تحریر: انتظار مہدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
روح اللہ خمینی کی انقلاب سے قبل سیاسی سرگرمیاں
روح اللہ خمینی کی انقلابی جدوجہد کسی وقتی جوش یا جذباتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط ایک منظم، گہری اور دور اندیش حکمتِ عملی کا حاصل تھی۔ انہوں نے روایتی مذہبی دائرے سے نکل کر اسلام کو محض عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے ایک ہمہ گیر سیاسی و سماجی نظام کے طور پر پیش کیا۔اسی تناظر میں انہوں نے "ولایتِ فقیہ" کا نظریہ پیش کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ دین اور سیاست کو جدا کرنا اسلامی فکر کے منافی ہے۔ اس تصور نے صدیوں سے خاموش مذہبی طبقے کو عملی سیاست میں کردار ادا کرنے کا فکری و اخلاقی جواز فراہم کیا۔
جلاوطنی کے دور میں خمینی نے اس تصور کو مکمل شکل دی جسے معروف مورخ 𝑬𝒓𝒗𝒂𝒏𝒅 𝑨𝒃𝒓𝒂𝒉𝒂𝒎𝒊𝒂𝒏 نے “شیعہ اسلام کا عوامی مذہبی ورژن” قرار دیا ہے۔ خمینی نے شیعہ اسلام کی روایتی تشریحات میں نمایاں تبدیلیاں کیں، جن میں مستضعفین کے اجتماعی مفادات کے دفاع کے لیے جارحانہ سیاسی طرزِعمل شامل تھا۔خمینی نے شاہی نظام کے خلاف براہِ راست اور بے باک مؤقف اپنایا۔ 1963 کے تاریخی خطاب میں انہوں نے محمد رضا شاہ کو کھلے الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے اس کے مظالم، استبداد اور غیر ملکی طاقتوں سے وابستگی کو بے نقاب کیا۔ اس بیانیے نے عوام کے دلوں سے شاہ کی ہیبت ختم کر دی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ مطلق العنان اقتدار کے خلاف کھڑا ہونا ممکن ہے۔
ان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے صرف علما اور مذہبی حلقوں تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ طلبہ، دانشوروں، بازار کے تاجروں (بازاریوں) اور پسے ہوئے غریب طبقے، یعنی مستضعفین، کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔ انہوں نے شاہی حکومت کو “غیر ملکی طاقتوں کا آلۂ کار” قرار دے کر جدوجہد کو محض سیاسی نہیں بلکہ قومی غیرت اور خودداری کا مسئلہ بنا دیا۔دوسری جانب شاہ کی پالیسیوں اور غلطیوں، خصوصاً مخالفین کی شدید سرکوبی، نے عوامی غم و غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ خمینی کے خطابات اور دروس کی کیسٹیں، جن میں شاہ کو سخت تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا،
مثلاً “امریکی سانپ” یا “غیر ملکی ایجنٹ” جیسے الفاظ، ایران کی گلیوں، بازاروں اور دکانوں میں عام ہو گئیں۔ اس عوامی ترسیل نے شاہ اور اس کی حکومت کی طاقت، وقار اور اخلاقی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا۔
جوں جوں ایرانی معاشرہ زیادہ منقسم اور سیاسی طور پر پولرائزڈ ہوتا گیا، خمینی پورے ملک میں مساجد کے وسیع نیٹ ورک کو متحرک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کے زیرِ اثر منظم مذہبی پیروکار، مسلسل اجتماعات، ابتدا میں شکی رہنے والے علما کی حمایت، اور ایران بھر میں بیس ہزار سے زائد جائیدادوں اور مذہبی عمارتوں کی پشت پناہی نے ایک ایسا طاقتور سیاسی و سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا جس کا مقابلہ نہ تو جدید پسند متوسط طبقہ کر سکتا تھا اور نہ ہی شیعہ سوشلسٹ گروہ۔
اپنی تحریک کی بنیاد کو مزید وسیع کرنے کے لیے خمینی نے شاہ کے اسلامی اصلاح پسند اور جدیدیت پسند مخالفین سے بھی رابطے استوار کیے، اگرچہ اقتدار میں آنے کے بعد انہی گروہوں کو دبایا گیا۔ نظریاتی اختلافات کے باوجود، 1970 کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے People’s Mujahedin of Iran جیسے گروہوں سے بھی عارضی اتحاد قائم کیا اور شاہ کے خلاف ان کی مسلح جدوجہد کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔
1977 میں ممتاز اسلامی مفکر، انقلابی مصنف اور ماہرِ تعلیم علی شریعتی کی وفات کے بعد، جنہوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں اسلامی احیاء کی سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا، خمینی بلا شرکتِ غیرے شاہ مخالف تحریک کے سب سے مؤثر اور مرکزی رہنما بن کر ابھرے۔ ان کی شخصیت کے گرد پراسراریت میں اضافہ اس قدیم شیعہ قول کی گردش سے بھی ہوا جو امام موسیٰ کاظمؑ سے منسوب کیا جاتا تھا۔
جلاوطنی کے آخری مہینوں میں خمینی کے گرد رپورٹرز، حامیوں، سیاسی کارکنوں اور معزز شخصیات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم ہو چکا تھا۔ جیسے جیسے ایران میں احتجاجی تحریک شدت اختیار کرتی گئی، ویسے ویسے خمینی کی عالمی شناخت اور سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ ایران سے ہزاروں کلومیٹر دور پیرس میں قیام کے باوجود، وہ انقلاب کی سمت متعین کر رہے تھے، عوام کو کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے باز رہنے کی تلقین کرتے اور حکومت کے خلاف ہڑتالوں اور سول نافرمانی کے احکامات جاری کر رہے تھے۔
ایک تاریخی لمحہ
طویل جلاوطنی کے بعد خمینی کی ایران واپسی
ایران میں اس وقت حالات انتہائی نازک اور غیر یقینی تھے۔ سڑکوں پر مظاہرے، ہڑتالیں، فوج میں بددلی، اور سیاسی نظام میں واضح دراڑیں نمایاں ہو چکی تھیں۔ شاہ پور بختیار کی عبوری حکومت نام کی حد تک قائم تھی، مگر عملی طور پر اس کی گرفت تیزی سے کمزور پڑ چکی تھی۔
عوامی مزاحمت اس حد تک پھیل گئی تھی کہ ریاستی مشینری مفلوج ہو کر رہ گئی۔ ایسے حالات میں آیت اللہ روح اللہ خمینی، جو برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، نے ایران واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ محض جذباتی نہیں بلکہ ایک طویل، منظم اور سیاسی طور پر نہایت حساس حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔
16 جنوری 1979 کو محمد رضا شاہ پہلوی ایران چھوڑ کر فرار ہو چکا تھا۔ شاہ کی روانگی نے عملاً شاہی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور یہ لمحہ انقلاب کی کامیابی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ اس واقعے کے محض 16 دن بعد، یکم فروری 1979 کو، روح اللہ خمینی نے ایران واپسی کا اعلان کیا۔
خمینی کو پیرس سے تہران لانے والا طیارہ ایک چارٹرڈ 𝑩𝒐𝒆𝒊𝒏𝒈 747 تھا، جسے بعض تاریخی حوالوں میں علامتی طور پر 𝑻𝒉𝒆 𝑴𝒂𝒚𝒇𝒍𝒐𝒘𝒆𝒓 بھی کہا جاتا ہے۔ تکنیکی اصطلاح میں اسے 𝑱𝒖𝒎𝒃𝒐 𝑱𝒆𝒕 کہا جاتا تھا۔ اس تاریخی پرواز کا انتظام 𝑨𝒊𝒓 𝑭𝒓𝒂𝒏𝒄𝒆 نے کیا تھا۔ دستیاب تاریخی ریکارڈز میں پائلٹ کا نام واضح طور پر محفوظ نہیں، تاہم چونکہ پرواز ایک فرانسیسی ایئرلائن کے زیرِ انتظام تھی، اس لیے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پائلٹ اور عملہ بھی فرانسیسی تھا۔
31 جنوری 1979 کی شام پیرس کے چارلس ڈی گول ایئرپورٹ (𝑪𝒉𝒂𝒓𝒍𝒆𝒔 𝒅𝒆 𝑮𝒂𝒖𝒍𝒍𝒆 𝑨𝒊𝒓𝒑𝒐𝒓𝒕) پر، فرانس میں مقیم ایرانیوں، انقلابی کارکنوں، صحافیوں اور فرانسیسی ہمدردوں کی بڑی تعداد خمینی کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھی۔ سب جانتے تھے کہ یہ صرف خمینی کی ملک روانگی نہیں بلکہ تاریخ کے ایک بڑے موڑ کا آغاز ہے۔ اسی شام یہ چارٹرڈ طیارہ تہران کے لیے روانہ ہوا۔
