ہفتہ 31 جنوری 2026 - 22:41
"قرآن مجید اور سائنس" ایک منظم اور علمی مطالعہ

حوزہ/ یہ مقالہ قرآنِ مجید اور جدید سائنس کے باہمی تعلق کا ایک علمی و تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مقالے کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ قرآنِ مجید ایک الہامی کتاب ہونے کے ناطے کسی سائنسی نظریے کا محتاج نہیں، بلکہ وہ انسان کو کائنات اور مظاہرِ فطرت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، جو سائنسی طرزِ فکر کی بنیاد ہے۔ جدید سائنس مشاہدے اور تجربے کے ذریعے جن حقائق تک پہنچتی ہے، قرآن ان کی طرف اصولی اور اجمالی انداز میں پہلے ہی اشارہ کر چکا ہے۔ اس تحقیق میں علم، فلکیات، ارضیات، حیات، اور انسانی تخلیق سے متعلق قرآنی آیات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن اور سائنس کے درمیان کوئی تصادم نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ تاہم، دونوں کے مابین بنیادی فرق یہ ہے کہ سائنس انسانی علم ہے جو ارتقا پذیر ہے، جبکہ قرآنِ مجید کامل، قطعی اور ابدی وحی ہے۔ یہ مطالعہ عصرِ حاضر میں قرآن فہمی کے سائنسی و فکری پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی | تمہید: قرآنِ مجید محض ایک مذہبی صحیفہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو کائنات، فطرت اور خود اپنی ذات پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں بار بار تفکر، تدبر، تعقل اور تحقیق جیسے تصورات پر زور دیا گیا ہے، جو دراصل سائنسی طرزِ فکر کی بنیادی اساس ہیں۔ جدید سائنس مشاہدہ، تجربہ اور استدلال کے ذریعے کائنات کے مظاہر کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ قرآن انہی مظاہرِ فطرت کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں (آیات) قرار دے کر انسان کو ان میں غور و فکر کی ترغیب دیتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن اور سائنس کے درمیان ایک فکری ربط اور اصولی ہم آہنگی واضح طور پر نظر آتی ہے۔

علم اور تحقیق کی قرآنی بنیاد: قرآنِ مجید نے علم کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور جہالت کو انسانی زوال کا سبب قرار دیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (کہہ دیجیے! کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟) (سورۃ الزمر آیت 9( اسی طرح پہلی وحی ہی علم اور مطالعہ سے متعلق ہے: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ )سورۃ العلق آیت 1) یہ آیات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ اسلامی فکر کی بنیاد علم، تحقیق اور فہمِ کائنات پر استوار ہے، جو کسی بھی سائنسی رویے کے لیے بنیادی شرط ہے۔

کائنات کی تخلیق اور فلکیاتی اشارات: جدید فلکیاتی سائنس کے مطابق کائنات ایک مسلسل پھیلاؤ (Expansion) کے عمل سے گزر رہی ہے، جسے موجودہ دور میں Big Bang Theory کے بعد کے مراحل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کی طرف نہایت بلیغ انداز میں اشارہ کرتا ہے: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں) (سورۃ الذاریات آیت 47(

اسی طرح آسمانی اجرام کی باقاعدہ گردش کا ذکر یوں آیا ہے: وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں) (سورۃ الانبیاء آیت33( یہ آیت فلکیات کے جدید تصورات سے حیرت انگیز مطابقت رکھتی ہیں اور اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ قرآن انسان کو کائناتی نظام پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

زمین، ارضیات اور توازنِ فطرت: جدید ارضیاتی سائنس (Geology) کے مطابق زمین کا توازن بڑے پیمانے پر پہاڑوں اور ارضی ساخت سے قائم ہے، جسے tectonic balance کہا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ (اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگا نہ جائے) (سورۃ النحل آیت 15( یہ آیت زمین کے طبعی استحکام اور فطری توازن کی طرف ایک اہم قرآنی اشارہ ہے۔

پانی اور حیات: سائنس اس حقیقت پر متفق ہے کہ زندگی کا آغاز پانی سے ہوا۔ حیاتیاتی علوم (Biology) میں پانی کو زندگی کی اساس قرار دیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید اس اصول کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ (اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو پیدا کیا) (سورۃ الانبیاء آیت 30( یہ آیت حیات اور پانی کے باہمی تعلق کو ایک بنیادی سائنسی حقیقت کے طور پر پیش کرتی ہے۔

