پیر 2 فروری 2026 - 09:00
عالمی سطح پر حوزۂ علمیہ کی موجودگی ایک ناگزیر ضرورت ہے

حوزہ / آیت اللہ علی رضا اعرافی نے دہۂ فجر کو تاریخِ اسلام کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: حوزاتِ علمیہ نے گزشتہ دہائیوں میں بین الاقوامی نگاہ اور علمی نقطہ نظر سے انقلابِ اسلامی کے علمی و معرفتی نظریے کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے قابلِ قدر کوششیں کی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی تعلیمی اور تحقیقی کمپلیکس کے دورے کے موقع پر گفتگو کے دوران ماہِ شعبان کے ایام کی مبارک باد دیتے ہوئے اس مہینے کو وسیع اور پُرفیض آفاق کی طرف کھلنے والی ایک کھڑکی قرار دیا اور کہا: ماہِ مبارک شعبان اپنی ذاتی اور جوہری فیوضات کی بنا پر سال کے دیگر اوقات سے قابلِ قیاس نہیں ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ رجب، شعبان اور رمضان کے تین مہینے الٰہی فیوضات کے حصول کے لیے بہترین ایام ہیں۔

آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ماہِ شعبان کی مختلف مناسبتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس مہینے میں امام حسین علیہ السلام، حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام، امام سجاد علیہ السلام، حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادتوں کے ساتھ ساتھ حضرت ولی عصر علیہ السلام کی ولادت بھی شامل ہے جو تاریخِ اسلام کی عظیم ترین مناسبتوں میں سے ہیں۔ یہ مناسبتیں آسمانی فیوضات اور مائدۂ الٰہی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے مناجاتِ شعبانیہ کو سیر و سلوک الی اللہ کے اہم ترین ذرائع میں سے قرار دیتے ہوئے مزید کہا: مناجاتِ شعبانیہ اپنی شان و عظمت کے ساتھ خدا شناسی اور اللہ کی طرف سفر کا ایک مکمل نصاب ہے اور قربِ الٰہی اور روحانی تکامل کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔

عالمی سطح پر حوزۂ علمیہ کی موجودگی ایک ناگزیر ضرورت ہے

آیت اللہ علی رضا اعرافی نے دہۂ فجر اور انقلابِ اسلامی کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دہۂ فجر تاریخِ اسلام کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک کی یاد دلاتا ہے جس میں امام خمینی قدس سرہٗ کی قیادت اور ملتِ ایران کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں انقلابِ اسلامی کامیاب ہوا۔ یہ انقلاب صرف ملتِ ایران کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور آزادی خواہوں کے لیے ایک بڑی کامیابی تھا۔ اس راہ میں عظیم شہداء نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہمیں ان عزیز شہداء کو یاد رکھنا اور ان کی تکریم کرنی چاہیے۔

فقہاء گارڈین کونسل کے اس رکن نے کہا: ان مناسبتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں انقلابِ اسلامی کے علمی و معرفتی نظریے کے فروغ میں حوزاتِ علمیہ کے کردار سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ حوزاتِ علمیہ نے گزشتہ دہائیوں میں بین الاقوامی نگاہ اور علمی نقطہ نظر سے اس نظریے کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے بہت سی کوششیں کی ہیں۔

عالمی سطح پر حوزۂ علمیہ کی موجودگی ایک ناگزیر ضرورت ہے

انہوں نے اس راستے میں خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کی قدردانی کرتے ہوئے کہا: امام خمینی قدس سرہٗ سے لے کر رہبرِ معظم انقلاب اور دیگر علمی شخصیات تک جنہوں نے عالمی سطح پر انقلابِ اسلامی کے پیغام کے فروغ کے لیے کوششیں کیں، سب کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔

آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا: عالمی سطح پر حوزۂ علمیہ کی موجودگی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انقلابِ اسلامی سے متعلق دنیا بھر میں بہت سے کام اور سرگرمیاں انجام پا رہی ہیں لیکن ان میں سے اکثر بعض افراد کی ذاتی ارادوں اور کوششوں پر منحصر ہیں۔

عالمی سطح پر حوزۂ علمیہ کی موجودگی ایک ناگزیر ضرورت ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha