جمعرات 29 جنوری 2026 - 11:18
ایران کی روحانی قیادت، عالمی استکبار کے مقابلے میں اصول پسندی کی علامت ہے، آغا سید حسن موسوی

حوزہ/انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے صدر حجت الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی نے اپنے ایک بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کو روحانی، اخلاقی اور سیاسی مضبوطی کا عملی نمونہ قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے صدر حجت الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کو روحانی، اخلاقی اور سیاسی مضبوطی کا عملی نمونہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے عالمی دباؤ اور امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ متنازع بیانات کے باوجود اپنے اصول، ایمان اور اخلاقی قیادت پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

آغا سید حسن نے بیان میں کہا کہ ایران کی قیادت، حضرت امام روح اللہ خمینیؒ اور رہبرِ معظم حضرت امام خامنہ‌ای دام ظلہ کی رہنمائی میں، صرف عسکری یا اقتصادی طاقت کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ الٰہی اصولوں، عدل و انصاف اور اخلاقی جرأت کی بنیاد پر عالمی دباؤ کا مقابلہ کر رہی ہے۔

انہوں نے قرآنی اور تاریخی مثالوں کے ذریعے زور دیا کہ فرعون (Fir‘awn) نے اپنے لشکر، دولت اور طاقت کے بل بوتے پر بنی اسرائیل پر ظلم کیا، مگر آخرکار اللہ کی قدرت سے سمندر میں غرق ہو گیا (سورہ یونس: 90–92)۔

نمرود (Namrood) نے حضرت ابراہیمؑ کے پیغام کو رد کیا، ظلم و تکبر پر مبنی حکومت کی، لیکن حق و عدل کے سامنے اس کا انجام رسوا کن ہوا۔

آغا سید حسن نے مزید کہا کہ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ حقیقی طاقت ظلم، دولت یا دباؤ میں نہیں، بلکہ اصول، ایمان اور اخلاقی پختگی میں ہے۔ حضرت امام خمینیؒ نے اسی اصول کو عالمی استکبار کے سامنے ایک مضبوط، باوقار اور باعزت مزاحمتی طریقے کے طور پر نافذ کیا اور حضرت امام خامنہ‌ای دام ظلہ نے اسے عملی اور اخلاقی استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا۔

انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو عالمی استکبار کی کمزوری اور ایران کی بڑھتی ہوئی مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج عالمی ادارے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم کیے گئے تھے، خود بے بس اور کمزور ہو چکے ہیں۔

آغا سید حسن نے دنیا بھر کے مسلمانوں، آزاد اقوام اور خودمختار ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی تجاوزات اور استکباری رویوں کی مذمت کریں اور بین الاقوامی سطح پر ایران کے اصولی موقف کی حمایت کریں۔

انہوں نے قرآن کی آیت پیش کی: "إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ". جو لوگ اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے اپنی دولت خرچ کرتے ہیں، ان پر وہ ضائع ہو جائے گی اور وہ ہار جائیں گے، اور کافر جہنم میں جمع کیے جائیں گے۔ (سورہ الانفال، 8:36)

انہوں نے زور دیا کہ آج ایران صرف ایک ریاست نہیں، بلکہ ایک زندہ فلسفہ، اخلاقی مزاحمت کی علامت اور عالمِ اسلام کے لیے روحانی و سیاسی مشعل راہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha