حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد جامعہ بنت الہدیٰ دارالقرآن نسواں جونپور نے کہا کہ موجودہ دور میں آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای جن کو سارا زمانہ اسلامی انقلاب کے رہبر کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے؛ آپ امت مسلمہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھنے والے گروہوں اور اداروں کی حمایتی کی حیثیت سے ایک طاقتور اور دلیر رہنما ہیں۔
آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی زندگی اور خدمات کا مختصر جائزہ
انہوں نے رہبرِ معظم کی عظیم زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای 16 جولائی 1939ء کو مشہد ایران میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشہد میں حاصل کی اور بعد میں قم کے حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے اور 1989 سے ایران کے منتخب رہبر ہیں۔
آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تعلیمات
محترمہ انجم فاطمہ نے کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تعلیمات، ان کی حکیمانہ باتوں کی بہت اہمیت ہے؛ انہوں نے لوگوں کو عدل، انصاف، اور تقویٰ کی تعلیم دی۔
آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی خدمات
انہوں رہبر معظم کی عظیم خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ایران کی انقلابی تحریک کی قیادت کی اور حضرت آیت اللہ خمینی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد رکھنے کے بعد قیادت و رہبری کی ذمہ داری سنبھالی؛ انہوں نے ایران کی عسکری، ثقافتی، سیاسی اور سماجی ترقی کے لیے بہت سی کوششیں کیں۔
آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای یوں تو لگتا ہے کہ صرف ایران کے رہبر انقلاب ہیں، جبکہ آپ ہر مذہب کے کمزور، مجبور اور محروم لوگوں کیلیے عمومی طور پر رہنما بنے ہوئے ہیں اور ان کی مقبولیت ساری دنیا میں ہے؛ وہ ایسے سپریم لیڈر ہیں جن کا اثر پوری دنیا کی سیاست، معیشت، اور سماج پر محیط ہے۔
رہبرِ معظم آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا اثر
جامعہ بنت الہدیٰ دار القرآن کی استاد نے ولی امر مسلمین کے عالمی سطح پر اثر ورسوخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا اثر ایران میں تو ہے ہی، لیکن جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ باہر کی دنیا میں، خاص طور پر مسلم ممالک اور غیر اسلامی دنیا میں بھی اتنا پیوست ہے کہ الگ الگ کر کے شناخت مشکل ہے، البتہ ان کے پیروکار لبنان، عراق اور یمن میں کھلے عام دیکھے جا سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