اتوار 1 فروری 2026 - 09:59
ایران: استقامت، مزاحمت اور قیادتِ حکیم کا محور

حوزہ/ ایران پر اقتصادی پابندیاں دہائیوں سے جاری ہیں۔ مگر ان پابندیوں نے ایرانی قوم کو کمزور کرنے کے بجائے خود انحصاری، سائنسی ترقی اور داخلی صلاحیتوں کی طرف مائل کیا۔ آج ایران دفاع، طب، صنعت اور ٹیکنالوجی کے کئی شعبوں میں قابلِ ذکر مقام رکھتا ہے، جو پابندیوں کے باوجود ایک بڑی کامیابی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری

حوزہ نیوز ایجنسی I جونہی امام خمینیؒ کی عظیم اور تاریخ ساز قیادت میں، علمائے ربانیین اور مومنین کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں انقلابِ اسلامی ایران معرضِ وجود میں آیا، اسی لمحے سے استکباری طاقتیں، بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادی، اس انقلاب کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ یہ مخالفت کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک آزاد، خودمختار اور اسلامی نظام کے قیام نے ان قوتوں کے مفادات کو براہِ راست چیلنج کر دیا تھا۔

انقلاب سے قبل ایران عملی طور پر امریکہ کا تابع تھا۔ ملکی سیاست، معیشت، فوج اور وسائل پر بیرونی قوتوں کا غلبہ تھا۔ انقلابِ اسلامی نے نہ صرف اس غلامانہ نظام کا خاتمہ کیا بلکہ ایران کو اپنی تقدیر کا خود مالک بنا دیا۔ یہی وہ نقطہ تھا جس کے بعد امریکہ کی ایران دشمنی ایک مستقل پالیسی کی شکل اختیار کر گئی۔

مسلط کردہ جنگ اور ایمان کی فتح

انقلاب کے فوراً بعد ایران کو داخلی سازشوں، بغاوتوں اور بدامنی کا سامنا کرنا پڑا۔ ابھی نظام مستحکم بھی نہ ہو پایا تھا کہ صدام حسین کو اکسا کر ایران پر آٹھ سالہ تباہ کن جنگ مسلط کر دی گئی۔ یہ جنگ درحقیقت عراق اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ایک عالمی اتحاد اور نوخیز اسلامی انقلاب کے درمیان تھی۔

امریکہ، یورپی ممالک اور دنیا کے تقریباً پینتالیس ممالک نے صدام کو جدید اسلحہ، انٹیلیجنس، مالی اور لاجسٹک سہولیات فراہم کیں، جبکہ ایران کے پاس نہ خاطر خواہ اسلحہ تھا اور نہ جنگی تجربہ۔ مگر جس قوت نے اس کمی کو پورا کیا وہ تھا ایمان، قربانی اور جذبۂ شہادت۔

آٹھ سالہ جنگ میں لاکھوں ایرانی شہید اور زخمی ہوئے، شہر تباہ ہوئے، مگر دشمن ایران کی سرزمین کے ایک انچ پر بھی مستقل قبضہ نہ کر سکا۔ یہ استقامت اس بات کا ثبوت تھی کہ جب قوم کا رشتہ اپنے عقیدے سے جڑ جائے تو مادی طاقتیں اسے شکست نہیں دے سکتیں۔

انسانی حقوق کے دعوے اور کیمیائی جرائم

یہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے کہ وہی طاقتیں جو انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، صدام حسین کو کیمیائی ہتھیار فراہم کرتی رہیں۔ ان ہتھیاروں کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی شہری شہید اور لاکھوں عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ آج بھی ایران کے کئی شہر ان مظالم کے خاموش گواہ ہیں، مگر عالمی ضمیر نے اس جرم پر کبھی سنجیدہ احتساب نہیں کیا۔

مظلوموں کی حمایت: انقلاب کا بنیادی اصول

انقلابِ اسلامی ایران نے ابتدا ہی سے دنیا کے مظلوموں کی حمایت کو اپنا اصولی فریضہ قرار دیا۔ فلسطین، بوسنیا، ویتنام اور دیگر مظلوم اقوام کے حق میں ایران کا مؤقف واضح اور غیر مبہم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی آئین میں مستضعفینِ جہان کی حمایت کو ایک بنیادی شق کی حیثیت حاصل ہے۔

