بدھ 7 جنوری 2026 - 08:00
تحقیقی میدان میں خواتین کی شمولیت عصرِ حاضر کی بنیادی ضرورت، ڈاکٹر سیدہ تسنیم موسوی

حوزہ/جامعہ المصطفیٰ العالیہ کراچی شعبۂ طالبات کا، مدرسہ خدیجہ الکبریٰ سندھ رانی پور کے منتظمین، اساتذۂ کرام اور 20 طالبات پر مشتمل ایک وفد نے علمی دورہ کیا؛ اس موقع پر مہمان طالبات نے جامعہ کی لائبریری اور کمپیوٹر لیب کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور تحقیقی نظام، دستیاب سہولیات اور علمی سرگرمیوں سے متعلق مختلف سوالات کیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفیٰ العالیہ کراچی شعبۂ طالبات کا، مدرسہ خدیجہ الکبریٰ سندھ رانی پور کے منتظمین، اساتذۂ کرام اور 20 طالبات پر مشتمل ایک وفد نے علمی دورہ کیا؛ اس موقع پر مہمان طالبات نے جامعہ کی لائبریری اور کمپیوٹر لیب کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور تحقیقی نظام، دستیاب سہولیات اور علمی سرگرمیوں سے متعلق مختلف سوالات کیے۔

تحقیقی میدان میں خواتین کی شمولیت عصرِ حاضر کی بنیادی ضرورت، ڈاکٹر سیدہ تسنیم موسوی

جامعہ المصطفیٰ کی مدیر ڈاکٹر تسنیم زہراء موسوی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

اس موقع پر ”عصرِ حاضر میں خواتین کی علمی و تحقیقی ذمہ داریاں“ کے عنوان سے ایک علمی نشست منعقد کی گئی۔

تحقیقی میدان میں خواتین کی شمولیت عصرِ حاضر کی بنیادی ضرورت، ڈاکٹر سیدہ تسنیم موسوی

نشست سے محترمہ ڈاکٹر سیدہ تسنیم زہراء موسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقی میدان میں خواتین کی شمولیت عصرِ حاضر کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور یہی شمولیت معاشرتی اور فکری ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں فکری، تحقیقی اور سماجی تبدیلیوں کے عمل میں خواتین کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ دنیا بھر میں رونما ہونے والے سیاسی انقلابات اور سماجی تبدیلیوں میں خواتین نے اپنی علمی صلاحیتوں، عزم اور بصیرت کے ذریعے مؤثر شرکت کی اور فکری و عملی سطح پر نئے زاویے متعارف کروائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی فعال شمولیت کے بغیر کسی بھی پائیدار تبدیلی یا اجتماعی کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔

مدیر جامعہ المصطفیٰ شعبۂ طالبات کراچی نے مزید کہا کہ خواتین کی تحقیقی سرگرمیوں کو ان کے مخصوص سماجی تجربات اور عملی مشاہدات سے مربوط ہونا چاہیے۔ خواتین سے متعلق سماجی، تعلیمی اور معاشرتی موضوعات پر کی جانے والی تحقیق زیادہ گہرائی اور معنویت رکھتی ہے، کیونکہ خواتین ان مسائل کو براہِ راست سمجھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔

تحقیقی میدان میں خواتین کی شمولیت عصرِ حاضر کی بنیادی ضرورت، ڈاکٹر سیدہ تسنیم موسوی

انہوں نے واضح کیا کہ باہمی تعاون اور اجتماعی علمی کاوش کے ذریعے خواتین تحقیق کے میدان میں نئی جہتیں متعارف کروا سکتی ہیں، خصوصاً ان موضوعات پر جو خواتین کی زندگیوں سے براہِ راست وابستہ ہیں۔ اس مقصد کے لیے خواتین کے درمیان علمی تعاون، ہم آہنگی اور منظم روابط کا فروغ ناگزیر ہے۔

انہوں نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ تحقیقی میدان میں خواتین کی فعال شمولیت ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ خواتین کو تحقیقی سرگرمیوں میں مساوی اور مؤثر مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، تاکہ وہ اپنے علم، تجربے اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کی فکری ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اس موقع پر شعبۂ تحقیق کی مدیر محترمہ معصومہ جوہری نے جامعہ المصطفیٰ کے تعلیمی و تحقیقی نظام پر جامع تعارف پیش کیا۔

مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ رانی پور سندھ کے وفد کے ہمراہ علامہ سید علی مرتضیٰ زیدی بھی شامل تھے۔

تحقیقی میدان میں خواتین کی شمولیت عصرِ حاضر کی بنیادی ضرورت، ڈاکٹر سیدہ تسنیم موسوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha