حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبۂ کراچی پاکستان میں طلباء کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے مقصد سے پانچ روزہ کتب میلہ اور تحقیقی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔
افتتاحی تقریب امام خمینی ہال میں منعقد ہوئی، جس میں کراچی کے ممتاز علمائے کرام، اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حسین رئیسی تھے، جبکہ حجۃ الاسلام شیخ احمد نحوی، شیخ غلام محمد سلیم، آغا غلام حسین مخلصی اور دیگر معزز علمی و دینی شخصیات کے ساتھ مدرسہ امام حسن مجتبیٰ اور جامعہ معصومین کے طلاب بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت قاری تقی ذاکر نے حاصل کی، جس کے بعد طالب علم میثم میمن نے بارگاہِ امامت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جبکہ گروہِ تواشیح نے روح پرور ترانہ پیش کیا۔
خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مدیر جامعۃ المصطفیٰ کراچی سید عمار ہمدانی نے تعلیم، تحقیق اور مطالعہ کی اہمیت پر زور دیا۔
سید عمار ہمدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحقیق محض سائنسی میدان تک محدود نہیں، بلکہ اسلامی علوم میں بھی تدبر، تعقل اور عمیق مطالعے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے رہبرِ معظم کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علم و تحقیق ہی فکری خود اعتمادی اور امت کی ہمہ گیر ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حسین رئیسی نے اپنے خطاب میں سورۂ علق کی ابتدائی آیات کی روشنی میں علم، قلم اور مطالعہ کی فضیلت بیان کی۔
صدر ہیئت ائمہ مساجد وعلمائے امامیہ نے کہا کہ قرآنِ مجید کا پہلا حکم "اقرأ" ہے، جو اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ اسلام کی بنیاد علم، آگہی اور شعور پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تحقیق، تحریر اور فکری جستجو کو اپنی علمی زندگی کا مستقل حصہ بنانے کی تلقین کی۔
تقریب کے بعد حجۃالاسلام شیخ غلام محمد سلیم کے دست مبارک سے نمایش کا افتتاح ہوا۔

جامعۃ المصطفیٰ میں ہفتۂ تحقیق کے پہلے روز ڈاکٹر عقیل موسیٰ کی تصنیف „تاریخِ اسلام“ کی تقریبِ رونمائی کی گئی، جو حجۃالاسلام علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کے دستِ مبارک سے انجام پائی۔

اس موقع پر علامہ میثمی اور دیگر علماء نے کتب نمائش کا دورہ کیا اور مختلف اسٹالز پر موجود کتب اور اشاعتی و تحقیقی اداروں کے بارے میں تفصیلی آگاہی حاصل کی۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے اپنی گفتگو میں جامعۃ المصطفیٰ کے علمی و تحقیقی کردار کو سراہتے ہوئے اس نوعیت کی سرگرمیوں کو علم و تحقیق کے فروغ کے لیے نہایت اہم اور ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام علمی و تحقیقی آثار انقلابِ اسلامی، امام خمینیؒ اور رہبرِ انقلاب کی برکات کا ثمر ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ ہم انقلاب کے دور میں پروان چڑھے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسی تحقیقی سرگرمیوں کو مزید مؤثر انداز میں تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جانا چاہیے۔ علامہ میثمی نے تمام اسٹالز کا تفصیلی دورہ کیا اور اپنے گرانقدر تاثرات کا اظہار کیا۔
یہ سرگرمیاں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبۂ کراچی پاکستان میں علمی ماحول کے فروغ، طلبہ کی تحقیقی تربیت اور مطالعے کے ذوق کو بیدار کرنے کی ایک مؤثر اور قابلِ قدر کاوش سمجھی جا رہی ہیں، جن سے اساتذہ اور طلبہ یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