جمعرات 29 جنوری 2026 - 12:15
ماہِ شعبان کی نورانی فضا میں صدائے علم

حوزہ/ یہ شمارہ “صدائے علم” اپنے عنوان کی حقیقی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے—علم، شعور، روحانیت اور سماجی ذمہ داری کا خوبصورت امتزاج۔ یہ محض ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک فکری و تربیتی دستاویز ہے جو قاری کو سوچنے، سنورنے اور سنوارنے کی دعوت دیتا ہے۔

تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی | یہ شمارہ “صدائے علم” اپنے عنوان کی حقیقی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے—علم، شعور، روحانیت اور سماجی ذمہ داری کا خوبصورت امتزاج۔ یہ محض ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک فکری و تربیتی دستاویز ہے جو قاری کو سوچنے، سنورنے اور سنوارنے کی دعوت دیتا ہے۔

مجلہ کا مزاج خالص دینی، اصلاحی اور فکری ہے۔ تحریروں میں خطیبانہ جوش کے ساتھ علمی استناد بھی موجود ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارت نے محض جذباتی مواد پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تحقیق اور حوالہ جات کا اہتمام بھی رکھا ہے۔ آیات، احادیث اور اقوالِ ائمہؑ کے ذریعے مضامین کو مضبوط بنیاد دی گئی ہے۔

ایک مضمون میں بگڑتے حالات، عدل کے فقدان اور اخلاقی زوال پر سنجیدہ گفتگو کی گئی ہے۔ یہ تحریر محض شکوہ نہیں بلکہ اصلاح کی طرف رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔ عدل کو اسلامی معاشرے کی بنیاد قرار دینا اور اس کے بغیر انسانی نظام کے بکھرنے کی نشاندہی کرنا فکری پختگی کی علامت ہے۔

شمارے کا نمایاں اور مرکزی مضمون “خدمتِ خلق کی فضیلت و اقسام” ہے، جو نہایت مدلل، مربوط اور عملی نوعیت کا ہے۔ اس میں خدمت کو محض مالی مدد تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ انسانی ہمدردی، سماجی تعاون اور اخلاقی ذمہ داری کے وسیع مفہوم میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے قرآنی آیات اور سیرتِ معصومینؑ کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ عبادت اور خدمتِ خلق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہ مضمون اصلاحِ معاشرہ کے لیے براہِ راست رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

صداے علم میں روحانی فضا اور ماہِ شعبان کی مناسبت تحریریں اپنے دامن میں رکھتا ہے۔ جس میں ماہِ شعبان، ولادتِ امام زمانہؑ اور انتظار کے موضوعات نے شمارے کو روحانی رنگ عطا کیا ہے۔ دعائیہ اسلوب، مناجاتی جملے اور روایات کی روشنی میں انتظار کو محض عقیدہ نہیں بلکہ عملی تیاری کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ حصہ قاری کے دل میں شوقِ ظہور اور اصلاحِ نفس دونوں کو بیدار کرتا ہے۔

شمارے میں شامل منظوم کلام جذباتی وابستگی اور عقیدت کا خوبصورت اظہار ہے۔ زبان سادہ مگر اثر انگیز ہے، اور اشعار میں محبتِ اہل بیتؑ کی حرارت محسوس ہوتی ہے۔ یہ حصہ رسالے کے سنجیدہ علمی مزاج میں ایک لطیف ادبی توازن پیدا کرتا ہے۔

شمارہ کے بعض مضامین میں تاریخی شخصیات اور مذہبی واقعات کے حوالے سے کثیر مصادر درج کیے گئے ہیں، جو تحقیقی ذوق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سے قاری کو مزید مطالعہ کی ترغیب بھی ملتی ہے اور تحریر کا علمی وقار بھی بڑھتا ہے۔

شمارہ کی زبان مجموعی طور پر شستہ، مذہبی لَے سے ہم آہنگ اور خطیبانہ تاثیر رکھتی ہے۔ کہیں کہیں طباعتی یا املا کی خفیف لغزشیں دکھائی دیتی ہیں، مگر وہ مفہوم پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ اسلوب کا جوش خطابت سے قریب ہے، جو مجلہ کے ہدفی قارئین کے لیے موزوں بھی ہے۔

“صدائے علم” کا یہ شمارہ دل و دماغ دونوں کو مخاطب کرتا ہے۔ یہ ایمان کو تازگی، فکر کو سمت اور عمل کو مقصد دیتا ہے۔ خاص طور پر خدمتِ خلق، عدلِ اجتماعی اور انتظارِ امامؑ جیسے موضوعات اسے محض مذہبی رسالہ نہیں بلکہ ایک اصلاحی تحریک کا ترجمان بنا دیتے ہیں۔

اگر یہ مجلہ اسی سنجیدگی، تحقیقی معیار اور روحانی حرارت کے ساتھ شائع ہوتا رہا تو یقیناً دینی و فکری حلقوں میں ایک مؤثر آواز ثابت ہوگا۔

آخر میں دعا ہے کہ رب کریم اس بابرکت علمی و اصلاحی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس کے قلمکاروں، مرتبین اور معاونین کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور اسے قارئین کے لیے ہدایت، بصیرت اور عملِ صالح کا ذریعہ بنائے۔ یہ رسالہ دلوں میں نورِ ایمان، فکر میں پختگی اور زندگیوں میں خدمت، عدل اور اصلاح کی روح کو بیدار کرنے کا وسیلہ بنتا رہے۔ آمین۔والحمدللہ رب العالمین ۔

صدائے علم مجلہ کی پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha

تبصرے

  • محسن مہدی رضوی ہلوری IN 17:04 - 2026/01/29
    جزاک اللہِ بہت اچھی تحریریں