حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دینے کے یورپی یونین کے ایران مخالف اقدام کی مذمت میں جامعۂ مدرسین کے بیانیہ کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یورپی یونین کا سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دینے کا غیر قانونی اور ایران مخالف اقدام ایک بار پھر ملتِ ایران کے خلاف ان کی شدید دشمنی اور عناد کو ظاہر کرتا ہے۔
دہشت گردی کی پرورش کرنے والی اور فاسد حکومتیں جو برسوں سے منافقین کے دہشت گرد گروہ کو اپنی پناہ اور حمایت میں رکھے ہوئے ہیں اور حالیہ فتنوں میں ایران کے عوام کے مال اور جان پر مزدوروں کے حملوں اور انتشار کی حمایت کرتی رہی ہیں اب پوری ڈھٹائی کے ساتھ دنیا کی سب سے عوامی فوجی تنظیم کے خلاف سیاسی اور معاندانہ بیانات جاری کر رہی ہیں۔
وہ سپاہ پاسداران جس نے برسوں تک اس خونخوار ترین دہشت گرد گروہ کے خلاف جدوجہد کی جو امریکی حکومت کی پرورش یافتہ تھی اور درندہ صفت داعشیوں کو کچل کر یورپ سمیت مختلف ممالک کے آج کے امن میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اب یورپی یونین کی جانب سے کس قانونی اور عقلی جواز کے تحت دہشت گرد کہلائی جا رہی ہے؟
جن دنوں صہیونی دہشت گرد حکومت نے بدترین جرائم کے ساتھ غزہ اور فلسطین کو آگ اور گولیوں کی بارش میں جکڑ رکھا تھا، کیا مغربی ہتھیاروں اور ان کی سیاسی حمایتوں نے قتل و غارت کی آگ کو مزید بھڑکنے سے روکا؟ اور کیا وہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد حکومت کی حمایت کے محاذ پر نہیں کھڑے تھے؟
دنیا کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون سی دہشت گرد حکومت نے رات کی تاریکی میں ایک آزاد ملک کے قانونی صدر کو اغوا کیا اور اس ملک کے قومی وسائل اور دولت پر شب خون مارا۔
جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور مسلح افواج میں ملت کے تمام فرزندوں کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے سپاہ کو دہشت گرد قرار دینے کے یورپی یونین کے جاہلانہ اور معاندانہ اقدام کی مذمت کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ:
آزادی پسندوں اور دنیا بھر کے مستضعفین کی نگاہ میں طاقتور سپاہ انسان دوستی، وطن دوستی اور عدل پسندی کی علامت ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ملتِ ایران کے اسلامی اور انقلابی اہداف کے تحفظ کی صفِ اول میں ہے اور اس راہ میں ایثار اور قربانی کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی شناخت عالمی ظلم اور کفر کے خلاف دائمی جدوجہد ہے اور یہ عوامی ادارہ ہمیشہ اسی مقصد پر قائم رہے گا۔
جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم









آپ کا تبصرہ