اس تاریخی پرواز میں عالمی میڈیا کے نمایاں نمائندے بھی شامل تھے۔ بی بی سی کے معروف صحافی 𝑱𝒐𝒉𝒏 𝑺𝒊𝒎𝒑𝒔𝒐𝒏 اسی جہاز میں سوار تھے۔ بعد میں انہوں نے لکھا کہ وہ اور ان کے کیمرامین بڑی مشکل سے اس چارٹرڈ پرواز کے صرف دو ٹکٹ حاصل کر سکے۔ ان کے مطابق بی بی سی انتظامیہ نے انہیں اس خطرناک سفر سے روکنے کی کوشش کی، مگر ان کا کہنا تھا کہ “یہ تاریخ کا ایسا لمحہ تھا جسے چھوڑنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔”
پرواز کے دوران فضا میں شدید تناؤ موجود تھا۔ خمینی کے ایک قریبی ساتھی نے جہاز میں موجود صحافیوں کو بتایا کہ خدشہ ہے ایرانی فضائیہ اس جہاز کو مار گرا سکتی ہے، کیونکہ اس وقت تک فضائیہ کے کئی حصے شاہ کے وفادار سمجھے جاتے تھے۔ یہ سن کر جہاز میں موجود مسافروں اور صحافیوں پر سکتہ طاری ہو گیا، اور پورا کیبن خوف، خاموشی اور بے چینی کی گرفت میں آ گیا۔
صحافی 𝑱𝒐𝒉𝒏 𝑺𝒊𝒎𝒑𝒔𝒐𝒏 کے مطابق، اس سفر کے دوران انہوں نے خمینی کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔ خمینی طیارے کے 𝑭𝒊𝒓𝒔𝒕 𝑪𝒍𝒂𝒔𝒔 میں اپنی نشست پر بیٹھے تھے، کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے اور صحافیوں یا کیمروں کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہے تھے۔
جب طیارہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اسی موقع پر امریکی صحافی 𝑷𝒆𝒕𝒆𝒓 𝑱𝒆𝒏𝒏𝒊𝒏𝒈𝒔 نے سوال کیا:
“آیت اللہ، ایران واپس آ کر آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟”
خمینی نے اپنے معاون صادق قطب زادہ کے ذریعے صرف ایک لفظ میں جواب دیا:
"ہچی" (𝑯𝒆𝒆𝒄𝒉𝒊) یعنی کچھ بھی نہیں۔
(پیٹر جننگز وہ پہلی امریکی صحافی تھے، جنہوں نے فرانس میں خمینی سے ملاقات کی اور ان کا انٹرویو کیا تھا۔) یہ مختصر جواب بعد میں شدید بحث کا باعث بنا۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ خمینی کے روحانی مزاج اور دنیاوی جذبات سے بے نیازی کی علامت تھا۔ کچھ نے اسے اس بات کا واضح اشارہ سمجھا کہ وہ کسی روایتی قوم پرست یا کسی 𝑴𝒂𝒊𝒏𝒔𝒕𝒓𝒆𝒂𝒎 سیاسی رہنما کے طور پر نہیں آ رہے تھے۔ ناقدین کے مطابق یہ جواب عوامی توقعات سے لاتعلقی کی عکاسی بھی کرتا تھا۔ ادھر تہران میں عبوری حکومت نے آخری کوشش کے طور پر مہرآباد ہوائی اڈہ بند کرنے یا پرواز روکنے کی کوشش کی، مگر عوامی دباؤ، فوجی اہلکاروں کی ہڑتال اور ریاستی نظام کے بکھر جانے کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ مہرآباد ایئرپورٹ کھلا رہا۔ طیارہ تہران کے اوپر کافی دیر تک چکر لگاتا رہا۔ نیچے حکام کے ساتھ مذاکرات جاری رہے۔ 𝑩𝑩𝑪 کے مطابق، مسلسل چکر لگانے کے باعث جہاز میں موجود کئی افراد شدید اضطراب اور متلی کا شکار ہو گئے۔ حفاظتی جائزے کے بعد طیارے نے رن وے پر دو مرتبہ دائرہ لگایا اور بالآخر صبح تقریباً ساڑھے نو بجے (ایرانی وقت کے مطابق) مہرآباد ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ جیسے ہی خمینی طیارے سے باہر آئے، تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش منظر دنیا کے سامنے تھا۔