خصوصاً فلسطین کے معاملے میں ایران نے وہ کردار ادا کیا جو بہت سے مسلم ممالک مصلحت یا خوف کے باعث ادا نہ کر سکے۔ یہی اصولی مؤقف ایران کو استکباری طاقتوں کی نظر میں ناقابلِ قبول بناتا ہے۔

پابندیاں اور خود انحصاری

ایران پر اقتصادی پابندیاں دہائیوں سے جاری ہیں۔ مگر ان پابندیوں نے ایرانی قوم کو کمزور کرنے کے بجائے خود انحصاری، سائنسی ترقی اور داخلی صلاحیتوں کی طرف مائل کیا۔ آج ایران دفاع، طب، صنعت اور ٹیکنالوجی کے کئی شعبوں میں قابلِ ذکر مقام رکھتا ہے، جو پابندیوں کے باوجود ایک بڑی کامیابی ہے۔

قیادت کا امتحان اور آیت اللہ خامنہ ای

امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ انقلاب قیادت کے بحران کا شکار ہو جائے گا، مگر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی صورت میں ایران کو ایسی قیادت ملی جو فکری گہرائی، سیاسی بصیرت، انقلابی استقامت اور غیر معمولی مدیریتی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

انہوں نے نہایت حساس دور میں قیادت سنبھالی۔ بیرونی دباؤ، اندرونی چیلنجز اور عالمی سازشوں کے باوجود انہوں نے تدبر، صبر اور حکمت کے ساتھ نظامِ اسلامی کو مستحکم کیا اور انقلاب کے تسلسل کو یقینی بنایا۔

حکمتِ عملی: فعال مزاحمت

آیت اللہ خامنہ ای کی حکمتِ عملی کی بنیاد جذباتیت نہیں بلکہ طویل المدتی بصیرت ہے۔ ان کا واضح مؤقف ہے:

نہ جارحیت، نہ تسلیم—بلکہ فعال مزاحمت

انہوں نے بارہا واضح کیا کہ امریکہ اور صہیونی نظام کے ساتھ مسئلہ کسی ایک پالیسی کا نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی تصادم ہے۔ اسی لیے قومی خودمختاری اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

مدیریت اور ادارہ سازی

رہبرِ انقلاب کی مدیریت کا ایک اہم پہلو ادارہ سازی ہے۔ دفاعی خودکفالت، اقتصادِ مقاومتی، سائنسی ترقی، نوجوانوں پر اعتماد اور ثقافتی استحکام—یہ سب ان کی قیادت کے نمایاں نتائج ہیں۔ انہوں نے شخصیات کے بجائے مضبوط ادارے تشکیل دیے تاکہ نظام ہر طوفان میں قائم رہ سکے۔

مزاحمتی محاذ اور علاقائی توازن

خطے میں مزاحمتی محاذ کی تقویت بھی آیت اللہ خامنہ ای کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ فلسطین، لبنان، شام، عراق اور یمن میں مظلوم اقوام کی اخلاقی و سیاسی حمایت دراصل خطے میں استکباری منصوبوں کے مقابل ایک دفاعی دیوار ہے، نہ کہ جارحانہ توسیع پسندی۔

جذبۂ شہادت: ایرانی طاقت کی روح

ایران کی اصل طاقت اس کا اسلحہ نہیں بلکہ جذبۂ شہادت ہے۔ یہ جذبہ کربلا سے جڑا ہوا ہے، امام حسینؑ کی قربانی سے فیض یافتہ ہے۔ ایرانی ثقافت میں شہادت موت نہیں بلکہ حیاتِ جاوداں ہے۔ یہی سوچ قوم کو خوف سے آزاد کرتی ہے اور دشمن کی دھمکیوں کو بے اثر بنا دیتی ہے۔

نتیجہ

ایران آج محض ایک ملک نہیں بلکہ استقامت، مزاحمت اور بااصول قیادت کی علامت ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی حکمت، مدیریت اور بصیرت نے اس انقلاب کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے ایک فیصلہ کن علاقائی قوت میں بدل دیا۔ یہ کالم درحقیقت ایک پیغام ہے کہ اگر قومیں ایمان، وحدت اور اصولوں پر قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں جھکا نہیں سکتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha