حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ معصومیہ قم میں مقام معظم رہبری کے پیغام "پیشرفتہ اور ممتاز حوزہ" پر عمل درآمد کے سلسلے میں ’’حوزہ پیشرفتہ اور فقہ کی تدریس کے طریقے‘‘ کے موضوع پر دسویں آئیڈیا پردازی نشست منعقد ہوئی۔ جس میں مدیر حوزہ علمیہ آیت اللہ اعرافی نے بھی شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق نشست کے آغاز میں حجت الاسلام والمسلمین زنجیرزن نے حوزہ علمیہ میں جدید تعلیمی رجحانات کو بیان کرتے ہوئے فقہِ شیعہ کی تاریخ کے مباحث کے ذریعہ درسی متون کو غنی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور علمی نظریہ کے ساتھ اعلیٰ تعلیمی کتب کی تدوین کو طلاب کے علمی معیار کی بلندی کے لیے ایک بنیادی قدم قرار دیا۔
حجت الاسلام والمسلمین تلخابی نے حوزہ علمیہ قم کی تعمیرنو کے سو سالہ موقع پر جاری مقام معظم رہبری کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے امت اسلامی کے لیے حوزہ کے بزرک اور محرک کردار اور تہذیبی اسلامی تمدن کے تحقق پر اس کے کلیدی کردار پر تاکید کی۔

حجت الاسلام والمسلمین گلشن نے ’’حلِ مسئلہ‘‘ کے مرحلے سے ’’آئیڈیا پردازی‘‘ کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طلاب کو حل مسئلہ کی تعلیم کے بعد آئیڈیا پردازی کے مرحلے تک پہنچنا چاہیے تاکہ وہ انفعالی کیفیت سے نکل کر فعال اور تخلیقی ذہن کے حامل بنیں۔
انہوں نے مزید کہا: درسی کتب اس انداز سے مرتب و مدون ہونی چاہئیں کہ مسائل کے حل کا طریقہ زیادہ واضح طور پر سامنے آئے۔ ضرورت کے تحت کتب کے عبارات میں جابجائی، حذف یا اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ طلاب اصولی اور فقہی کتب میں استنباط کے طریقے سے بخوبی آشنا ہو سکیں۔
حوزہ علمیہ کے اس استاد نے کہا: حضرت آیت اللہ اعرافی نے اس میدان میں نہایت خوبصورت، عالمانہ، ابداعی اور بابرکت حرکت کا آغاز کیا ہے لیکن زیادہ تر شعبوں میں یہ کام مکمل اور جامع طور پر انجام نہیں پایا۔ اگرچہ بعض میدانوں میں اچھے اقدامات ہوئے ہیں لیکن کتب کے جائزے اور مقررہ کمیٹیوں کی جانچ سے واضح ہوتا ہے کہ بہت سے حصے ابھی غنی نہیں کیے گئے۔ یہ اس حال میں ہے کہ فقہِ فردی شاید منفی عوارض نہ رکھتی ہو لیکن فقہِ اجتماعی میں ناقص آراء کی پیشکش خدمت کے بجائے دین کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔










آپ کا تبصرہ