اندازوں کے مطابق تہران میں تیس لاکھ سے زائد افراد سڑکوں، عمارتوں اور چھتوں پر موجود تھے۔ یہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ نعروں کی گونج، آنسوؤں، سجدوں اور جذبات نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خمینی نے ہوائی اڈے سے سیدھا بہشت زہرا قبرستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے شاہی نظام، بختیار حکومت اور پرانے سیاسی ڈھانچے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا پہلا تاریخی عوامی خطاب کیا۔ یہ واپسی تقریباً 14 سالہ جلاوطنی کے بعد ہوئی تھی۔ ترکی، عراق اور پھر فرانس میں گزارے گئے یہ برس محض جلاوطنی نہیں بلکہ ایک ایسی فکری اور سیاسی تیاری کا دور تھے جس نے ایک عالمی تحریک کو جنم دیا۔ یہ سفر محض پیرس سے تہران تک کی پرواز نہیں تھا بلکہ اقتدار کی منتقلی، تاریخ کے دھارے کی تبدیلی اور ایک نئے عہد کے آغاز کی علامت تھا۔ صرف دس دن بعد، 11 فروری 1979 کو شاہی حکومت کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور اسلامی انقلاب سرکاری طور پر کامیاب قرار پایا۔ یوں ایران میں 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎𝒊𝒄 𝑹𝒆𝒑𝒖𝒃𝒍𝒊𝒄 قائم ہوئی، جو آگے چل کر مغربی دنیا، خصوصاً 𝑼𝒏𝒊𝒕𝒆𝒅 𝑺𝒕𝒂𝒕𝒆𝒔 کے لیے ایک مستقل چیلنج بن گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پوری انقلابی منصوبہ بندی کا بڑا حصہ ایک ایسے فرانسیسی قصبے میں ہوا، جہاں معمولی 𝑻𝒓𝒂𝒇𝒇𝒊𝒄 𝑱𝒂𝒎 یا 𝑺𝒏𝒐𝒘𝒇𝒂𝒍𝒍 بھی کئی دنوں تک گفتگو کا موضوع بنا رہتا تھا۔
روح اللہ خمینی
ایران کے پہلے رہبرِ معظم 1979 سے 1989 تک
آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران کے عظیم مذہبی رہنما اور سیاست دان تھے، جنہوں نے 1979 سے 1989 (وفات) تک ایران کے پہلے رہبرِ معظم کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی اور انقلابِ ایران کے روحِ رواں تھے، جس نے محمد رضا شاہ پہلوی کی شہنشاہیت کا تختہ الٹ کر ملک میں اسلامی نظام قائم کیا۔ نظریاتی طور پر آپ کا تعلق شیعہ مکتبِ فکر سے تھا اور آپ کے سیاسی و مذہبی افکار کو "خمینیت" کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اپ 18 مئی 1900 کو ایران کے شہر "خمین" میں پیدا ہوئے، لیکن ان کے بھائی مرتضیٰ ان کی پیدائش کی تاریخ 24 ستمبر 1902 بتاتے ہیں۔ سرٹیفکیٹ کے مطابق ان کا نام "روح اللہ" ہے، لیکن خمین شہر سے وابستگی کے بنیاد پر نام کے ساتھ خمینی استعمال کرتے تھے۔
ان کے والد مصطفی موسوی کو 1903 میں قتل کر دیا گیا جب خمینی دو سال کے تھے۔ والد کے قتل کے بعد ان کی پرورش ان کی والدہ، آغا خانم اور ان کی خالہ، صاحبہ نے کی۔ روح اللہ خمینی کے آبا و اجداد اٹھارویں صدی کے اختتام پر اپنے اصل وطن نیشاپور (صوبہ خراسان، شمال مشرقی ایران) سے ہجرت کر کے مملکت اودھ میں قیام کے لیے آئے، جو موجودہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں واقع ہے۔ اودھ کے اس وقت کے حکمران فارسی النسل اور اثناعشری شیعہ مسلمان تھے۔ خمینی کے خاندان کے افراد اودھ کے دارالحکومت لکھنؤ کے قریب واقع ایک چھوٹے قصبے بارہ بنکی کے کنتور گاؤں میں آباد ہوئے۔ اسی کنتور گاؤں میں روح اللہ خمینی کے دادا احمد موسوی ہندی 1790 میں پیدا ہوئے۔ وہ 1830 میں، تقریباً چالیس سال کی عمر میں، اودھ کے نواب کے ہمراہ لکھنؤ سے عراق کے زیارتی مقامات کی طرف روانہ ہوئے۔ اپ نے 1834 میں عراق کا دورہ کیا اور پھر 1839 میں خمین (ایران) میں مستقل سکونت اختیار کی۔ اگرچہ وہ ایران منتقل ہوگئے، لیکن انہوں نے اپنا لقب "ہندی" برقرار رکھا، جو ان کے برصغیر میں قیام کی نشانی تھا۔ روح اللہ خمینی نے بھی اپنی بعض غزلوں میں "ہندی" کو تخلص کے طور پر استعمال کیا۔
اچھا!
تو روح اللہ خمینی نے اپنے رشتہ داروں کی مدد سے مذہبی تعلیم جاری رکھی، جن میں ان کی والدہ کے چچا زاد بھائی اور ان کے بڑے بھائی مرتضیٰ پسندیدہ شامل تھے۔اپ نے چھ سال کی عمر میں قرآن اور ابتدائی فارسی پڑھنا شروع کی۔ اگلے سال وہ ایک مدرسے میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے دینیات، مرثیہ خوانی اور دیگر روایتی مضامین سیکھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد، ان کے لیے اصفہان کے ایک دینی مدرسے میں تعلیم کے انتظامات کیے گئے، لیکن وہ اراک کے مدرسے کی طرف مائل ہوئے۔ 1920 میں خمینی اراک منتقل ہو گئے اور وہاں اپنی تعلیم کا آغاز کیا، جہاں انہیں آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی کی نگرانی میں رکھا گیا۔اگلے سال آیت اللہ حائری یزدی تہران کے جنوب مغرب میں واقع قم شہر کے مدرسے میں منتقل ہو گئے۔ خمینی بھی ان کے ہمراہ قم آگئے اور دار الشفاء مدرسے میں سکونت اختیار کی۔ خمینی کی تعلیم میں اسلامی قانون اور فقہ شامل تھے، لیکن اس وقت تک انہیں شاعری اور فلسفہ (عرفان) میں بھی گہری دلچسپی ہو چکی تھی۔ لہٰذا قم پہنچنے کے بعد، خمینی نے فلسفہ اور تصوف کے معروف عالم مرزا علی اکبر یزدی کی شاگردی اختیار کی۔ یزدی 1924 میں وفات پا گئے، لیکن خمینی نے فلسفہ میں اپنی دلچسپی کو دو دیگر اساتذہ، جواد آقا ملکی تبریزی اور ابوالحسن رفیعی قزوینی کے ساتھ جاری رکھا۔ تاہم، خمینی پر سب سے گہرا اثر ایک اور استاد مرزا محمد علی شاہ آبادی اور مختلف صوفی عارفین جن میں ملا صدرا اور ابن عربی شامل ہیں، کا رہا۔
امام خمینی نے 25 سال کی عمر میں اجتہاد کی سند حاصل کر لی۔ اور شیعہ اثناعشری اسلام کے ایک بلند پایہ عالم دین بن گئے۔ ان اساتذہ میں سے جن سے خمینی نے علم حاصل کیا، چند اہم نام یہ ہیں:
· محمدتقی خوانساری
· عبدالکریم حائری یزدی
· علی یثربی کاشانی
· ابوالحسن رفیعی قزوینی
· سید اکبر حکمی یزدی
· محمد رضا اصفہانی
· مرزا جواد ملکی تبریزی
· مرزا محمد علی شاہ آبادی
خمینی نے 27 سال کی عمر میں تدریسی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ قم سے تہران گئے تاکہ آیت اللہ حسن مدرس کی تقریر سن سکیں، جو 1920 کی دہائی میں ایرانی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے اہم رہنما تھے۔
1962 میں آیت اللہ حسین بروجردی (ایک ممتاز شیعہ مرجع) اور آیت اللہ ابو القاسم کاشانی (ایک سرگرم عالم دین) کی وفات کے بعد، علما کی قیادت کے میدان میں خمینی کے لیے راہ ہموار ہوئی، اور وہ 1963 میں مرجع کے منصب پر فائز ہوئے۔
خمینی نے شیخ فضل اللہ نوری اور آیت اللہ کاشانی کے افکار کو بہت اہمیت دی اور فضل اللہ نوری کو ایک ہیرو کے طور پر دیکھا۔ ان کے آئینی اور حکومتی خدشات کا بنیادی ماخذ نوری کے 1907 کے آئین پر اعتراضات تھے۔
علمائے دین 1920 کی دہائی سے ہی دفاعی موقف اختیار کیے ہوئے تھے، جب جدیت پسند رضا شاہ پہلوی نے اقتدار سنبھالا تھا۔
شہنشاہ محمد رضا شاہ نے 1963 میں "انقلاب سفید" کا اعلان کیا، جو اصلاحات کا ایک چھ نکاتی پروگرام تھا جس میں زمینی اصلاحات، جنگلات کی قومی ملکیت، سرکاری کارخانوں کی نجکاری، خواتین کو حق رائے دہی، غیر مسلموں کے لیے حکومتی عہدوں کے دروازے کھولنے کے لیے انتخابی قوانین میں تبدیلی، صنعت میں منافع کی شراکت، اور ملک بھر میں خواندگی کی مہم شامل تھیں۔
طاقتور اور مراعات یافتہ شیعہ علماء اور روایتی حلقوں نے ان اقدامات کو خطرناک اور مغربیت کا راستہ سمجھا۔ خمینی نے انہیں "اسلام پر حملہ" قرار دیا۔
آیت اللہ خمینی نے قم کے دیگر سینئر مراجع کی ایک میٹنگ بلائی اور انہیں انقلاب سفید کے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرنے پر راضی کیا۔ 22 جنوری 1963 کو، خمینی نے شاہ اور اس کے اصلاحی پروگرام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔
خمینی نے ایک ایسے منشور پر دستخط بھی کیے جس پر 8 دیگر سینئر شیعہ مراجع کے دستخط تھے۔ اس منشور میں دلیل دی گئی تھی کہ شاہ نے آئین کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں، ملک میں اخلاقی بگاڑ کو ہوا دی ہے، اور امریکہ اور اسرائیل کے تابع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے ایرانی نئے سال (نوروز) 1342 (21 مارچ 1963) کی تقریبات کو منسوخ کرنے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر منانے کا حکم بھی دیا۔
3 جون 1963 کو، خمینی نے فیضیہ مدرسہ میں ایک تقریر میں شاہ کا موازنہ یزید سے کیا اور شاہ کی سخت مذمت کی۔
5 جون 1963 کو، اس تقریر کے دو دن بعد، خمینی کو قم میں گرفتار کر کے تہران لے جایا گیا۔ اس کے نتیجے میں پورے ایران میں تین دن پر محیط بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں تقریباً 400 افراد جان بحق ہوئے۔
اس واقعے کو تاریخ میں "تحریک 15 خرداد 1342" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خمینی کو اگست 1963 تک نظر بند رکھا گیا۔
26 اکتوبر 1964 کو، خمینی نے شاہ اور امریکہ دونوں کی ایک بار پھر سخت مذمت کی۔ اس بار یہ ردعمل شاہ کی اس پالیسی کے جواب میں تھا جس کے تحت ایران میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو قانونی استثنا (سفارتی استثنا) حاصل تھا۔ خمینی نے اسے "کیپٹیولیشن کا قانون" قرار دیا۔
درحقیقت یہ ایک "قوات کے درمیان معاہدہ" تھا جس میں یہ شرط تھی کہ ایران میں تعیناتی کے دوران مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے والے امریکی فوجیوں کا مقدمہ امریکی فوجی عدالت میں چلایا جائے گا نہ کہ ایرانی عدالتوں میں۔
خمینی کو نومبر 1964 میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور تقریباً چھ ماہ تک نظر بند رکھا گیا۔ رہائی کے بعد، انہیں وزیر اعظم حسن علی منصور کے سامنے پیش کیا گیا، جنہوں نے انہیں اپنی تنقیدی تقریریں بند کرنے اور شاہ اور اس کی حکومت کی مزید مخالفت نہ کرنے پر معافی مانگنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
جب خمینی نے انکار کیا تو منصور نے غصے میں آکر ان کے منہ پر طمانچہ مارا۔ پھر وزیراعظم قتل کر دیا گیا جس کے پاداش میں خمینی کے حمایت یافتہ چار افراد کو پہانسی دی گئی۔ اس کے بعد خمینی جلاوطنی کی زندگی پر مجبور ہوئے۔









آپ کا تبصرہ