھے۔تلوار اور نیزہ بازی میں ماہر تھے، لیکن آپ کی شجاعت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ تھی، بلکہ آپ حق بولنے میں بھی بے مثال تھے۔
ولادت کی خوشی:
مدینے میں آپ علیہ السلام کی ولادت کی خوشی منائی گئی۔امام حسین علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "یہ میرا بیٹا علی ہے، اور یہ اکبر (سب سے بڑا) ہے۔" یہ الفاظ درحقیقت آپ کے بلند مقام کی نشاندہی تھے۔حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں،بلکہ ایک روحانی انقلاب کا آغاز تھی۔ آپ کی زندگی نورِ محمدی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا عملی نمونہ تھی، جو بعد میں کربلا کے میدان میں اپنے عروج کو پہنچی۔ آپ کی ولادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر چلنے میں ہے، چاہے اس راستے پر چلنے کے لیے جامِ شہادت ہی کیوں نہ پینا پڑے۔
آپ علیہ السلام کی ولادت کا یہ مقدس دن ہمیں یہ عہد کرنے پر آمادہ کرتا ہے کہ ہم بھی اپنی زندگیوں میں علم و عمل، ادب و اخلاق، اور شجاعت و استقامت کے وہ جوہر پیدا کریں، جو آپ کی ذاتِ گرامی سے وابستہ تھے۔









آپ کا تبصرہ