انسانی تخلیق اور جنینی مراحل: جدید علمِ جنین (Embryology) کے مطابق انسانی تخلیق مختلف تدریجی مراحل میں مکمل ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید ان مراحل کو غیر معمولی اختصار اور دقت کے ساتھ بیان کرتا ہے: ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً(پھر ہم نے نطفے کو علقہ بنایا، پھر علقہ کو مضغہ بنایا) (سورۃ المؤمنون آیت 14( اسی مضمون کی توثیق سورۃ الحج میں بھی ملتی ہے (الحج آیت 5)، جو انسانی تخلیق کے قرآنی تصور کی ہمہ گیری کو ظاہر کرتی ہے۔

قرآن اور بین العلومی (Interdisciplinary) فکر: قرآن کسی ایک مخصوص علم تک محدود نہیں بلکہ کائنات کو ایک وحدتِ کلی کے طور پر دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فزکس، کیمسٹری، بایولوجی، فلکیات اور ارضیات جیسے متنوع علوم قرآنی اشارات سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم قرآن کا مقصد سائنسی کتاب بننا نہیں، بلکہ انسان کو تحقیق پر آمادہ کرنا اور علم کو اخلاقی و معنوی بنیاد فراہم کرنا ہے۔

قرآنِ مجید اور سائنس میں بنیادی امتیاز: The Essential and Principled Difference Between the Holy Qur’an and Modern Science قرآنِ مجید اور سائنس کے درمیان ایک بنیادی اور اصولی فرق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ سائنس ایک انسانی علم ہے جو مشاہدے، تجربے اور آزمائش کے مراحل سے گزرتا ہے۔ انسانی دریافتیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، ان میں اصلاح اور ترمیم ہوتی رہتی ہے اور یوں سائنسی نظریات مختلف ورژنز کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اس کے برعکس قرآنِ مجید انسانی تجربے کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے۔ وہ کلامِ الٰہی ہے جو ہر قسم کے نقص، خطا اور ارتقا سے پاک ہے۔ قرآن اپنی تکمیل اور قطعیت کا خود اعلان کرتا ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ(آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا)(سورۃ المائدہ آیت 3(

سائنس جن حقائق کو صدیوں کی تحقیق کے بعد دریافت کرتی ہے، قرآن ان کی طرف اصولی یا اجمالی انداز میں پہلے ہی اشارہ کر چکا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ سائنس قرآن کی تصدیق کرتی ہے، نہ کہ قرآن سائنس کا محتاج ہے۔

نتیجہ: یہ مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قرآن اور سائنس کے درمیان کوئی تصادم نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور تحقیقی ربط موجود ہے۔ قرآن نہ تو سائنسی اصطلاحات میں گفتگو کرتا ہے اور نہ ہی تجربہ گاہی زبان اختیار کرتا ہے، بلکہ ایسی آفاقی تعبیر پیش کرتا ہے جو ہر دور کے انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ جیسے جیسے سائنس ترقی کر رہی ہے، ویسے ویسے قرآنی آیات کی معنوی گہرائی مزید آشکار ہوتی جا رہی ہے۔

قرآن اور سائنس کا یہ باہمی تعلق انسان کو ایک متوازن، باشعور اور اخلاقی علمی رویہ اختیار کرنے کی رہنمائی فراہم کرتا ہے، جو عصرِ حاضر کی ایک بنیادی فکری ضرورت ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید کی آیاتِ تشریعی اور تکوینی دونوں میں تدبر کی صحیح بصیرت عطا فرمائے، ہمارے دلوں اور اذہان کو علمِ نافع سے منور کرے، اور ہمیں ایسا سائنسی و فکری شعور نصیب فرمائے جو ایمان، اخلاق اور انسانی فلاح کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ پروردگارِ عالم اس علمی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے قرآن فہمی کے فروغ، تحقیق کے صحیح منہج اور عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کے متوازن جواب کا ذریعہ بنائے اور ہمیں علم کے ساتھ خشیت، تحقیق کے ساتھ دیانت، اور ترقی کے ساتھ ذمہ داری عطا فرمائے۔ آمین والحمدللہ ربّ العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha