تحریر:حجۃُ الاسلام والمسلمین سید حسن موسوی صفوی
حوزہ نیوز ایجنسی I ظلم کی گہرائیوں میں اترے بغیر کردار کی بلندیوں تک رسائی ممکن نہیں؛ یہ محض ایک فکری جملہ نہیں بلکہ تاریخِ انسانیت کا وہ آفاقی قانون ہے جس پر اقوام کے عروج و زوال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جبر جب حد سے بڑھتا ہے تو وہ صرف جسموں کو نہیں آزماتا، وہ روحوں کو کسوٹی پر رکھتا ہے؛ وہ صرف وسائل نہیں چھینتا، وہ اقدار کو پرکھتا ہے؛ اور وہ صرف سرحدیں نہیں گھیرتا، وہ ضمیر کو للکارتا ہے۔ اسی لمحے یہ طے ہوتا ہے کہ کوئی قوم محض حالات کی اسیر ہے یا اصولوں کی امین۔ قرآنِ حکیم اسی سنتِ الٰہی کو یوں بیان کرتا ہے: وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ—یہ دن ہم لوگوں کے درمیان گردش میں رکھتے ہیں، تاکہ حقیقت نکھر کر سامنے آ جائے۔
ایران کی معاصر تاریخ اسی اٹل قانون کی روشن تفسیر ہے۔ دہائیوں پر محیط عالمی پابندیاں، معاشی محاصرے، سفارتی تنہائی اور مسلسل نفسیاتی دباؤ، بظاہر کسی قوم کی کمر توڑ دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں، مگر جن معاشروں کی بنیاد مفاد پر نہیں بلکہ فلسفے، ایمان اور اخلاقی خودمختاری پر ہو، وہ دباؤ میں بکھرتے نہیں، بلکہ کندن بن جاتے ہیں۔ ایران نے یہ دکھایا کہ پابندیاں معیشت کو زخمی کر سکتی ہیں، ضمیر کو نہیں؛ محاصرہ راستوں کو بند کر سکتا ہے، فکر کو نہیں؛ اور جبر وسائل چھین سکتا ہے، وقار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سختی نے ایران کے قومی کردار کو کمزور کرنے کے بجائے مزید واضح اور مضبوط کیا۔
یہ کردار کسی اتفاقی سیاسی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل روحانی اور فکری تسلسل کی پیداوار ہے جس کی جڑیں کربلا کی ریگزار میں پیوست ہیں۔ کربلا تاریخ کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ضمیرِ انسانیت کا ابدی اعلان ہے۔ سیدُ الشہداء، نواسۂ رسولِ خدا، حضرت امام حسین علیہ السلام نے یہ حقیقت خونِ دل سے رقم کی کہ طاقت کی کثرت، لشکر کی فراوانی اور وسائل کی بہتات کبھی حق کا معیار نہیں بنتی؛ حق کا معیار صرف کردار ہوتا ہے، اور کردار صرف قربانی کی بھٹی میں نکھرتا ہے۔ باطل کے سامنے خاموشی، ظلم سے مفاہمت اور جبر کے ساتھ سمجھوتہ—یہ سب اخلاقی خودکشی کی صورتیں ہیں۔ اسی لیے کربلا دفن نہیں ہوئی؛ وہ ہر دور میں زندہ رہی، ہر جابر کے سامنے سوال بن کر کھڑی ہوئی، اور ہر مظلوم کے دل میں امید کی صورت دھڑکتی رہی۔
اسی حسینی شعور نے صدیوں بعد انقلابِ اسلامی ایران کی صورت اختیار کی۔ آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے کربلا کے پیغام کو زمانۂ جدید کی زبان دی اور سیاست کو اخلاق، مزاحمت کو عبادت اور قیادت کو امانت قرار دیا۔ ان کا اعلان سادہ مگر فیصلہ کن تھا: اگر ایک قوم اپنے رب پر یقین رکھتی ہو، اپنے اصولوں پر ثابت قدم ہو، اور اپنے کردار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے غلام نہیں بنا سکتی۔ یہی اعلان عالمی استکبار کے لیے ناقابلِ برداشت تھا، کیونکہ انہیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ فکر کے سامنے اسلحہ بھی بے بس ہو سکتا ہے۔
انقلاب کے بعد ایران کو جس راستے پر ڈالا گیا وہ سہولتوں کی شاہراہ نہ تھی بلکہ آزمائشوں کی گھاٹی تھی، مگر یہی گھاٹی اس کی تربیت گاہ بنی۔ آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے اسی حسینی اور خمینی تسلسل کو فکری عمق، فلسفیانہ پختگی اور روحانی وقار کے ساتھ آگے بڑھایا۔ انہوں نے قوم کو یہ شعور دیا کہ اصل شکست معاشی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط ہے، اور اصل فتح وسائل کی کثرت نہیں بلکہ اصولوں کی حفاظت۔ قرآن کی یہ صدا اس فکر کا محور بنی: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ—بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ایران نے صبر کو کمزوری نہیں بلکہ حکمت بنایا، خاموشی کو خوف نہیں بلکہ تدبر، اور استقامت کو ضد نہیں بلکہ بصیرت۔
پابندیاں ایران کے لیے محض رکاوٹ نہ رہیں بلکہ خود احتسابی، خود انحصاری اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بن گئیں۔ ہر معاشی دباؤ نے اسے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا سکھایا، ہر سفارتی محاصرے نے اسے اپنی شناخت پر قائم رہنے کا ہنر دیا، اور ہر دھمکی نے اسے یہ یاد دلایا کہ قومیں طاقت سے نہیں بلکہ کردار سے زندہ رہتی ہیں۔ اسلامی حکمت کا یہی اصول امام علی علیہ السلام کے اس فرمان میں جھلکتا ہے کہ انسان کی قدر اس کے کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ ایران کی اجتماعی شخصیت اسی میزان پر پوری اتری۔
فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے ایران کی غیر متزلزل حمایت اسی فلسفیانہ اور روحانی شعور کی عملی توسیع ہے۔ یہ حمایت کسی وقتی سیاسی فائدے یا علاقائی مفاد کا حاصل نہیں بلکہ اس اصول کا تقاضا ہے جو کربلا سے شروع ہوا تھا: جہاں ظلم ہو، وہاں حق کا ساتھ فرض ہو جاتا ہے۔ غزہ کے محصور آسمانوں تلے جب معصوم جانیں ملبے تلے دبیں، جب ماں کی گود اجڑی، جب ہسپتال قبرستان بنے، تب ایران کے لیے خاموش رہنا ممکن نہ تھا، کیونکہ حسینی مکتب میں خاموشی جرم اور لاتعلقی خیانت ہے۔ قرآن اسی اخلاقی ذمہ داری کو یوں واضح کرتا ہے: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ—اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور کمزوروں کے لیے کھڑے نہیں ہوتے؟
اس راہ میں ایران نے اپنی صفوں کے قیمتی گوہر قربان کیے—وہ رہنما جو محض عہدوں کے مالک نہ تھے بلکہ فکر کے امین تھے، وہ محافظ جو صرف سرحدوں کے نگہبان نہ تھے بلکہ اصولوں کے پاسبان تھے، اور وہ شہداء جو جان دے کر تاریخ کو معنی دے گئے۔ ایران کے نزدیک شہادت اختتام نہیں بلکہ تسلسل ہے، خاموشی نہیں بلکہ اعلان، اور نقصان نہیں بلکہ اخلاقی سرمایہ۔ قرآنِ حکیم شہداء کے مقام کو یوں ابدیت بخشتا ہے: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔
اسلامی فلسفے کے عظیم مفکرین—امام غزالی، ابنِ مسکویہ، ملا صدرا—اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی تکمیل آسائش میں نہیں بلکہ آزمائش میں ہوتی ہے۔ جو دل راحت میں پلتے ہیں وہ اکثر غفلت میں سو جاتے ہیں، اور جو روحیں مصیبت میں تربیت پاتی ہیں وہ بیدار ہو جاتی ہیں۔ ایران کی مزاحمت اسی بیداری کا نام ہے؛ یہ وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک مستقل اخلاقی بیانیہ ہے—ایسا بیانیہ جو طاقت کے شور میں بھی وقار سے بولتا ہے، اور خاموشی میں بھی معنی رکھتا ہے۔
آج ایران محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک فکری استعارہ ہے—استقامت کا استعارہ، قربانی کا استعارہ، اور حسینی شعور کا استعارہ۔ ایک ایسا استعارہ جو یہ سکھاتا ہے کہ ظلم جتنا بھی گہرا ہو، کردار کی بلندی اس سے کہیں زیادہ بلند ہو سکتی ہے، اور جو قوم اس راز کو پا لے، اسے تاریخ کے حاشیوں میں نہیں بلکہ ضمیرِ انسانیت کے متن میں لکھا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فلسفہ سیاست سے بلند ہو جاتا ہے، اور کردار طاقت سے زیادہ وزنی ثابت ہوتا ہے۔
یہی ایران کی اصل قوت ہے—اس کی معیشت نہیں، اس کے ہتھیار نہیں، بلکہ وہ کردار جو ظلم کی گہرائیوں میں تراش کر بنایا گیا ہے۔ ایک کردار جو ہر دور کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جبر عارضی ہے، اصول دائمی؛ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کا امکان کبھی مرتا نہیں؛ اور ظلم کی تہوں میں ہی وہ بلندی پوشیدہ ہوتی ہے جہاں انسانیت اپنا اصل قد پہچانتی ہے۔









آپ کا تبصرہ