منگل 3 فروری 2026 - 01:15
رہبرِ معظم؛ دنیا کے محروم و مظلوم انسانوں کی پکار

حوزہ/موجودہ دور میں رہبرِ معظم آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای، عالمی استکباری طاقتوں کے مقابلے میں دنیا بھر کے محروم و مظلوم ضمیر کی ایک منفرد اور با اثر آواز ہیں جو نہ صرف ایران، بلکہ پوری دنیا کے محروم اور مظلوم انسانوں کی حمایت کیلیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔

تحریر: بنت زہراء حسینی گھوسوی

حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں جو ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے اور مظلوموں کی آواز بنے۔ جب کہیں طاقتور لوگ کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں ان کے حقوق چھینتے ہیں اور ان کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے تو کسی نہ کسی زندہ ضمیر نے مظلوموں کی آواز بن کر ظالم کے ایوانوں کو ہر زمانے میں للکارا ہے۔ اس موجودہ دور میں رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای اسی دنیا کے عالمی استکباری کے مقابلہ میں دنیا بھر کے محروم و مظلوم ضمیر کی ایک منفرد با اثر آواز ہیں ، جو نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے محروم اور مظلوم انسانوں کی حمایت کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔

رہبر معظم کی قیادت کا امتیاز صرف اور صرف ایران تک محدود نہیں ہے ۔ وہ صرف اپنے ملک کے لوگوں کے بارے میں نہیں سوچتے ، بلکہ دنیا کے ہر اس انسان کے لیے آواز اور عملی اقدام کرتے ہیں جو ظلم کا شکار ہیں ۔ مثال کے طور پر فلسطین کے وہ لوگ جو برسوں سے مشکلات میں ہیں ، یمن کے بچے جو جنگ اور بھوک کا سامنا کر رہے ہیں ، رہبر معظم ان سب کے حق میں بات کرتے ہیں ۔

رہبر معظم کا پیغام یہ ہے کہ انسان کی عزت، آزادی اور اپنے فیصلے خود کرنے کا حق صرف کسی ایک قوم ، ملک یا مذہب کے لیے نہیں ہے ، بلکہ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے ۔ یعنی دنیا کا ہر انسان، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو، عزت و عدالت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے ۔

ان کی دنیا کے کئی حکمرانوں، جو زبانی اور منافقانہ آواز نکالنے میں بھی منہ چوری کا مظاہرہ کرتے ہیں-- رہبر معظم صرف زبانی طور پر حمایت نہیں کرتے، بلکہ لوگوں کو سوچنے کا ایک راستہ بھی دکھاتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھاتے ہیں کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا درست نہیں ، کیونکہ خاموشی سے ظلم اور مضبوط ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے وہ " مزاحمت " کی بات کرتے ہیں ، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو باوقار طریقے سے ظلم کے خلاف کھڑا ہو جانا چاہیے ، چاہے وہ جدو جہد فکری ہو ، اخلاقی ہو یا علمی ۔

یہی وجہ ہےکہ دنیا کے بہت سے دیے ہوئے اور کمزور لوگ خود کو ان سے بیحد قریب محسوس کرتے ہیں ۔

انہیں لگتا ہے کہ کوئی ہے جو ان کے درد کو سمجھتا ہے اور ان کے حق میں بولتا ہے ، اس لیے وہ ان باتوں میں اپنی امید اور حوصلہ دیکھتے ہیں۔

رہبر معظم صرف ایک سیاسی یا قومی رہنما نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسے عالمی ضمیر کی علامت ہیں جو طاقت کے دور میں حق کی بات کرتا ہے ۔ اسی لیے وہ ایران ہی نہیں، بلکہ دنیا کے سبھی مظلوم اور محروم لوگ انہیں آزادی عدالت کی ایک آواز مان کر اسکے اثرات سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha